Home / شمارہ جون 2018 / موسم بہار اور نیکیوں کا موسم بہار

موسم بہار اور نیکیوں کا موسم بہار

تحریر:جویریہ سعید

کچھ برسوں سے کینیڈا میں موسم بہار اورنیکیوں کا موسم بہار ایک ساتھ ہی وارد ہورہے ہیں۔ ہمارے احساسات دونوں کے لیے ایک سے ہی ہوتے ہیں۔گزشتہ کئی برسوں میں اس سال ہم نے طویل ترین سرما بھگتا ہے۔ ماہ اپریل اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا تھا۔مگر اب بھی برف کے ڈھیر جا بجا بکھرے ہیں۔ اب گزشتہ ہفتے تک برفباری بھی ہوتی رہی۔عوام سردی اور برف سے بیزار آچکے۔ اتوار کو نسبتا گرم چمکتے دن نے اپنی جھلک دکھائی تو لوگ خوشی سے گھروں سے باہر پارکوں میں نکل آئے۔

پگھلتی برف کے ڈھیر کے نیچے سے سوکھی  ہوئی ، سیاہی مائل گھاس جھانکتی ہے۔اسٹوروں پر کھاد، پنیر یوں، پودوں اور پھولوں کے مخصوص پورشن بڑھتے جاتے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کو پھول اور پودے تحفہ میں دے رہے ہیں۔ہم نے پودینے کی جو شاخیں پانی میں ڈال کر رکھی تھیں ، ان سے نرم و نازک جڑیں پھوٹ آئی ہیں۔ دھنیا کے دباۓبیجوں سےبھی کونپلیں پھوٹ رہی ہیں۔کتناخوش کن ہےیہ خیال کہ ان کوباہرمٹی میں منتقل کرنےکاوقت آگیاہے۔ اداس ہوکر اپنے جن دو بے چارے پودوں کو پانی دینا چھوڑ دیا تھا، انہوں نے بھی بڑی معصومیت سے نئے پتے کھلا کر دل بہلانے کا سامان کیا ہے۔

باہر نکلو تو موزے نہ پہنے بغیر گزارا ہوجاتا ہے، اس لیے جوتے اور سینڈلیں نکال لیے ہیں۔ سورج کی مہربان کرنیں پژمردہ وجود کو اپنی روشنی اور گرمی سے زندہ کرتی ہیں۔ باہر نکلنا ، باہر بیٹھنااچھا لگتا ہے۔کچھ ایسا ہی حال اپنے روحانی وجود کابھی ہے۔

ایمان بے حسی کی برف کے نیچے ٹھٹھرا پڑا ہے۔ بے عملی و کاہلی اور گناہوں کا احساس رحمت کی طرف سے ناامید ساکردیتا ہے۔

ایسے میں نیکیوں کا موسم بہار مردہ ہوتی مایوس ارواح کے لیے امید اور قوت اور روحانی مسرت کا پیغام لیے آتا ہے۔

آئیے ہم سب تیاری کرتے ہیں۔ اپنی ذات اور اپنے ماحول میں نیکیوں، ایمان ، عبادات اور خدمت کے پھول پودے لگاتے ہیں۔ نیکیوں کی پنیر یاں اور بیج ایک دوسرے کو تحفتا دیتے ہیں۔ روزے روح کا میل کچیل صاف کرتے ہیں۔ قرآن کریم کی تلاوت اور مطالعہ قلب کو منور کرتا ہے، نماز اور اذکار ٹھٹھرے ہوۓتعلق کوزندہ کرتےہیں۔

خدمت خلق اور زبان اور ہاتھ سے دوسروں کو ایذارسانی سے گریز معاشروں میں تازہ ہواؤں کا کام کرتے ہیں، زکوۃ اور خیرات سماجی زخموں پر مرہم رکھتے ہیں۔ملنا جلنا، مساجد میں آنا جانا محبتوں کو فروغ دیتا ہے۔رمضان المبارک کو اس کی حقیقی روح کے ساتھ گزاریں تو ہماری شخصیت ایک پھل دار درخت بن جاۓ۔

اس سے پہلے کہ اس زرخیز موسم کو الوداع کہتے ہمیں اپنے بنجر رہ جانے کا غم کھا جاۓ،ایک اچھاساقابل عمل پلان بنائیں۔جس پر چیک رکھا جاۓ۔ہوسکےتوفریج پریااپنےکمرےکی الماری پرلگالیں۔کہ آتےجاتےنظرپڑتی رہے۔اپنے لیے دعائیں کرتے ہوۓ،ساتھیوںکویادرکھیں۔کیاخبرکون اس مخلص تحفےکاطلبگارہو۔

About جویریہ سعید

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *