Home / صحت سیریز / (موٹاپا(تیسری قسط

(موٹاپا(تیسری قسط

تحریر: ڈاکٹر فہد چوہدری

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کہ آپ جو کھا رہے ہیں تو کیا اس کی آپ کے بدن کو ضرورت تھی یا نہیں؟ کوئی ایسی چیز رہ تو نہیں گئی جو آپ کے جسم کے لیے نہایت لازمی تھی مگر آپ کی خوراک میں شامل نہیں ہے۔  اس کے ساتھ آپ اپنی پلیٹ دیکھ کر پریشان بھی ہو جاتے ہیں کہ مجھے کیا کھانا چاہیے اور کیا نہیں کھانا چاہیے۔ میں نہایت ہی اختصار کے ساتھ میں اس بات کو سمجھانے کی کوشش کروں گا کہ  آپ کی پلیٹ میں کتنا حصہ نشاستہ، کتنا لحمیات اور کتنا چکنائی والی چیزوں پر مشتمل ہونا چاہیے۔

میں یہاں   جس کلیہ کے تحت بات  کر رہاہوں وہ ایک عام اوسط انسان کے لیے ہے جو     ورزش  نہیں کرتا    اور زیادہ تر دفتر میں بیٹھ کر وقت گزارتا ہےیا وہ  خواتین  جو گھر کے کام کاج میں مصروف رہتی ہیں اور الگ سے کوئی ورزش نہیں کرتیں۔ یہاں ایسے لوگ جو یہ شکایت کرتے ہیں کہ میں دبلا پتلا ہوں اور کھاتا بےتحاشا ہوں مگر کچھ اثر نہیں ہوتا ان کی بات نہیں کی جارہی ہے۔ ان کے لیے الگ سے کبھی وقت نکال کر بات کی جائے گی کیوں کہ ان کے لیے یہ کلیہ بےکار ہے۔

آگے بڑھنے سے قبل  کچھ چیزوں کو ذہن میں رکھیے گا جس سے آپ اپنی خوارک کاچارٹ بنانے میں کامیاب رہیں گے۔ ایک اوسط انسان کو دن میں دو ہزار کلو کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں کمی بیشی آپ کی روٹین، آپ کی جسمانی صحت پر منحصر ہے۔ لیکن اس مضمون میں ہم اوسط کے طور پر دو ہزار کلو کیلوریز کا ہی ذکر  کریں گے۔  اب اگر آپ دن بھر میں تین دفعہ کھانا کھانے کے عادی ہیں تو  دو ہزار کو تین سے تقسیم کر دیجیے۔ حاصل جواب آپ کے ایک وقت  کے کھانے سے ہونے والی کیلوریز ہیں۔ یہ کیلوریز آپ کو ایک وقت کے کھانے سے ضرور حاصل کرنی ہیں۔ اس مثال میں  ایک وقت میں ۶۶۶ کیلوریز ایک وقت کے کھانے سے حاصل ہونی چاہیے۔ اگر آپ دو وقت کھانا کھاتے ہیں تو ہر کھانا سے ایک ہزار کیلوریز حاصل ہونی چاہیے۔ اگر آپ دن بھر میں پانچ دفعہ کھاتے ہیں تو  ہر کھانے سے چار سو  کیلوریز ملنی چاہیے۔

About ڈاکٹر محمد عقیل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *