Home / صحت سیریز / (موٹاپا(دوسری قسط

(موٹاپا(دوسری قسط

تحریر: ڈاکٹر فہد چوہدری

پہلی قسط میں ہم نے جانا تھا کہ ہم اس چیز کا ادراک کیسے کریں کہ ہمارا وزن زیادہ ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے  کہ موٹاپا آیا کیسے؟

اس کا آسان ترین جواب یہ ہے کہ آپ کے جسم کو جتنی طاقت (کیلوریز) کی ضرورت تھی آپ نے اس سے زیادہ تعداد میں جسم کو طاقت (کیلوریز) دیں۔  آپ کے جسم نے جتنی اس کی ضرورت تھی وہ استعمال کر لی اور باقی  کیلوریز کو جسم میں جمع کر لیا جو آپ کے وزن میں اضافے کا سبب بنا۔ یہ سادہ سا ڈیمانڈ اور سپلائی کا قانون ہے۔ اس میں کچھ دیگر عوامل بھی شامل ہیں  جن میں کچھ اثر ماحول، وراثت، ورزش نہ کرنے کی عادت،  فاسٹ فوڈ کھانے کی عادات وغیرہ ہیں۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ وزن تو بڑھ گیا مگر اس کا نقصان کیا ہے؟

ایک تو انسان دیکھنے میں بھدا لگتا ہے، دوسرا موٹاپے کے باعث مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہونے کے چانس بڑھ جاتے ہیں۔ ان بیماریوں میں شوگر،بلڈ پریشر کا عارضہ،جوڑوں کے درد،فالج،سانس کی بیماریاں،دل کی بیماریاں شامل ہیں۔

اب وزن بڑھ تو گیا مگر اس کو کم کیا کیسے جائے؟

ایک جملے میں تو جواب یہ ہو گا جتنی آپ کے جسم کو ضرورت ہے اس سے کم کھانا شروع کر دیں ، آپ کا وزن کم ہونا شروع ہو جائے گا۔ لیکن اس میں کچھ قباحتیں ہیں ۔ مثال کے طور پر آپ کو یہ ہی نہیں معلوم کہ آپ کے جسم کی بنیادی ضرورت کتنی ہے؟ آپ کو ایک پورے دن میں کتنی کیلوریز کی ضرورت ہے؟ وغیرہ وغیرہ؟ دیکھیے یہ معاملات تو ایک پروفیشنل ہی بہتر طریقے سے حل کر سکتا ہے جس سے آپ اپنے جسم کا کوئی نقصان نہ کر بیٹھیں، اس لیے اس سلسلہ میں ایک دفعہ  کسی پروفیشنل  سے مل بیٹھنا بہتر ہے۔ لیکن اس ضمن میں کچھ ٹپس یا تجاویز ایسی ضرور ہیں کہ جن کا خیال رکھ کر آپ اپنا وزن گھٹا سکتے ہیں۔

۱۔ ہمیشہ آہستہ آہستہ  وزن گھٹائیں۔ ایک ہفتہ میں آدھ کلو سے ایک کلو تک وزن گھٹائیے تاکہ آپ کے جسم پر منفی اثرات مرتب نہ

ہوں۔

۲۔ بازار کی کسی بھی چیز سے پرہیز کریں۔ ایک اصول اپنا لیں کہ جو کھانے کی چیز بھی پیکنگ میں آتی ہے وہ آپ کی صحت کے لیے اچھی نہیں ہو سکتی ہے۔

۳۔ دن میں پانچ یا چھ بار کھانے کی عادت ڈالیں۔

۴۔ یکدم تبدیلی کی بجائے  کسی ایک وقت کے کھانے کو  تبدیل کریں۔ غیر معیاری خوارک کی بجائے معیاری، صاف ستھری اشیا کا چناو کریں۔

۵۔ زیادہ دیر بیٹھنے سے اجتناب کریں۔ کسی کو آواز دینے کی بجائے خود پانی اٹھ کر پی لیں۔ دوازہ خود کھولیں، قریب میں جانا ہو تو پیدل یا بائی سائیکل کو ترجیح دیں۔

۶۔ ہفتہ میں ایک وقت اپنی پسند کا کھانا ضرور کھائیں۔

About ڈاکٹر فہد چوہدری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *