Home / شمارہ اپریل 2017 / میرے آنسو سنبھال کر رکھنا

میرے آنسو سنبھال کر رکھنا

“ماما ایک بات تو بتائیں۔” بارہ سالہ رافعہ نے اسکارف پن لگاتے ہوئےپوچھا۔”جیسے عورتوں اور لڑکیوں کو پردے کا حکم ہے تو کیا مردوں کےلیےپردے کا کوئی حکم نہیں۔” “کیوں نہیں ہے جس طرح عورتوں کو حجاب کا حکم ہے اسی طرح مردوں کو بھی نظریں نیچے رکھنے کا حکم ہے۔” سامعہ نے لنچ پیک کرتے ہوئے کہا۔”بس۔” رافعہ حیران تھی۔ “ہاں تو تم خود سوچو مرد اسکارف لگا کر کیسے لگیں گے؟ عحیب سے نا!” سامعہ کی عادت تھی ہلکا پھلکا مذاق کرنے کی۔ “ہاں یہ تو ہے!” رافعہ بھی ہنسنے لگی۔ “دراصل اسلام میں مردوں کو کچھ باتوں پہ فضیلت ہے۔ فضیلت مطلب سپریئریٹی ۔” یہ بھی اس کی عادت میں شامل تھا کہ اپنے بچوں کو اردو کے الفاظوں کو انگریزی میں ترجمہ کرکے بتانا تاکہ اس کے بچوں کو اردو زبان سے آگاہی رہے۔ “کیونکہ مرد طاقتور ہوتا ہے نا! اس لئے ۔اور عورتیں بہت نازک سی ہوتی ہیں اور خوبصورت بھی ہوتی ہیں لوگوں کی غلط نظریں ان پہ نہ پڑے اس وجہ سے اللہ نے انکی حفاظت کے لیے پردے کو لازمی قرار دیا ہے۔ تم قرآن کو ترجمے کے ساتھ پڑھوگی تو تمہیں پتہ چلے گا کہ قرآن میں احکامات مردوں کے لیےبھی ہیں  اور عورتوں کے بارے میں  بھی ۔ لیکن یہ وہ احکامات ہیں جو عورتوں کی حیثیت کو مضبوط بناتے ہیں۔ دراصل زیادہ تنبیہہ مردوں کو ہی کی گئی ہے ۔چلو اب جلدی سے لنچ بیگ میں رکھو پاپا باہر انتظار کررہے ہونگے۔”رافعہ کے اسکول جانے کے بعد سارے کام نمٹا کر فارغ ہوئی۔ بیٹوں کے کمرےمیں جھانکا اسکے جڑواں بیٹے جو کہ اسی ماہ دو سال کے ہوئے تھے’ مزے سے سورہے تھے۔اسی وقت پھر رافعہ کی بات یاد آئی، بچے بھی کیسے کیسے سوال کرتے ہیں۔ ہلکی سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پہ رینگ گئی۔ ساتھ ہی نمرہ کا چہرہ بھی نظروں کے سامنے آگیاتو آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی۔ اس نے بھی تو یہی سوال کیا تھا۔  “کیا اسلام کے سارے احکامات عورتوں کے لیے ہیں مردوں کے لیے کوئی حکم نہیں؟”

                                   نمرہ اس کی چھوٹی بہن تھی، وہ پانچ بہن بھائی تھے، بڑے  بھائی ماجد’ پھر صاعقہ آپی، تیسرا نمبر اسکا تھا پھر ایک اور بھائی ناصر اور سب سے چھوٹی نمرہ۔ گھر میں ابا جی کا بہت رعب اور دبدبہ تھا۔ سب بہن بھائی دبی ہوئی شخصیت کے مالک تھے اس میں تھوڑا شوخ پنا تھا لیکن ابا جی کے سامنے وہ بھی ڈر جاتی۔ بھائیوں کا پڑھائی کے علاوہ کوئی مشغلہ نہیں تھا۔ امی تو اسے ابا جی کی بیوی کم خادمہ زیادہ لگتی تھیں ۔ جیسے ہی ابا جی گھر میں آتے یہ لوگ دبک کر کمرے میں بیٹھ جاتے اور امی جی ہاتھ باندھ کر ابا جی کے آگے کھڑی ہوجاتیں۔ ابا جی کو کوئی بات بچوں سے کرنی ہوتی تو امی ان کا حکم نامہ پہنچاتیں۔ پھر سارے بہن بھائی مؤدب کھڑے ہوکے ان کاحکم سنتے اور جی ابا جی کہتےرہتے۔ صاعقہ آپی نے انٹر کیا تو ان کی شادی کردی گئی جبکہ وہ آگے پڑھنا چاہتی تھیں۔ ابا جی شاید اتنے خطرناک نہ ہوتے اگر امی ان کے سامنے جائز باتوں پہ اپنا منہ کھول لیتیں یہ اس کا اپنا خیال تھا۔ اس کی قسمت نے ساتھ دیاکہ اس کی منگنی جہاں ہوئی ان لوگوں نے کہا کہ اس کو پڑھائی مکمل کرنے دیں اسی وجہ سےاس نے بی ایس سی کرلیا۔ نمرہ اور اس کی عمروں میں چار سال کا فرق تھانمرہ بہت خاموش رہنے والی لڑکی تھی ، اس لیے ان دونوں میں عام بہنوں کی طرح لڑائی جھگڑا بھی نہیں ہوتا تھا۔بڑے بھائی کاولیمہ ہوا اور اسکی شادی۔ ڈر تو تھا کہ پتہ نہیں آنے والی زندگی کیسی ہوگی ہم سفر کیسا ہوگا لیکن عمران جیسا چاہنے والا شوہر پا کے سامعہ اپنی زندگی سے مطمئن تھی۔ اس کی شادی کے چھ مہینے بعد نمرہ کی بھی جھٹ منگنی پٹ بیاہ ہوگیا۔ نوفل جو کہ نمرہ کا میاں تھا شکل وصورت میں یکتا تھا جبکہ نمرہ زیادہ خوبصورت نہ تھی، اسی وجہ سے شادی میں شریک مہمانوں کو بڑی حیرانی ہوئی کہ اتنا خوبصورت داماد کہاں سے مل گیا؟۔لیکن شادی کے کچھ عرصے بعد ہی پتہ چلا کےچہرہ جتنا اچھا ہے مزاج اتنا ہی برا۔ سامعہ نے  محسوس کیا کہ وہ نمرہ کو تضحیک کا نشانہ بھی بناتا ہے۔ چھوٹے بھائی کی شادی پہ جب تینوں بہنوں کو ایک ساتھ میکے میں رہنے کا موقعہ ملا تو پتہ چلا نمرہ پریگننٹ ہے اس کو بہت خوشی ہوئی ۔ آپی نے کہا اب تم بھی خوشی کی خبر دیدو۔ سامعہ مسکرا کر رہ گئی۔ نمرہ اسے اداس سی ہی لگی شاید پریگننسی کی وجہ سے۔ ولیمے کے بعد جب وہ واپسی کے لیے سامان پیک کررہی تھی تو نمرہ نے کہا اس کا واپس جانے کا دل نہیں چاہ رہا۔ “ارے بھئی کیوں نو فل آئندہ نہیں بھیجے گا تمہیں کہ تم میکے جا کے واپس نہیں آنا چاہتی۔” “ان کو میری کیا فکر ” اس کے لہجے میں کچھ تو عجیب تھا وہ ٹھٹک گئی ۔” کیا ہوا ہے بتاؤ مجھے۔” سامعہ نے پوچھا۔” کچھ نہیں بار میں نے تو مذاق کیا تھا۔” وہ ہنسنے لگی ۔ کچھ تو گڑ بڑ ہے سامعہ گھر تو آگئی لیکن اس کا دل ودماغ نمرہ کی طرف ہی لگا رہا۔

                              ان ہی دنوں میں وہ بھی امید سے ہوگئی ۔ امی کے گھر جانا ہوا تو نمرہ کو دیکھ کر پریشان ہی ہوگئی۔ “اچھا ہوا تم بھی آگئی، صاعقہ بھی آتی ہوگی۔ نوفل بس ابھی چھوڑ کے گۓ ہیں نمرہ کو ” امی بہت خوش ہوئیں اس کو دیکھ کر۔ ” یہ تم اتنی عحیب کیوں لگ رہی ہو؟” اس کو نمرہ کو دیکھ کے حیرانی ہوئی۔ وزن بڑھا ہوا ،سانس بھی پھولی ہوئی، کافی بیمار لگی۔ “ہاں بس بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے اس لیے۔” اس حالت میں بی پی بڑھنا سہی نہیں ہے نمرہ” امی جب کمرے سے باہر گئی تو اس نے نمرہ سے کہا ۔ اور تمہاری شکل تو یہ بتارہی کہ تم روئی ہو بتاؤ مجھے کیا ہوا ہے؟” “کیا بتاؤں ؟” نمرہ کی نگاہوں میں کیا تھا وہ سمجھ ہی نہیں پارہی تھی ایسا لگ رہا تھا کہ اس کی آنکھوں کی روشنی کم ہوتی   جارہی ہے۔ ” تم کو کیا بتاؤں سامعہ میں بہت پریشان ہوں میں نوفل کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ وہ میرا ہر وقت مذاق اڑاتے ہیں۔ کھانا نہیں پکانا آتا’ شکل اچھی نہیں ہے کم از کم کوئی کام سیکھ لیتی۔ ڈھنگ تو تم میں ہے ہی نہیں ،اور یہ کہ میں اٹھتے بیٹھتے دعا مانگتا ہوں بچہ تم پہ نہ جاۓ ورنہ کیسا لگے گا۔ اس بات پہ میں نے کہہ دیا اخلاق بھی کوئی چیز ہوتی ہے،تو مجھ پہ ہاتھ اٹھایا اور کہا کہ آج سے تم مجھے اپنی شکل نہ دکھانا ۔ میں پچھلے کئی دنوں سے اپنی نند رقیہ کے ساتھ رہ رہی ہوں۔”  ” تم نے یہ ساری باتیں آپی اور امی کو کیوں نہیں بتائیں ۔ وہ ابا جی سے کہتیں کہ بات کریں نوفل سے ” سامعہ کا دکھ سے برا حال تھا۔ “کہا تھا امی کی ہمت ہی نہیں کہ ابا جی کو بولیں۔” “میں بات کرتی ہوں ” سامعہ نے کہا”کوئی ضرورت نہیں ہے ” آپی کی آواز آئی ۔وہ پتہ نہیں کب سے ان کی باتیں سن رہی تھیں۔” تمہیں پتہ ہے نوفل کتنا بدتمیز ہے وہ اگر تمہیں غصے میں طلاق دیدے تو۔ اب ایک ہفتہ رہ گیا ہے تمہاری ڈلیوری میں ہوسکتا ہے بچہ ہونے کے بعد نوفل بدل جاۓ۔ ” آپی نے سمجھانے والے انداز میں کہا ۔ ویسے بھی تم لوگوں نے وہ حدیث نہیں سنی کہ اگر کوئی عورت اپنے میاں کی نافرمانی کریگی اور اسی حالت میں مرجائیگی تو اس کو جنت نصیب نہیں ہوگی ۔” آپی نے ڈراوا دیا ۔ آج کل ان کے میاں کسی پیر کے مرید بنے ہوئے تھے اور عورتوں کے بارے میں جو بھی حدیثیں تھیں وہ شاید آپی کو یاد بھی کروارہے تھے۔ “اور اگر کسی کا میاں اس کی حق تلفی کرے اور پھر اگر عورت اس کی باتوں کی وجہ سے مرجاۓ” نمرہ کی بات سن کر وہ لرز گئی ۔”ایسے مت کہو۔ اللہ نہ کرے تمہیں کچھ ہو۔” آپی اور اس کے منہ سے نجا نے کیوں ایک ساتھ نکلا ۔ “میں اس لیے کہہ رہی ہوں کہ راحیلہ بھابھی کئی سالوں بعد امید سے ہیں۔” آپی نے بڑی بھابھی کا حوالہ دیا۔ “اب امی ان کی خدمت کریگی یا اس کو دیکھیں گی ۔ ویسے بھی ہم لوگ گھنٹے بھر کو آتے ہیں تو دونوں بھابھیوں کا منہ بن جاتا ہے اب مستقل آگۓ تو سوچو پھر کیا ہوگا۔'” “کیا شادیوں کے بعد ہمارے سارے حق ختم ہوجاتے ہیں کیا ماں باپ کا گھر ہمارا نہیں رہتا اور آپ لوگ بتائیں کیا سارے احکامات عورتوں کے لیے ہی ہیں کیا مردوں کے لیے کوئی حکم نہیں؟” نمرہ کی سانس پھولتی چلی گئی۔ ” ہے نمرہ کیوں نہیں ہےقرآن میں ہے”کہ عورتوں کو بھی مردوں کے مساوی حق حاصل ہیں،لیکن کچھ باتوں میں مردوں کو  فضیلت ہے “( سورۂبقرہ ۔آیت228) “اس کے علاوہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ و علیہ وسلم نے حجۃالوداع میں بھی مردوں کو تاکید فرمائی ہے کہ عورتوں کی بابت بھلائی کرو۔ ان کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔” سامعہ کو جو تھوڑی بہت معلومات تھیں اس حوالے سے اس نے بتایا۔ نمرہ اس کے گلے لگ کر خوب روئی ۔”کاش ہم نے قرآن ترجمے کے ساتھ پڑھا ہوتا۔ کاش ہم اپنے حق کے بارے میں معلومات رکھتیں۔””میں تمہارے ساتھ ہوں نمرہ۔ تم بالکل مت گبھرانا”۔ اس نے نمرہ کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔ “چلو امی کھانے کے لیے بلارہی ہیں۔” آپی نے بھی آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔

                           گھر آنے کے بعد وہ بہت ڈسٹرب رہی۔ کیوں نہ امی کو کہے نمرہ کی ڈیلیوری میں کم وقت رہ گیا ہے اپنے پاس ہی بلالیں اس کو۔اس کے فون کرنے سے پہلے ہی آپی کا فون آگیا۔ روتے ہوئے بس یہی سنا اس نے نمرہ چلی گئی۔” کیا؟”بس پھر اس کو پتہ ہی نہیں چلا وہ دکھ کی گھڑی کیسے بیتی ۔ دفنا کر  واپس آۓ تو نوفل پہ وہ چیخ ہی پڑی۔” یہ قاتل ہے اس نے میری بہن کو مارڈالا۔” بڑی مشکلوں سے امی اور آپی نے سنبھالا۔ سوئم کے بعد امی نے بتایا کہ “نمرہ کے جو پڑوسی ہیں نا ڈاکٹر صاحب ان کی بیوی نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب کو رات میں نوفل کی امی نے فون کیا تھا کہ نمرہ کو آکے دیکھ لیں اس کی طبیعیت بگڑ رہی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے چیک کرکے کہا کہ  بی پی بہت ہائی ہے بہتر ہوگا ہسپتال لے جائیں۔ لیکن نوفل کی امی نے کہا ان کی تو عادت ہے نخرے کرنے کی اور نوفل تو ابھی ہے بھی نہیں گھر پہ ۔ صبح خبر ملی کہ نوفل جب ہسپتال لے کر جارہا تھا تو نمرہ راستے میں ہی” امی سے آگے بولا نہیں گیا۔ “اور بچہ۔” “وہ زندہ تھا لیکن مرنے کے بعد ممکن نہیں تھا۔” صاعقہ آپی نے بتایا ۔ “اور کیا پتہ وہ گھر میں ہی جان سے گذرگئی ہو۔” ” اس کے قتل میں آپ لوگ بھی شامل ہیں ۔ آپ لوگوں نے مارڈالا۔ وہ تو شہادت کے رتبہ پاگئی لیکن آپ لوگ قاتل ہیں۔ “

وہ ہیجانی انداز میں چیخی امی اور آپی نے بھی اس کو بھڑاس نکالنے دیا۔ سب اس کا بہت خیال رکھنے لگے تھے نمرہ کی موت کی وجہ سے ۔ ایک دن اس نے کہہ ہی دیا میں بہت مضبوط ہوں اور پھر میرا شوہر میرا خیال رکھتا ہے اگر اتنا خیال نمرہ کا رکھ لیتے تو آج یہ غم نہ ہوتا۔” “موت برحق ہے۔”ابا جی نے اس کی بات سنی تو کہا۔” ہمیں تم سے زیادہ غم ہے ہم ماں باپ ہیں۔لیکن واقعی ہم سے غلطی ہوئی۔” وقت بہت بڑا مرہم ہوتا ہے ۔ سب کو صبر آگیا اس کو اللہ نے ایک بیٹی سے نوازا۔ ڈر تو وہ گئی تھی لیکن اپنے میاں عمران کو خوش دیکھ کر وہ بھی مطمئن ہوگئی۔ “ہم اپنی بیٹی کو ہر طرح سے بہادر بنائیں گے۔ اس کو ہم نمرہ نہیں بننے دیں گے۔”اس نے اپنے میاں سے کہا۔ “انشا‎‍‌ءاللہ۔” عمران نے بھی مسکراکر کہا۔ حالانکہ نوفل نے اپنی دوسری شادی سے پہلے آکے اباجی اور امی سے معافی مانگ لی تھی اور اباجی نے بھی معاف کردیا تھا یہ کہہ کر کے ” اب جو آپ کی زندگی میں آرہی ہے اس کا بہت خیال رکھیے گا ہماری بیٹی کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیجے گا کیونکہ ہم سہہ رہے ہیں اولاد کا غم ہمیں اندازہ ہے کہ یہ دکھ کیا ہوتا ہے۔” اور پھوٹ پھوٹ کر رودیے۔لیکن سامعہ کو اس یوم آخرت پہ ایمان ہے جس دن سب کے نامۂ اعمال اللہ کے سامنے ہوں گے اس دن کوئی ناانصافی نہیں ہوگی انشاءاللہ۔ بلاشبہ مردوں کو برتری حاصل ہے لیکن اسلام نے تو عورتوں کو اعلیٰ  مقام عطا کیا ہے۔ جاگیر میں وراثت سے لیکر گھر کی ملکہ تک بنادیا۔ میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا۔ پیارے نبی صلی اللہ وعلیہ وسلم نے آبگینوں سے تشبیہ دی۔ پھر ان پر ظلم کرنے والے کیسے اس کے عذاب سے بچ سکیں گے۔

حدیث مبارکہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے “عورتوں کے بارے میں میری نصیحت سن لو کہ عورتیں پسلی سے پیدا کی گئی ہیں اور پسلی میں سب سے ٹیڑھی اوپر کی پسلی ہوتی ہے۔ اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ دو گے اور اگر اسے اس کے حال پر چھوڑ دو گے تو ہمیشہ ٹیڑھی ہی رہے گی۔ (البخاری)

About عائشہ خرم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *