نظم

جب رب کی باتیں ہوتی ہیں

جب اس کی راتیں ہوتی ہیں

تو سورج سایہ لگتا ہے

پھر سوکھا ساون بھادوں ہے

پھر دشت و جبل سب ساتھی ہیں

پھر تیرگیاں نورانی ہیں

پھر صحراؤں میں پانی ہیں

رب سے تھوڑا دور ہوں جب

بے شک لوگ پاس ہوں سب

پھر سایہ تپتی دھوپ لگے

پھر بہتے دریا سوکھے ہیں

پھر پیٹ بھرے بھی بھوکے ہیں

پھر سبزہ جلتی ریت لگے

پھر محفل اجڑا کھیت لگے

پھر من کی دنیا سونی ہو

پھر تارے سارے ماند پڑیں 

پھر اڑتے پنچھی سیانگ لگیں

ہر آگ کو پانی کافی ہے

اس عشق میں پانی آگ بنے

یہ سمجھا بھی یہ جانا بھی 

اس آگ میں جلنا دکھ ہی نہیں

یہ آگ نہیں گلزار ہے ہاں

ان شعلوں میں آزار کہاں

جب رب کی یادیں آتی ہیں

جب اس کی باتیں ہوتی ہیں

جب اس کی راتیں ہوتی ہیں

پھر ساون بھادوں ہوتا ہے

پھر جنگل میلہ ہوتا ہے

پھر چھاپ تلک بھی ہوتا ہے

پھر موسے نینا ملتے ہیں

پھر مہدی کجل ہوتا ہے

پھر شام سلونی ہوتی ہے

جب ایسا ہی کچھ ہوجائے

تو مرنا کیا اور جینا

پھر رونا کیا اور ہنسنا کیا

پھر میری تیری مرضی کیا

پھر میں بھی کیا اور تو بھی کیا

آتی ہے فقط پھر ایک صدا

ان الحمد للہ ، ان الحمد للہ

About ڈاکٹر محمد عقیل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *