Home / اسرا بلاگ / نہ کوئی ہندو نہ مسلمان

نہ کوئی ہندو نہ مسلمان

نہ کوئی ہندو نہ مسلمان

حافظ محمد شارق

 نومبر میں سکھ برادری کے ہاں بابا گرو نانک کا یوم پیدائش ’’گُرو اُتسو‘‘ منایا جاتا ہے۔ گرونانک دنیائے مذاہب میں ایک بڑے درویش کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔۔ بعض مسلم محققین انھیں مسلمان بھی مانتے ہیں اور بعض ہندو ۔ ان سے منقول اشعار میں ہمیں ہندومت کے مروجہ عقائد و نظریات پر بھی شدید تنقید  ملتی ہے ، بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ان کی ساری زندگی ہندومت کے غیرمعقول رسوم و نظریات مثلاً گاؤ پرستش، بت پرستی، تناسخ وغیرہ کی تردید میں ہی گزری ہے۔ اس طرح کے دیگر ہندو عقائد پر گرونانک شدید تنقید کرتے ہیں۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ اور اسلام کے بارے میں ان کے نیک خیالات بھی ہمیں ان کے اشعار میں پڑھنے کو ملتے ہیں  ، اور اسی وجہ سے بہت سے محققین نے انھیں مسلم قرار دیا ہے۔ ان کی جو سوانح ہم تک پہنچی ہے  اس کے مطابق کہا جاسکتا ہے کہ وہ مذہبی اعتبار سے ہندوستانی مذہب کی اس صورت پر عمل پیرا رہے جس کے قائل بھکتی تحریک کے اکثر مثلاً مویدین کبیر داس وغیرہ تھے۔

ابھی اس بارے میں تفصیلی بحث کو موقع نہیں ہے کہ سکھ مت کی مروجہ صورت باباگرونک کی اصل تعلیمات سے کس قدر تعلق یا تضاد رکھتی ہے، یا موجودہ درویش جو انھیں اپنا بزرگ مانتے ہیں، ان کی فرمودات کا کس قدر پاس رکھتے ہیں، البتہ جو لوگ سکھ روایات کے ماخذ سے واقف ہیں، وہ جانتے ہیں کہ موجودہ گرونانک صاحب نے کبھی کسی نئے مذہب کی بنا نہیں ڈالی نہ ہی وہ یہ چاہتے تھے کہ لوگ ان کے نام پر ایک نیا مذہبی ستون کھڑا کریں، وہ محض ہندومسلم اتحاد اور ان دونوں مذاہب کی مشترکہ تعلیمات کے داعی تھے۔ ان کے جنم دن میں موقع پر ان کی پوری فکر کا خلاصہ انھی کے الفاظ میں نقل کرنا چاہوں گا۔ سکھ روایات کے مطابق گرونانک کو جب عرفان حاصل ہوا ان کی زبان سے پہلا اور واحد جملہ جو نکلا ، وہ یہ تھا:

’’نہ کوئی مسلمان اور نہ کوئی ہندو ہے۔‘‘

اس جملے کا مطلب یہ تھا کہ کوئی بھی حقیقت میں  اپنی مذہبی تعلیمات کے مطابق نہ ہندو ہے اور نہ ہی مسلمان، جو شخص ہندو ہونے کا دعوی کر رہا ہے وہ بھی اصلاً اپنے مذہب کی تعلیمات پر عمل پیرا نہیں ہے اور جو کوئی مسلمان ہونے کا دعوی کر رہا ہے وہ بھی محض مسلمانوں کے عقائد کا مالک ہے، نہ ہندو کا اعتقاد پختہ ہے اور نہ مسلمان تھا، اپنے مذہب کے مطابق عمل کسی کا بھی نہیں ہے۔ بحیثیت انسان ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے مذہب کی اصل تعلیمات کو جانیں اور اس پر صحیح طرح عمل پیرا ہوں، ہمارے ایک عزیز مولانا نور اللہ رشیدی فرماتے ہیں کہ اگر سابقہ ادیان کا کوئی بھی پیروکار اپنی ہی کتابوں کو غیرجانبدار ہو کر پڑھنا شروع کردے تو یقیناً اس کی تحقیق اسلام پر ہی منتج ہوگی۔ چنانچہ اپنے مذہب کا مطالعہ کیجیے اور زمانے کے پیدا کردہ تغیرات کے بجائے اصل تعلیمات کو اصولِ عمل بنائیں۔ ورنہ بابا گورو نانک کے کہے مطابق اس وقت بھی نہ کوئی ہندو ہے اور نہ مسلمان!

About iisramagadmin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *