Home / شمارہ فروری 2018 / نیکی خوشی اور رغبت  سے کریں

نیکی خوشی اور رغبت  سے کریں

تحریر: ڈاکٹر آسیہ رشید

 نیکی کیا ہے؟ عربی میں ا س کے لئے بر کا لفظ بولا جاتا ہے انگریزی میں Virtue کہتے ہیں۔لغت میں بھلائی عمدگی کارخیر اور  احسان کا لفظ مستعمل ہے ۔  کوئی بھلی بات ،کسی مسلمان بھائی سےحسن سلوک ، کسی غریب کی مدد  ،کسی حیوان پر رحم  وغیرہ۔ انسان کی زندگی میں   نیکی و بدی ،خیر و شر  کا اہم کردار ہے  میں اس لئے نیکی کرنا بہت اہم ہے کہ  یہ نیکیاں  ہی ہیں جو ہمارے گناہوں کو مٹاتی ہیں ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ۔ہود:114  ۔ترجمہ:بے شک نیکیاں گناہوں کو مٹاتی ہیں

ہر بھلا ،اچھااور نیک کام صدقہ کے زمرے میں آتا ہے  ہے اس لئے اسے کرنے کی تگ ودو کرنی چاہئے ۔فرمان نبوی ہے :

«كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ»۔صحیح بخاری ، كِتَابُ الأَدَبِ، بَابٌ: كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ،حدیث نمبر:6021۔ترجمہ:ہر نیکی صدقہ ہے

ہر شے کا  ایک حسن ہوتا ہے اور نیکی کاحسن یہ ہے کہ فورا کی جائے ۔ہم اپنا جائزہ  لیں اور مشاہدہ کریں کہ کیا ہم نیکی خوشدلی سے کرتے ہیں یا بے دلی سے ۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ نیکی کو حقیر نہیں  جاننا چاہئے  اس کا ذکر حدیث نبوی میں صراحتاً ملتا ہے

   اسلام نے نیکی کے بھی اصول وضوابط مقر کئے گئے ہیں  احسان جتلا کر نہ کی جائے  ۔اصل میں  نیکی وہ ہے جس سے اطمینان قلب حاصل ہو وہ کام آپ کا اپنی ذات کے لئے بھی ہو سکتا ہے اور دوسروں کے لئے بھی ۔۔اپنی ذات کے لئے اس طرح کہ  آپ خودکو کسی برائی سے بچاکر جب آپ برائی کی طاقت رکھتے ہوئے اللہ کے خوف سے برائی نہ کریں تو یہ آپ کا اپنی ذات پر احسان ہے کہ آپ نے خود کو رب کے ہاں شرمندہ ہونے سے بچا لیا چاہے آپ کا ایسا کرنے سے مقصود یا نیت یہ نہ تھی کہ اجر پائیں بلکہ نیت خشیت الہی اور تقویٰ تھا  جو خوف الہی سے گناہ کی طرف مائل نہ ہوئے تو یہ آپ نے نیکی کی  اور اپنی مرضی اور  اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے کی جو رب نے عنایت کیا ۔

اسی طرح کسی انسان جانور کی مدد  اس کا خیال راستے سے پتھر کا ہٹا دیان کسی مسافر کو ایکسڈنٹ یا ہارٹ اٹیک یا کسی بھی وجہ سے گرنے کی صورت میں ہسپتال پہنچا دیناکسی بچے کو سبق میں درپیش مشکل حل کر دینا اور سمجھادینا ،کسی کو راستہ بتلا دینا ،کسی بھائی یا بہن کا کسی محفل میں مذاق اڑانے کی غرض یا جھوٹی بات منسوب پر اس کے حق میں بولنا،کسی  ضعیف بزرگ یا بوڑھی  عورت  کو سڑک پار کروا دینا  ہے ۔

 نیکی نہ تو زبردستی یا دکھاوے کو ہو  بلکہ نیکی رغبت سے ہو نیکی کی عادت وہ جائے جیسے کھانے کے بغیر نہی رہ سکتے جانے انجانے میں نیکی سرزد ہو اس کے لئے قرآن و سنت سے رجوع کریں تو اس مقام تک پہنچ سکتے ہیں کہ جیسے غلطی جانے انجانے میں سرزد ہو جاتی ہے کیوں نہ اس طرح نیکی کی عادت بنا لیں اور ایسے کریں جیسے ہم اپنی مرغوب غذا  مزے سے شوق سے کھاتے ہیں   ایسے جیسے  ھنئیا مرئیا کا لفظ قرآن نے کھانے کے لئے استعمال کیا ہم نیکی اس طرح کریں

عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سِمْعَانَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ فَقَالَ:

 «الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ، وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ»

صحیح مسلم ، كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ ،بَابُ تَفْسِيرِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ ،حدیث نمبر:2553

سیدنا نواس بن سمعان رضی اﷲعنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اﷲصلی اﷲعلیہ وسلم سے سوال کیا”نیکی اور گناہ کے بارے میں تو آپ صلی اﷲعلیہ وسلم نے فرمایا:نیکی اچھا اخلاق(حسن خلق ) ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے سینے میں کھٹکے اور تو ناپسند کرے کہ لوگ تیرے اس کام پر مطلع ہوں۔

اس حدیث کے مطابق نیکی کا تصور بڑا وسیع ہے  جس میں حقوق اللہ حقوق  العباد حقوق النفس   حتی کہ حقوق المخلوقات بھی شامل ہیں   سورۃ البقرہ   :177میں بھی   اللہ تعالیٰ نے نیکی کی اقسام بیان کی ہیں  اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ أُولَئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ۔ البقرہ:177

 ترجمہ:نیکی یہ نہیں ہے کہ تم اپنے چہروں کو مشرق یا مغرب کی طرف کر لو، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ، آخرت کے دن، فرشتوں، کتاب، اور نبیوں کو مانے، اور اللہ کی محبت میں اپنا مال رشتے داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، سوال کرنے والوں، اور غلاموں کو آزاد کروانے کے لئے خرچ کرے، اور نماز قائم کرے اور زکوۃ دے۔ نیک تو وہ لوگ ہیں جو جب وعدہ کرتے ہیں تو اسے پورا کرتے ہیں اور تنگی و مصیبت میں اور جنگ کے موقع پر صبر کرتے ہیں۔ یہی یہ راستباز لوگ اور یہی متقی ہیں۔

ایمان لانے کے بعد  اہم ترین چیز اخلاق ہے آج ہمیں ایمان کی بڑھوتری کو اسے ہی سنوارنا ہے نیکی کو رغبت محبت شوق سے ادا کران ہے نہ تو لگے بندھے نہ ہی کرھا ً بلکہ طوعاً نیکی کو سرانجام دینا ہے نیکی کی اقسام   پر غور کیجئے نماز اعلیٰ درجے کی نیکی ہے اس کی ترغیب جہاں تبلیغ ہے اور اجر کا باعث وہی بے حیائی سے بچنے یں معوان ہے اگر دل  سے اس نیکی کو ادا کریں اور کسی نیکی کو حقیر نہ جانے پیاسے کتے پانی پلانا۔بیمار علاج کروانا اگر جانور بلی کتا یا پرندہ  بھوکا  ہے تو اس کو کھلا دینا چاہئے اس حدیث مبارکہ میں پرندے  کو پانی یا خوراک ڈالنا پر بھی ذکر اس طرح  ملتا ہے کہ  چڑیا  اگر فصل پودے سے پتہ کھا لے تو بھی اجر کا باعث ہے ۔کوئی غیرمسلم ہو تو اس سے کراہت نہ کی جائے اس کو کھانا کھلا دینا عاجزی کو ظاہر بھی کرتا اور رب کی رضاکاباعث بھی ہے یہ نیکیاں رغبت سے کریں ۔اور اپنی روزمری زندگی میں ایسی نیکیاں جن کو آپ کراہت کی باعث نہیں  کر پاتے اس  مضمون کو لکھنے کا بنیادی مقصد ہے وہ خوشدلی سے ادا کریں اللہ کے لئے کریں ایسی نیکیاں آپ کے لئے میرے لئے اجر عظیم کا باعث ہوں گی اور یہ نیکیاں  جتنے خلوص سے کی جائیں ان میں بدلہ کی چاہت طلب بھی نہ وہ احسان اللہ کے خوف سے کی جائے ۔وہ نیکیاں کرنے کی جستجو کیجئے جو خوشدلی مزے سے کی جائیں جو آپ دل مرضی اور   شوق سے کریں یہ شوق پیدا کی توفیق الہی بھی مانگیں اور یہ آیات مدنظر بھی رکھیں  جیسے قرآن میں لفظ هَنِيئاً مَرِيئاً  یا صرف هَنِيئًا پڑھتے  ہیں (فَكُلُوهُ هَنِيئاً مَرِيئاً النساء :4۔كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا الحاقہ:24۔كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا المرسلت:43)

ان آیات میں هَنِيئاً مَرِيئاً  اور  هَنِيئًا کا  لفظ استعمال ہوا ہے  جس کا مطلب مزے،   ہنسی خوشی اور  رغبت  اور دلچسپی  ہے یہی اس مضمون لکھنے کا باعث بنا کہ ہم برائی کی طرف تو لپک کر بنا سوچے کر گزرتے کیوں نہ آج سے ہم نیکی بھی رغبت سے کریں   اس سے ہمارے اعمال بھی بہتر ہوں گے روح کو بالیدگی بلے گی اور اس کے ساتھ معاشرہ میں بناؤ بھی آئے گا جیسے ہم چہرہ سنوارتے روز منہ دھوتے کوئی وضو  کی نیت سے اسے  دھو لے تو اجر بن جائے گا تو کھانا ہم اس لئے کھاتے ہیں تا کہ صحت درست رہے غذا سے  طاقت ملے  کویں نہ کھانا یہ سوچ کر کھائیں کہ ہم اس سے حاصل طاقت سے دین کے کام کریں گے۔

جن کا مقصد صرف رضاء الہی ہو فرض سمجھنے سے بھی بالاتر ہوکر صرف رب کی رضا پانےکو جو طمانیت  قلب نصیب ہو گی جو سکون کی نیند آئے کی ا س کا کوئی نعم البدل نہیں۔  نیکی کوئی بھی ہو احادیث مابرکہ میں اورکئی مضامین میں صدقہ کے باب میں تفاصیل پڑھ چکے ہیں کہ ہر نیکی صدقہ ہے اس لئے اسے حقیر مت سمجھنا چاہئے ۔جسم کی ضرورت پوری کرنی ہے حلال کھانا چاہتے  ہیں تو رغبت سے کھائے حرام کی ممانعت ہے ۔اس لئے حلال حرام کو سمجھیں یہ بڑی نیکی ہے اور دین سمجھنے میں ضروری بھی ہے تعاون کرنا بھی نیکی ہے  نکاح بھی نیکی ہے باحیا محصن محصنات امانت کی حفاظت کرنے والے بن جاتے ہیں اگر دین پر عمل پیرا ہیں تو نیکی کام رہے شادی کر کے شادی میں بھی اجر ہے کہ اگر آپ شادی بھی اللہ کے لئے کریں تو نفس کی غذا تو ملے گی لیکن رب کی رحمت شامل ہو جائے گی سنت بھی مکمل ہو گی اگر کسی وجہ سے شادی نہیں ہوئی یا ہو رہی تو صبر سے اجر پائیں روزے رکھیں ۔علم کسی بھی مضمون کا حاصل کرنا ہے تو مقصد اللہ کی رضا ہی ہو کہ میں علم سیکھ کر خود بھی سیکھون گا اوروں کو بھی کام کی بات بتاؤں گا /گی  وغیرہ ۔ یہ سب نیکیوں کی چند اقسام ہیں .رغبت اور خوشی /طوعاً کی گئی نیکی ممکن ہے ہمارے لئے باعث نجات بن جائے

آیات مبارکہ میں مذکور ہے کہ :

﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ۔ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ۔ سورۃ الزلزلہ:7،8

​جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہو گی وہ اس کو دیکھ لے گا جس نے ذرہ برابر بھی برائی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا۔

نیکوکار اپنا انجام دیکھ لیں گے اور برائی کرنے والے گناہوں سے توبہ نہ کرنے والے اللہ کے ہاں شرمسار ہوں گے اس وقت کوئہ نفع نہ ہو گا اس لئے نیکی کی اہمیت کو جاننا بے حد لازم ہے ۔تا کہ رغبت سے گناہ کی طرف مائل ہونے سے بچنے کو جہاد کریں اور مرغوب غذا کی طرح نیکی کی طرف مائل ہوں ۔حدیث نبوی میں مذکور ہے کہ :

«بَيْنَمَا كَلْبٌ يُطِيفُ بِرَكِيَّةٍ، كَادَ يَقْتُلُهُ العَطَشُ، إِذْ رَأَتْهُ بَغِيٌّ مِنْ بَغَايَا بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَنَزَعَتْ مُوقَهَا فَسَقَتْهُ فَغُفِرَ لَهَا بِهِ».صحیح بخاری، كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ ، بَابُ حَدِيثِ الغَارِ ،حدیث نمبر:3467

 ایک دفعہ پیاس کی شدت سے ایک کتا کنویں کے اردگرد گھوم رہا تھا، قریب تھا کہ پیاس کی وجہ سے وہ ہلاک ہوجائے، اچانک ایک گناہ گارعورت، جو بنی اسرائیل کی تھی، اس عورت نے اپنے موزے کو نکالا، اور کتے کو پانی پلادیا، اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی مغفرت فرمادی۔

«مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا، أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا، فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَيْرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ بَهِيمَةٌ، إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ»

صحیح بخاری ، كِتَاب المُزَارَعَةِ، بَابُ فَضْلِ الزَّرْعِ وَالغَرْسِ إِذَا أُكِلَ مِنْهُ، حدیث نمبر:2320

ترجمہ:جو  بھی مسلمان   کوئی درخت لگاتا ہے یا فصل بوتا ہے اور اس میں سے انسان یا پرند چرند کھاتا ہے تو وہ اس کے لئے صدقہ ہوتا ہے ۔

 (پرندوں کو دانہ دنکا ڈالتے گوشت ڈالتے دھیان رکھے کوئی ذی روح انسان   کو گزند نہ پہنچے ہمارے ہاں چوراہوں یا مغربی طرز پر  کچھ جگہیں مختص ہیں مسئلہ جو خود دیکھا کہ  دریا کے پل پر ائرپورٹ کی حدود یا شہر کی بڑی عمارات کے ارد گرد علاقہ میں پرندوں کو جب  گوشت ڈالتے تو تب آپ نیکی ضائع کر رہے ہوتے اس سے کبھی گاڑی میں  آکر کر پرندہ لگتا اچانک بریک سے یا بعض اوقات نظر نہی آتا اور گاڑی کسی چیز سے ٹکرا جاتی جہازوں کے حادثات بھی اس وجہ سے ہوتے پرندوں سے نیکی کا حکم  ضرور ہے لیکن اس کے ساتھ انسان یا ان کے سامان کو گزند پہنچ گئی تو الٹ اآپ نے گناہ کما لیا اس لئے ایسی نیکی جو تکلیف کا باعث بنے کرنے سے گریز کیجئے وہ نیکی نہیں  گناہ کے زمرے میں آتی  ہے ۔اسی طرح نیکی کر کے احسان نہ جتلائیں بلکہ نیکی خوشدلی رغبت  شوق اور مزے سے کریں۔  اخروی فلاح کے لئے لازمی ہے کہ رغبت سے نیکی کریں جس میں ریا کاری نہ ہو۔

نیک بندگی کا بدلہ نیک ثواب کے سواکیا ہوسکتا ہے۔ ان جنتیوں نے دنیا میں اللہ کی انتہائی عبادت کی تھی۔ گویا وہ اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے۔ اللہ نے ان کو انتہائی بدلہ دیا۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :

﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ۔ السجدہ:17

ترجمہ:کسی نفس  کو علم نہیں  جو آنکھ  کی ٹھنڈک ان کے لئے چھپا رکھی ہے ۔یہ  انہیں ان کے کاموں کا صلہ ملا ہے ۔

اس لئے کسی نیکی کو حقیر مت جاننا چاہئے بلکہ جس طرز کی نیکی کی توفیق ہو فورا ًسے پیشتر کیجئے اور رب کی رضا پائیں ۔ اس میں کسی کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ۔مدیران ،ایڈیٹر  اور کتابت  یا دیگر اللہ کے لئے کام کرتے ہیں تصحیحات کرتے اپنا وقت صرف کرتے  یا اپنا کام بنا معاوضہ نیت سے کرتے  اور پھر اس پر بہت کم اجرت یا،بالکل نہیں لیتے اسی طرح آن لائن کاموں میں تعاون سب اللہ  کے ہاں اخلاص کے ساتھ کر رہے ہیں تو ان کو حقیر مت جانئے بلکہ رب کا شکر بجا لائیں کہ اس نے توفیق دی  اس نے اتنے سارے افراد میں سے آپ کو منتخب کیا پھرآپ کا احسان نہیں یہ تو رب کا احسان ہے کہ اس نے آپ سے کام لیا اور اجر میں اضافہ کی،اور جس نے نیکی کی  آپ سے یا آپ نے کسی سے اس کو شکر گزار بندوں میں شامل  کر ۔اسے بھی آپ کا شکر گزار  ہونا چاہئے  ،اللہ رب العالمین کی نعمت کو مزے اور رغبت سے کیجئے جیسے اپنا پسندیدہ کھانا یا کام کرتے بالکل اسی طرح نیکی کو اہمیت دیجئے سجدہ شکر بجا لائے اور تفاخر ے بچئے یہ صرف رب کو زیب دیتا ہے  ۔اپنی زبان سے میٹھا بولنے کی کوشش کیجئے کڑواہٹ زہر ہے جو دل سینے دماغ اتر کر رشتے خراب کرتا ہے اس سے اجتناب ایسے ہی کرنا جیسے زہر سے کرتے گالی فساد جھوٹ سب زہر ہیں ان کا تریاق نیکی ہے اور اگر کوئی گناہ یا بدی سرزد ہ وجائے تو نادم ہونا ہے  فورا ً نیکی کیجئے دو نفل پڑھئے رب کے حضور جھک جائیں توبہ و  استغفار کریں۔ انفاق فی سبیل اللہ کیجئے سورۃ آل عمران اور چوتھے پارے کی پہلی ہی آیت اس طرف اشارہ کرتی ہے  :

﴿ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ آل عمران:92۔

ترجمہ ۔تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی محبوب ترین شے اللہ کے راستے میں خرچ نہ کرو ۔

 اس لئے رب ریم کی رضا پانے  اس سے محبت ک اایک ذریعہ اس کے بندوں ،دین کے کاموں میں جوانی بڑھاپا علم وقت رقم  ،کسی بھی طرح کا  تعاون وغیرہ  کرنا بھی ہے   لیکن یہ کام رغبت مزے سے کرنا حب الہی کی کنجی ہے اور اپنے رب کا خوف دل میں لائیں اللہ ہمیں باعمل متقی بنا دے اور نیکیوں میں سبقت لے جانے والا تو پھر کون تیار ہے  سبقت لے جانے والو میں

﴿ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ ﴾۔البقرہ:148ترجمہ:پس نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے بنو/ نیکیوں کی طرف پیش قدمی کرو۔

۔دعا ہے کہ وہ ہمیں سبقت لے جانے والوں میں کرے اور باعمل متقی بنا دے خشیت دل پر طاری کر دے قرآن کو ہمارے دل کی بہار بنا دے ہم نیکیاں کما کر ضائع کرنے والو میں سے نہ ہوں اعمال ضائع ہو سکتے اگر حقوق العباد  میں کوتاہی ہو گئی اس لئے حقوق العباد ادا کرنے والا بننا ہے  ظالم  نہ بننے ظلم کرنے سے بچنے والا بننا  اور ظلم پر آواز اٹھانے والا بننا ہے معاشرے کے بگاڑ کا ذرا بھی باعث نہ بنیں ہماری ذات نفع بند بنا دے خیر  و رحمت کا باعث بنا ذہن میں ہر وقت یہ بات رہنی چاہئے کہ «مَنْ لاَ يَرْحَمُ لاَ يُرْحَمُ» جورحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا(صحیح بخاری کتاب الادب ،بَابُ رَحْمَةِ الوَلَدِ وَتَقْبِيلِهِ وَمُعَانَقَتِهِ،حدیث :5997،صحیح مسلم ،کتاب الفضائل، بَابُ رَحْمَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصِّبْيَانَ وَالْعِيَالَ وَتَوَاضُعِهِ،حدیث :2318)  متفق علیہ حدیث میں درج ہے ۔اس لئے زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمانے والے بننا ہے رحمت بنئے،زحمت بننے سےاجتناب کرنے والوں میں بنائے محبت،دلجمعی رغبت  سے نیکی کرنے کی توفیق مانگئے ۔آمین

About ڈاکٹر آسیہ رشید

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *