Home / شمارہ دسمبر 2017 / همارا ملک اور همارا دین

همارا ملک اور همارا دین

وطن عزیز پاکستان کی حصول کے لیے  همارے بزرگوں نےبہت سی قربانیاں دی۔ان کی خواہش اور امید تهی کہ اپنے آئنده نسلوں کےلئے ایک ایسا خطہ زمین حاصل کریں جہاں وه آزادی اور عزت کے ساتھ دین اسلام کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارسکیں۔

اسی خواہش اور امید کی بناء پر انہوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دی، اور اس ملک کا نام پاکستان رکها یعنی پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ لیکن جب منزل حاصل ہوئی اور پاکستان معرض وجود میں آیا ،تو تمام مخلص لوگوں کو ایک طرف کرکے نہ صرف ان کے قربانیوں کو بهلادیا گیا بلکہ ان کی جائز حقوق بهی ان کو رشوت و سفارش کے بغیر نہیں دیتے ۔پنجاب کے شہر جڑانوالہ کی ایک معمروبزرگ شہری نے بتایا کہ تقسیم کے بعد جب حکومت نے مہاجرین کو زمینیں الاٹ کرنے کا پروگرام شروع کیا، تو یہاں جڑانوالہ کی پٹواری رشوت کی بغیرکسی کوزمین الاٹ نہیں کرتا۔میں یہ حالت دیکھ کر سوچ میں پڑا…کہ کیا اس کیلئے ہم نے یہ ملک حاصل کیا ہے؟؟؟

اس لئے کہ ملک کی اقتدار ایسے مفادپرست ٹولےکی ہاتھ میں دیا گیا جو پہلے سے انگریز کی بوٹ پالش کرنے میں فخر محسوس کرتےان مفادپرست لوگوں نے گروه بنائے اور رفتہ رفتہ اقتدار پراپنے پنجے  مضبوط کرنے لگے۔پهرعوام کا خون چوسنے کے لیے ان گروہوں نے سیاسی پارٹیاں بنائیں۔ ان پارٹیوں کی پیدائش نے عوام کو تقسیم کرکے ملک کی مرکزیت کو ختم کیا۔

اس وقت الیکشن کمیشن کے ساتھ چارسو کی قریب سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں، پاکستانی عوام ان پارٹیوں میں تقسیم ہیں، وه ملک کی کامیابی کی بجائے اپنی پارٹی اور اپنی لیڈر کی کامیابی کیلئے سرتوڑ کوشش کررہے ہیں۔ان کی صفت اور تشہیر میں مبالغہ آمیزی اور جهوٹ سے کام لیتے ہیں اوران کے غلطیوں پرپرده ڈالنے اور صفائی کیلئے دلیل بازی کرتے ہیں۔ غرض کسی کو ملک وقوم کی فکرنہیں، بلکہ ہرکسی کا منتہاہائےسوچ وفکر ان کا لیڈراورپارٹی ہے۔ایسے حالات میں ملک کس طرح ترقی کرسکتا ہے ؟؟؟

جس طرح ہم نے اپنےملک کو بے یارومددگار چهوڑکرپارٹیوں میں لگے ہیں، بالکل اسی طرح سلوک ہم نے اپنے دین ”اسلام” کےساتھ کیاہے۔ہرگروه اور فرقے کا کم ازکم ایک امام ،قائد،رہبر،پیرومرشد اور ان کےساتھ نائبین کی فوج ظفر موج ہوتی ہے۔ایسے صورت حال میں اس عظیم وکامل انسان محمدرسول اللهﷺ کی اتباع کا کس طرح سوچا جاسکتا ہے ؟؟؟ یقیناان فرقوں کی بہتات نے ہم سے وه صحیح وسالم اورکامل وجامع دین”اسلام” مفقود کیاہے، جس کے بارے میں خالق کائنات نے فرمایا ہیں ”ورضیت لکم الاسلام دینا” میں نے آپ کیلئے اسلام کو بحیثیت دین چن لیا ہےاورجس کے بارے میں رسول اللهﷺ نے فرمایا ہیں ’میں نے آپ کو ایک ایسا روشن اور واضح دین لے کر آیا ہوں جس کی رات دن کی طرح روشن ہے۔” بدقسمتی سےبہت کم لوگ اس بہترین دین پر راضی،اور اس کی روشنی سے فائده حاصل کرتے ہیں۔

حقیقت میں ہماری تمام قوتیں اورصلاحیتیں ملک کی بجائے پارٹیوں اوردین کی بجائے فرقوں کیلئے استعمال ہورہی ہیں، پهر بهی ہم ملک کی ناکامی اوردین کی مغلوبیت کی شکایت کررہے ہیں۔ہمیں چاہیے کہ ملک اور دین دونوں کے معاملےمیں شخصیت پرستی، پارٹی بازی اور فرقہ واریت سے اپنے آپ کو بچائیں اور اپنے تمام اعمال، افعال اوراقوال میں اخلاص اور للہیت پیدا کریں نیکی، اصلاح اور تعمیری کاموں میں بهرپور حصہ لیں ۔ گناه، فساد اورتخریبی کاموں کو بند کرنے کی کوشش کریں ۔ ہروقت الله تعالٰی سے اپنی دعاوں میں اپنے لئے اور دوسروں کیلئے هدایت مانگیں ۔رسول اللهﷺ نے امت کو ایسے دعائیں بتائی  ہیں جیسے

«أللّٰھُمَّ إِنّی أَسئَلُکَ الھُدٰی وَتُّقٰی وَلعَفَافَ وَلغِنٰی»(رواه مسلم عن ابن مسعود)

ترجمہ:-اے الله میں تجھ سے مانگتا ہوں، هدایت اور پرهیزگاری اور گناه سے بچنا اور بےپروائی ۔

 آپ ﷺ نے علیؓ کو یہ دعا مانگنے کی تاکید کی تهی »أللّٰهُمَّ اھْدِنِی وَسَدِّدْنِی« اے الله مجھے ہدایت کر اور مجھےسیدھا رکھ۔ (مسلم)

 الله تعالی ہمیں خود بهی ہدایت نصیب فرمائے، اور دوسروں کیلئے ہدایت کا ذریعہ بهی بنادیں…..        آمین!!

 

 

 

About شاہ فیصل ناصر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *