Home / شمارہ اگست 2018 / والدین کی قدر کیجیے

والدین کی قدر کیجیے

تحریر:طاہر محمود

 

ابھی میرے ابو جی گلاس میں کولڈ ڈرنک ڈالنے لگے تو میں نے ادب کے ساتھ گزارش کی:

“کولڈ ڈرنک زیادہ نہ پیا کریں. نقصان دیتی ہے.”

انہوں نے ایک گھونٹ گلاس میں ڈالا اور مجھے دے دیا.

میں نے حیرانگی سے کہا: “یہ تو ایک گھونٹ ہے.”

ابو جی نے مسکراتے ہوئے کہا: “ابھی خود ہی تو کہا ہے کہ کولڈ ڈرنک تھوڑی پیا کریں.”

میں نے جواب دیا: “میرا مطلب یہ ہے کہ خود تھوڑی پیا کریں. دوسروں کو بےشک زیادہ پلائیں.”

یہ سن کر وہ ہنس پڑے اور کافی دیر ہنستے رہے.

الحمدللہ میں اکثر اپنے ابو جی کے پاس بیٹھتا ہوں اور ہم آپس میں دل بھر کر باتیں اور گپ شپ کرتے ہیں. ہنسی مذاق بھی ہوتا ہے. وہ اپنے دل کی باتیں کرتے ہیں. گھریلو معاملات میں مشاورت ہوتی ہے. انہیں میری بعض باتیں سمجھ نہیں آتیں تو پھر وہ دوسری تیسری بار مجھ سے پوچھتے ہیں. مجھے انہیں دوبارہ اور سہ بارہ وہ بات بتاتے ہوئے اور زیادہ خوشی ہوتی ہے. اس سارے عمل میں مجھے ایک ایسی لذت ملتی ہے کہ جو ناقابلِ بیان ہے. لہذا میں کوشش کرتا ہوں کہ روزانہ ہی ان سے ایک نشست لازمی ہوا کرے.

میں نے ایسے والدین بھی دیکھے ہیں جو اپنی جوان اولاد سے کچھ پیار بھرا اور ہنسی مذاق سننے کو ترستے رہتے ہیں. بعض بےچارے تو سالوں سے اس انتظار میں ہیں کہ ہمارے بچے ہمارے پاس بیٹھیں اور ہمیں اپنی محبت بھری باتوں سے محظوظ کریں. ایک بار میرے ایک طالب علم کے والد میرے سامنے رونے لگ گئے اور کہنے لگے کہ جب سے یہ جوان ہوا ہے تو یہ ہمارے ساتھ سیدھے منہ بات تک نہیں کرتا.

خدارا والدین کی قدر کیجیے. یہ اللہ کا ایسا انعام ہیں جس کا کوئی بھی نعم البدل نہیں ہے. اگر آج ان کی قدر نہیں کریں گے تو بعد میں صرف پچھتاوے رہ جاتے ہیں۔.

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

About طاہر محمود

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *