Home / آزادی سپیشل / وطن اللہ کی ایک عظیم نعمت

وطن اللہ کی ایک عظیم نعمت

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، انسان ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی کروڑوں نعمتوں میں ہوتا ہے اور ہر لمحہ ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اللہ پاک کی ان نعمتوں میں سے ایک نعمت  وطن اور ملک کی نعمت ہے۔

ایک وطن جو ہمارے لیے ہمارے گھر کی طرح ہوتاہے۔ہمیں ایک چھت فراہم کرتا ہے۔ جہاں ہم محفوظ ہو کر اور ٓزادی کے ساتھ اپنی زندگی گزارتے ہیں۔ غلامی سے محفوظ ہو کر اپنے دین، اپنے مذہب کے مطابق آزادی کی زندگی کزارتی ہیں۔ یہاں ہم سیاسی طور پر، مذہبی طور پر، معاشی طور پر اور زندگی کے تمام میدانوں میں با اختیار اور آزاد ی کی زندگی جیتے ہیں۔

یہ وطنِ عزیز ہمیں ایک پہچان عطا کرتا ہے۔ دنیا کے کسی حصے میں چلیں جائیں اسی سی ہماری پہچان ہو گی۔ یہی پہچان انسان کو بہت سارے حقوق دلاتی ہے، جو اس کی پہچان نہ ہونے کی صورت میں نہیں ملتے۔ ایک شہری ہونے کی حیثیت سے ہمارے بہت سے حقوق ہوتے ہیں جو حکومت کو ادا کرنے پڑتے ہیں۔ اس پہچان کے نہ ہونے کی صورت میں وطن میں انسان ایک تھرڈ کلاس زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

انسان اپنے ملک کے بے شمار زمینی، آبی اور دیگر وسائل سے استفادہ کرتا ہے۔ یہ اسائل اس کے لیے روزگار بھی فراہم کرتے ہیں اور وہ ان وسائل کے ذریعے اپنے لیے رزق تلاش کرتا ہے، ترقی کے منازل طے کرتا اور ایک اچھی زندگی گزارتا ہے۔

اللہ پاک کی دوسری نعمتوں کی طرح اس نعمت کی قدر کرنا اور اللہ پاک کا شکر ادا کرنا چاہیے جس نے ہمیں اس نعمت سے نوازا۔ اس نعمت کا شکر اور قدردانی کا تقاضا ہے کہ ہم اس کے لوگوں کی بھلائی کے لیے کوشاں رہیں۔ اپنے وطن سے خیر خواہی کو ثبوت دیں ، ان کی ترقی اور تعمیر کے لیے کام کریں اور باغیانہ رویہ نہ اپنائیں اور نہ ہی انتشار اور فساد کا سبب بنیں۔

ہماری تقدیر اور ہمارا مقدر اور ہمارا مستقبل اسی ملک ، اسی قوم کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ یہاں برائیاں پھیلی ہوں گی تو سب ملک کے لوگوں  کو ان برائیوں کو سہنا پڑے گا۔ یہاں تاریکیاں ہوں گی تو ہم سب کو اس کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ یہاں نا انصافی اور ظلم ہو گا تو ہم سب کو چارو ناچار اس کو بعداشت کرنا پڑے گا۔ یہاں اچھائیاں ہوں تو بھی سب کو فائدہ ملے گا۔ یہاں امن ہوگا تو ہم سب کو امن نصیب ہوگا۔ یہاں انصاف ہو گا تو ہم سب کو انصاف نصیب ہوگا۔ یہاں خوشحالی ہوگی تو ہم سب کو خوشحالی نصیب ہو گی۔

آج پاکستان بےشمار وسائل کا شکار ہے، جس میں بد امنی، دہشت گردی، غربت، جہالت ، بداخلاقی ، انتشار اور فساد سرِفہرست ہیں۔ ان حالات میں ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی ذمی داریوں کو سمجھیں اور اپنے  حصے کاکام کریں اور ملک کی تعمیر و ترقہ میں اپنا کردار ادا کریں۔

بہتر ہے مٹی کا ایک چھوٹا سا دیا جلادینا

اندھیرے کو مسلسل برا کہتے رہنے سے

بہتر ہے گھپ اندھیرے میں سرِراہ

ایک چھوٹی سی موم بتی جلا دینا

کسی سورج کا انتظار کرتےرہنے سے

کسی اجنبی مشعل بردار  جلوس کی راہ تکنے سے

خود غرضیوں کی ڈسی ہوئی ارضِ وطن کی

ہر اندھیری راہ، ہر تاریک گلی

اپنے سرسید، اپنے ایدھی کا انتظار کر رہی ہے

ارضِ پاکستان کی ہر شب گزیدہ بستی ہے

ایک دردناک صدا  آرہی ہے

میرےبیٹو! میری بیٹیو!

کہاں ہو ، دیا جلاؤ اپنے حصے کا

(پروفیسر سعید راشد کی شاعری سے انتخاب)

About ماہم یامین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *