Home / 2018 / وعدہ خلافی،ہمارا سماجی مسئلہ

وعدہ خلافی،ہمارا سماجی مسئلہ

تحریر:محمد بلال یاسر

 

وعدہ خلافی دراصل منفی اثرات، افراد کے رویوں، رکاوٹوں اور ظرف کی ایسی صورت ہے، جس سے افراد اور معاشرے کی اقدار متاثر ہوتی ہیں۔ یہ ایک ایسا معاشرتی مسئلہ ہے جس کی بنا  پر معاشرے کی اعلیٰ اقدار کے زوال پزیر ہو جاتی ہیں۔ اگر معاشرہ کوشش کرے تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا  ہے۔ سماجی مسئلہ ایسی صورت حال کا نام ہے، جس میں لوگوں کی اکثریت  ناپسندیدہ صورت حال سے دوچار ہو۔ وعدہ خلافی جیسی  برائیاں معاشرے کو گھن کی طرح کھا جاتی ہیں۔

سب سے ضروری چیز، جو کسی قوم کے لئے ترقی کے زینے کا پہلا قدم قرار پاتی ہے، وہ اس کی اخلاقی حالت ہے۔ قول و فعل کے تضاد، جھوٹ، دھوکہ دہی اور مکر و فریب ایسے اخلاقی رزائل ہیں، جن کی موجود گی میں کوئی قوم خواہ کتنے ہی علوم سے بہرہ ور ہو، کتنے ہی زمینی وسائل سے مالا مال ہو اور کتنی ہی افرادی قوت کی حامل ہو، ترقی سے ہمکنار نہیں ہو سکتی۔ معاشرتی مسائل زوال کو دعوت دیتے ہیں۔

آج ہماری پستی کا سب سے بڑا سبب اپنے آباؤ و اجداد کے سنہری اصولوں سے انحراف ہے۔ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول اکرم کے احکامات پر عمل پیرا ہونے میں ہی تمام تر سماجی برائیوں کا علاج مضمر ہے۔ آج بھی اگر ہم اپنی کھوئی ہوئی قوتوں کو جمع کر لیں اور فراموش کردہ اسباق کو از سر نو ذہن نشین کر لیں تو کوئی شک نہیں کہ ہم اپنا کھویا ہوا مقام پھر سے حاصل کر سکتے ہیں۔پیغمبر اسلام ﷺ کی سیرت کا کوئی گوشہ نہیں جو کمال انسانیت کا آئینہ دار نہ ہولیکن اس کے دو اہم پہلو ایسے ہیں جو سب سے زیادہ بنیادی اور سب سے اہم ہیں، ایک تو یہ کہ آپ ﷺ کے پاس جو حق تھا اسے آپ نے خلق تک و قت کے وقت جوں کا توں پہنچا دیااور کبھی اس بات کو روا نہ رکھا کہ اس کا کوئی جز و لوگوں پر واضح ہونے سے رہ جائے۔دوسرا یہ کہ آپ نہایت سچے وعدہ نبھانے والے اور امین یعنی دیانت دار ہیں۔قرآن کریم،حدیث پاک وعلماء کی لکھی ہوئی قدیم و جدید کتب کا جس نے بھی اچھی طرح مطالعہ کیا ہے۔جن افراد نے آپ ﷺ کی سیرت کے بارے میں سیر حاصل تحقیق کی ہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اس دنیا میں آنے والے انسانوں میں سب سے بڑے وعدہ نبھانے والے تھے اور کئی صدیوں کے گذر جانے کے باوجود یہ حقیقت دھندلی ہونے کے بجائے زیادہ روشن اور صاف ہو گئی ہے۔

ساری دنیا اور معاشرے کی تعمیر و تکمیل میں جہاں اور بہت سی چیزیں اہمیت رکھتی ہیں ان میں اہم چیز ایفائے عہد(قول وقرار کا پورا کرنا)بھی ہے اس کے ذریعے معاشرے میں ایک توازن پیدا ہوتا ہے جس سے ماحول خوشگوار بن جاتا ہے اور وقتی رنجش ہو یا دائمی سب کا ازالہ ہوجاتا ہے کوئی بھی ملک ہو یا کمپنی یا قبیلہ یا انسان کسی بات پر کوئی عہد(Agreement) کرے یا کسی طرح کا وعدہ کرے لیکن بر وقت اس کی تعمیل و تکمیل نہ کرے تو ایسی صورت میں ایک قسم کی بد مزگی پیدا ہو جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام میں ایفائے عہد (وعدہ) کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔

 قرآن و حدیث میں بہ کثرت یہ حکم ملتا ہے کہ جو معاملہ کرو یا کسی سے وعدہ کرو اسے بر وقت پورا کروبندوں کو بتایا جارہا ہے کہ سارےعہدوں (وعدوں) کو پورا کرو خواہ خالق کائنات سے کرویا مخلوق سے۔

اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب عہد کریں تو اسے پورا کریں ۔(سورۃ البقرہ 177)

پھر وعدہ مجبور۱ً پورا نہ کریں بلکہ قرآن فرما رہا ہے عہدکرتے وقت وفا کی نیت ہونا چاہیئے۔ عہد اللہ تعالیٰ کی صفت ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق متعدد مقامات پر فرمایا ہے، سورہ رعد آیت 31اِنَّ اللّٰھ لاَ یُخْلِفُ الْمِیْعِاد (ترجمہ)یقیناًاللہ اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔عہد کا پورا کرنا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں اس صفت کو جلوہ گر دیکھنا چاہتا ہے اس لئے اس نے عہد (وعدہ (Promise کی بار بار تاکید کی ہے۔میرے قابل احترام احباب مذکورہ بالا آیتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عہد کا ایفا یعنی وعدہ پورا کرنا اللہ تعالیٰ  کی خوشی و مسرت اور محبت و رضامندی کا سبب ہے۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اپنے بندے کے لئے عظیم انعام و اعزاز ہے اس سے بڑھ کر کوئی اکرام نہیں۔اللہ تعالیٰ ہم تمام اہل ایمان کو عہد(وعدہ)کی اہمیت سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔

About محمد بلال یاسر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *