وقت

ہماری عمر یا ہماری زندگی دراصل قدرت کی طرف سے ہمیں عطا کردہ وقت کا نام ہے یعنی اگر ہم بغور دیکھیں تو پتا چلے گا کہ ہم زندگی نہیں بلکہ وقت گزارتے ہیں۔ ہمارے روزگار، ہمارے رشتے، ہمارے دوست، ہمارے تمام تعلقات اسی وقت کے مرہون منت ہیں۔ ہم جب کسی سے ملتے ہیں تو ہمارا یہ ملنا بھی حقیقت میں کسی کو اپنا وقت ہی دینا ہوتا ہےیا کسی کو اپنے وقت میں شامل کرنا۔

ہماری زندگی کا ایک ایک پل جو ہم صرف کرتے ہیں۔۔۔۔۔نہایت قیمتی ہے۔ آج ہم وقت گزار رہے ہیں اور کل ہمیں اسی گزارے وقت کا حساب دینا ہے۔ اپنی عمر کا حساب دینا ہے ، اپنی جوانی کا حساب دینا ہےکہ کن اعمال اور کن مقاصد کے حصول میں گزاری ۔

 ہمارے مقاصد آج کیا ہیں ؟ ہمارا وقت کن کاموں میں گزر رہا ہے ؟ آج کا نوجوان کانوں میں ہینڈز فری گھسائے گھنٹوں بیٹھا میوزک سنتا ہے۔انٹرنیٹ آن کیے موبائل کی سکرین کو دیکھتے ہوئے گھنٹوں گزار دیتا ہے۔ پوری پوری رات لیپ ٹاپ کی سکرین پر فلمز دیکھتا ہے۔ سحر کے ہونے تک موبائل فون پر باتیں کرتا ہے۔

 کیا ہم نے غور کیا ہے کہ ہماری زندگی کے یہ قیمتی پل کن اعمال میں ضائع ہو رہے ہیں ؟ کیا اس وقت کی واپسی ممکن ہے ؟ کیا زندگی میں undo کی آپشن موجود ہے ؟کیا ہم یوم حساب کو بھول چکے ہیں ؟ کیا ہم کسی بھی لمحے طاری ہو جانے والی موت کے لیے تیار ہیں ؟ کیا موت ہم سے پوچھ کر آئے گی؟

ہماری زندگی ہمارے وقت کا جب Audit لیا جائے گا تو ہم اس وقت کا کیا حساب دیں گے ۔۔۔۔۔ہم نے اس وقت میں کس چیز کو ترجیح اول چنا؟ ہماری زبان جو مخالف سیاسی پارٹیوں یا مخالف افکار کی پوسٹس کو دیکھ کر گالیاں تو بکتی رہی مگر اسے توفیق نہ ملی کہ اس پر خدا کے نام کا ذکر بھی جاری ہو جاتا۔ اس توفیق کا نہ ملنا انسان کی خوش قسمتی ہے یا بد قسمتی ؟ کیا بد قسمتی کا انجام خوش قسمتی ہو سکتا ہے ؟ غور کیجیے۔۔۔۔۔کیونکہ آج غور کرنے کے لیے بھی وقت موجود ہے۔ گھڑی کی سوئیاں جو ہمیں گھومتی نظر آتی ہیں ۔۔۔۔۔ہمارے تمام اعمال کو اپنے اندر سمیٹ رہی ہیں۔

 آج ہمارے اعمال بد بھی وقت کی مٹھی میں بند ہیں پوشیدہ ہیں اس لیے بند مٹھی لاکھ کی ہے، جس دن کھل گئی تو خاک کی ہو جائے گی اور ہمیں خاک آلود کر جائے گی۔

About محمد اویس حیدر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *