Home / شمارہ جون 2018 / ٹیسٹ ٹیوب بے بی (Test Tube Baby)  یا آئی وی ایف(IVF) اسلام کی نظر میں

ٹیسٹ ٹیوب بے بی (Test Tube Baby)  یا آئی وی ایف(IVF) اسلام کی نظر میں

تحریر:راعنہ نقی سید

بانجھ پن ایک بہت ہی  قدیم  مسئلہ ہے  جو ہمیشہ ہی سےلوگوں کے لئے اہم  رہا ہے۔جب سے انسانیت نے ہوش سنبھالا ہے  انسان  اس کے علاج کی تلاش میں کوشاں ہی رہا ۔ کیونکہ انسان کی جبلت میں اولاد کی چاہت اور بقائے  نسل کی خواہش  کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ تقریبًا  8 سے 10 فیصد جوڑوں  کا بانجھ پن کے مسئلے سے واسطہ پڑتا ہے۔ تاہم  جدید اعانتی تولیدی فنون کی ترقی  نے صورت حال کو ڈرامائی انداز میں تبدیل کردیا ہے۔ ان فنون میں شیشے میں بیضے کی بارآوری  یا آئی وی ایف (In Vitro-Fertilization یا IVF)اوررحم  میں تخم ریزی  یا آئی یو آئی (Intra Uterine InseminationیاIUI)شامل ہیں۔ان فنون نے  افزائش نسل  کے عمل کو  جو پہلے میاں بیوی کےدرمیان  ایک نجی  قسم کامعاملہ ہوا کرتا  تھا   ، لیبارٹری   کے ایک مصنوعی تولیدی عمل میں تبدیل کردیا ہے ۔ بانجھ پن کے علاج  کی  ان نئی اقسام نے  ساری دنیا میں ایک  اخلاقی بحث کو جنم دیا ہے۔ خاص کر مسلمان مریض اور اسلامی علماء  یہ سوچنے اور تحقیق کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں  کہ آیا ایسے فنون  اور طریقہ ہائے کار اسلامی طور پر جائز بھی ہیں کہ نہیں۔  یہاںہم ایک عمومی  جائزہ پیش کرنے کی کوشش کریں  گے  کہ اسلامی  فقہاء  آئی وی ایف(IVF)کی  قبولیت اور اس کے استعمال کو کس نظرسے دیکھتے ہیں ۔

شیشہ میں بیضے کی بار آوری (In Vitro Fertilization  یا IVF) کیا ہے؟

آئی وی ایف (IVF)  ایک ایسا عمل ہے جس میں ایک لیبارٹری کے اندر  نطفے کا  بیضے سے ملاپ کروایا جاتا ہے۔Vitro کے لغوی معنی    شیشے کے ہوتے ہیں اور” In Vitro” کا مطلب ہوا”  شیشے میں” یعنی شیشے کی ٹیوب میں ۔  پس اس عمل کے ذریعے   سے پہلے لیبارٹری میں شیشے کی ٹیوب کے اندر نطفے اور  بیضے  کا ملاپ کروایا جاتا ہے۔ جب بیضہ بارآور ہوجاتا ہے  اور  جنین  میں تبدیل ہوجاتا ہے تو اس جنین کو  مزید  نشو و نما کے لئے رحم مادر میں منتقل کردیا جاتا ہے۔ پس اس طریقہ کو مختصر طور پرآئی وی ایف (IVF)  کہا جاتا ہے۔

افزائش نسل انسانی کے بارے میں قرآن وحدیث کی تعلیمات

اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ حیات یا زندگی  کا پیدا کرنا  صرف اور صرف  اللہ تبارک تعالیٰ کی  ایک بلا شرکت غیرے  خصوصی صفت ہے۔ قطع نظر اس کے کہ کوئی کون سا طریقہ یا ذریعہ  استعمال کرتا ہے  اگر اللہ تبارک تعالیٰ بچوں سے نوازنا نہ چاہے  تو کوئی شخص چاہے کچھ بھی کرلے بچہ حاصل کر ہی نہیں سکتا ۔دیکھیے  قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ  ان لوگوں کی جو بانجھ پن کی مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں  کس طرح سے دل جوئی فرمارہے ہیں :

لِّـلّـٰـهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ۚ يَهَبُ لِمَنْ يَّشَآءُ اِنَاثًا وَّيَهَبُ لِمَنْ يَّشَآءُ الـذُّكُـوْرَ۔ اَوْ يُزَوِّجُهُـمْ ذُكْـرَانًا وَّاِنَاثًا ۖ وَيَجْعَلُ مَنْ يَّشَآءُ عَقِيْمًا ۚ اِنَّهٝ عَلِيْـمٌ قَدِيْرٌ

اللہ ہی کے لئے ہے بادشاہی  آسمانوں کی  اور زمین کی۔ پیدا فرماتا ہے جو چاہے۔عطا کرتا ہے جسے چاہے لڑکیاں اور عطا کرتا ہے جسے چاہے لڑکے۔ یا ملا جلا کر دیتا ہے انہیں لڑکے اور لڑکیاں اور کردیتا ہے جسے چاہے بانجھ۔ بلاشبہ وہ ہے سب کچھ جاننے والا اور ہر چیز پر قادر۔(الشورٰی:49-50)۔

 پیارے پیغمبر حضرت محمد  ﷺ کی ایک حدیث مبارکہ اس سلسلے میں ہے:”ہر بیماری کے لئے ایک علاج ہے اور جب علاج کیا جاتا ہے  تو  اللہ سبحان و تعالیٰ کی مشیت سے بیماری  رفع ہوجاتی ہے  “(صحیح مسلم : حدیث نمبر 2204)۔ظاہر ہے  کہ بانجھ جوڑوں کو  اپنے بانجھ پن کا علاج کرانے کی اجازت ہے۔ پس  ہم کہہ سکتے ہیں کہ بانجھ پن  ایک بیماری ہے اور آئی وی ایف(IVF) اس بیماری کا علاج ہے۔ بنیادی  طور پراسلام ہرفرد کو  تمام  جائزذرائع استعمال کرکے  اپنے مسائل کو حل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

مسلم علماء اور آئی وی ایف(IVF)

بہت سے جدید تولیدی(Reproductive) فنون (Techniques) حال  ہی  میں علاج  کے لئے دستیاب ہوئے ہیں۔ قرآن و حدیث میں براہ راست ان کے  بارے میں  کسی خاص   ہدایت کا ذکر نہیں ملتا ، لیکن علماء کرام نے  قرآن وحدیث میں دی گئی ہدایات  کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی  اپنی آراءکو قوی اور صحیح  ثابت کرنے کے لئے    کچھ تشریحات پیش کی ہیں۔ پہلے پہل کچھ علماء کرام نے ان فنون کی مخالفت محض اس بنیاد پر کی تھی کہ یہ   طریقہ کار مشیت ایزدی  میں ایک قسم کی مداخلت ہے۔ لیکن اکثر  اسلامی فقہا   اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ  قرآن صاف طور پر بچوں کو اللہ کا فضل  کہتا ہے ؛اسی طرح  آئی وی ایف (IVF) کا فن اور علم بھی اللہ کے فضل کو ہی ظاہر کرتا ہے۔ پس جب تک  یہ   جائزاسلامی حدود  کے اندر رہتے ہوئے استعمال کیا جائے گا  اس کو ہرگز  مشیت ایزدی  کے خلاف نہیں کہا جاسکتا۔مزید برآں وہ یہ دلیل  بھی دیتے ہیں کہ  بیماری کے علاج کو مشیت ایزدی میں مداخلت نہیں کہا جاسکا۔ پس ٹیسٹ ٹیوب بے بی  ،بانجھ پن  کی بیماری  کے علاج میں محض ایک ذریعہ ہے۔شیشے کے اندر بارآوری  بجائے خود بچہ پیدا نہیں کرتی  یہ محض نطفے اور بیضہ کے ملاپ  کو بار آور ہونے  میں مدد کرتی ہے۔ پس ، آئی وی ایف  تکنیک صرف ان جوڑوں کے لئے ایک آپشن ہے  جن کو استقرار حمل میں  کچھ مشکلات کا سامنا  کرنا پڑتا ہے۔

اسلام خلقیوں (Genes) اور  توارث( یعنی نسل)  کی پاکیزگی   کو قائم رکھنے کا  حکم دیتا ہے اس لئے خلقیوں کی آمیزش   کو روکنا  ایک بنیادی اصول ہے۔  اسلام میں یہ  بے حد ضروری ہے کہ ہر بچہ کی نسبت ایک معلوم باپ اورایک معلوم ماں کی طرف ہونی چاہیے۔اسلام  فرد اور معاشرے  کے  فائدے کے لئے  نئی نئی ایجادات  کی ترویج اور ترقی کی  بھی حوصلہ افزائی کرتا ہے  ۔ تاہم یہ ایسی ترقی کی اجازت نہیں  دیتا  جو انسانیت کے لئے قانونی، اخلاقی اور روحانی مسائل  اور خطرات کو جنم دے ۔ اگر ایک جوڑا بانجھ ہے   تو اس کے لئے   اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ وہ استقرار حمل کے لئے کوئی  جدید  دوائی، علم یا فنون کا استعمال کرے۔ اسلام کے ہر مکتبہ فکر کے علماء اس بات پر  قطعی طور پر متفق ہیں  کہ اگر ایک ہی  منکوحہ جوڑے سے نطفہ اور بیضہ لیا جائے ، پھر اسے مصنوعی طور پر بار آور کیا جائے  اور پھر اسے اسی عورت کی بچہ دانی میں  رکھ دیا جائے تو اس کے صحیح اور  جائز ہونے میں کوئی شک و شبہ  نہیں ہے۔

سنی علما ء کی رائے:

بہت سے معاصر سنی علما  ء نے اس بات  کو تسلیم کیا ہے کہ  اس سلسلہ میں طبی علاج کے تمام طریقوں کی اجازت ہے بشرطیکہ علاج کے دوران” صرف اور صرف ” میاں بیوی ہی شامل ہوں ۔ کسی تیسرے فریق یا بخشیشیے(ڈونر ) کا نطفہ یا  بیضہ استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام نے  زنا  اور ہر اس  عمل  سے منع کیا ہے  جو انسان کو زنا کی طرف لے جائے۔ اسلام نسب  کے تحفظ  اور پاکیزگی پر  بھی بہت زور دیتا ہے۔  پس ظاہر ہے کہ  خاندانی سلسلے میں  کسی تیسرے فرد کو داخل کرنا  نسب  میں مداخلت  ہوگی، اسی لئے   اس کی اجازت نہیں ہے۔کسی تیسرے فرد کا  نطفہ یا بیضہ استعمال  کرنا بچے کی شناخت میں شکوک و  شبہات اور تذبذب پیدا کردیتا ہے۔ اور  اس طرح بچے کے نسب  اور اس کی  شناخت  کو قائم  اور محفوظ نہیں رکھا جاسکتا ۔  اس لئے علاج کی وہ تمام صورتیں  جن میں کسی تیسرے فرد کی مداخلت ہو  مکمل طور پر ممنوع  ہیں ۔چنانچہ تمام علماء  کرام اس بات پر متفق ہیں کہ بانجھ پن کے علاج کی ہر وہ صورت  نا  جائز ہے  جو  ازدواجی تعلق  کی  حدود سے تجاوز کرے۔اگر آئی وی ایف کی  تکنیک کا انتخاب کیا جائے  توعورت  کے بیضہ کی بارآوری  اس کے اپنے  خاوند کے  نطفے سے ہونی چاہیے۔ اور  جنین  کو بیوی کے رحم میں  ہی  منتقل کیا جانا چاہیے۔ ان کی رائے میں ایسے اعانتی تولیدی فنون جو ازدواجی اور جدی رشتوں میں  بگاڑ پیدا کردیں — جیسا   کہ ازدواجی تعلق کے باہر سے  لئے گئے ڈونر بیضے یا ڈونر نطفے، کرایے کی کوکھ، اور منکوحہ جوڑے کے کسی بھی ایک زوج  کی وفات  یا طلاق کے بعد آئی وی ایف  کا استعمال–یہ سب طریقے ممنوع ہیں ۔

جدید مسلمان فقہا اور قانون دانوں نے  شرعی اصولوں کی روشنی میں  اس  مصنوعی طریقہ تولید پر تحقیق کی ہے  اور انہوں نے اس سلسلہ میں اپنی  آراء کا اظہار کیا ہے۔ اب  ہم طبی اعانتی استقرار حمل کے بارے میں سنی   علماء کے موقف کے چند  بنیادی  اور اہم نقاط کو ذرا  تفصیل سے پیش کرتے ہیں۔  یہ نقاط،  بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی   جدہ ](مجمع الفقہ الاسلامی)  ریزولیوشن  نمبر  16(3-4)  اکتوبر  1986[، الازہر یونیورسٹی  کے   بین الاقوامی اسلامی ادارہ برائے پاپولیشن سٹڈیز ا ینڈ  ریسرچ اور  قاہرہ کے دار الافتاء کے فتاویٰ  سے تلخیص  شدہ ہیں:

  • خاوند کے نطفے اور بیوی کے بیضے سے مصنوعی  تخم ریزی  کرنا جائز ہے  یعنی جب نطفہ خاوند سے حاصل کیا جائے  اور بیضہ اسی کی  بیوی  سے حاصل کیا جائے  اور اس کی بارآوری باہر کی جائے پھر جنین کو بیوی کی بچہ دانی میں منتقل کردیا جائے  تو اس طرح پیدا ہونے والا بچہ  اس جوڑے کی  جائز اولاد تصور ہوگی۔
  • یہ طریقہ بھی جائز ہوگا کہ اگر خاوند کا نطفہ لیا جائے  اور اسےاندرونی طور پر  بار آوری  کے لئے  بیوی کی بچہ دانی یا اس کے گریوا (cervix  )یا رحم میں  مناسب جگہ پر  رکھ دیا جائے  بشرطیکہ یہ طریقہ طبی وجوہات کی بناہ پراختیار  کیا جائے اور  عمل درآمد کرنے والا  طبی ماہر  ہو۔
  • چونکہ ازدواجی  زندگی کے دوران   نکاح میاں بیوی  کی درمیان ایک معاہدہ ہوتا ہے  ، پس کوئی  تیسرا فریق ان کے  درمیان  جنسی اور  تولیدکے  ازدواجی وظائف و افعال  میں  دخل انداز نہیں ہوسکتا ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ایسا تیسرا  بخشیشیہ یا  ڈونر ہرگز  قابل قبول نہیں ہوسکتا ، جو  ان ازدواجی وظائف کے لئے اپنا   نطفہ، بیضہ، جنین  یا بچہ دانی  فراہم کررہا ہو۔ اس سلسلے میں تیسرے فریق کا استعمال   کرنا زنا  گردانا جائے گا۔ تاہم اس بارے  میں اختلاف ہے کہ اگر کسی شخص کی دو بیویاں ہوں   اور مسئلہ خاوند کے نطفہ کو ایک بیوی کے بیضے سے ملانے  اور پھر اس جڑکلے(zygote)کو دوسری بیوی کے رحم میں منتقل کرنے  کا ہو۔ کچھ علماء تو اس شرط کے ساتھ اس کی اجازت دیتے ہیں کہ اگر دوسری بیوی اس کی اجازت دے دے تو  جائز ہے ، لیکن کچھ دوسرے علماء  اس کی بھی اجازت نہیں دیتے اور کہتے ہیں کہ یہ  کلی طور حرام ہے  کیونکہ اس کے کئی اخلاقی مضمرات  یا  نقصانات ہیں ۔  عین ممکن ہے  کہ یہ طریق کار اختیار کرنے  کے نتیجے میں    عورتوں کا ایسا ایک گروہ  وجود میں آجائے   جو روپے پیسے کی خاطر بچے کی پیدائش کے لئے عارضی طور پر مردوں کی  بیویاں بن جانے  پر تیار ہوجائیں  اور پھر بچے کی پیدائش کے بعد ان سے طلاق  لےلیں۔
  • طبی اعانتی تولید  کے  کسی ناجائز   طریقے سے پیدا ہونے والے    بچے کو گود لینے کی اجازت نہیں ہے۔ وہ بچہ جو ایک ممنوعہ طریقہ کی پیداوار  ہواس   ماں کی طرف نسبت رکھتا ہے  جس نے اسے جنم دیا ہو۔
  • اگر طلاق کی صورت میں  معاہدہ نکاح ختم ہوجائے یا  خاوند  کی وفات ہوجائے   توسابقہ  بیوی پر آئی وی ایف  کا طریقہ استعمال نہیں کیا جاسکتا  چاہے نطفہ سابقہ خاوند سے ہی  کیوں نہ  حاصل کیا گیا ہو۔
  • زائد جنین کو منجمد کرکے محفوظ تو کیا جاسکتا ہے  تاہم  یہ منجمد شدہ جنین صرف اور صرف   اسی جوڑے کی ملکیت ہوتے ہیں  اور صرف  اسی عورت کو  جس کا بیضہ استعمال ہوا تھا مختلف ادوار میں باری باری کرکے   منتقل کئے جاسکتے ہیں ، لیکن  صرف معاہدہ نکاح کے دوران۔
  • اسلامی  فقہاء جوڑے کو  تاکید کرتے ہیں  کہ کسی دوسرے مرد کے  نطفے  سے   بیضے کی  آلودگی  یا   حادثاتی بارآور ی کے امکان  سے  بچاؤ کے لئے  پوری پوری احتیاط  سے کام لینا چاہیے۔
  • علماء کرام اس نقطہ پر متفق ہیں  کہ اعانتی تولیدی تکنیک سے پیدا  ہونے والابچہ منکوحہ جوڑے کا حقیقی بچہ ہی تصور ہوگا  اور قرآن و سنت میں جو احکامات  وراثت  وارد ہوئے ہیں  وہ سب کے سب اس پر لاگو ہونگے1۔

مختصرًا آئی وی ایف  اصولًا   اسلامی لحاظ سےایک جائز  طریق کار معلوم ہوتا ہے  بشرطیکہ اس میں نکاح  کی حدود  کے اندر ہی رہا جائے۔

آئی وی ایف  سے متعلق کچھ جدید علماء کی آراء

   اسلامی سو سائٹی  برائے شمالی امریکہ  کے سابق  صدر  ڈاکٹر مزمل صدیقی   فرماتے  ہیں : “شیشہ میں بار آوری”آئی وی ایف (IVF)ایک ایسا  نیا حیاتیاتی (Biomedical) طریقہ علاج ہے  جوبچے پیدا کرنے میں  ایسے جوڑوں کی مدد کرتا ہے  جو ایک عام  میاں بیوی کے تعلق   کے ذریعے سے بچے پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔پس”شیشہ میں بار آوری”آئی وی ایف (IVF) جائز ہے بشرطیکہ نطفہ اور بیضہ  ایک ایسے جوڑے سے حاصل کیا جائے جو قانونی طور پر  شادی کے بندھن میں بندھے ہوئے ہوں  اور بیضے کی بار آوری  طلاق یا خاوند کی وفات کے بعد نہیں  بلکہ انکی ازدواجی  زندگی  کے دوران ہی کی گئی ہو2 ۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر ذاکرحسین  نائک  کہتے ہیں ”  مصنوعی تخم ریزی دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک  متجانس (Homogeneous)اور دوسر ی  غیر متجانس  (Heterogeneous)۔ متجانس  کا مطلب ہے کہ نطفہ اور بیضہ میاں بیوی کا ہی لیا گیا ہو۔  اگر  میاں یا بیوی کو کو ئی   طبی مسئلہ در پیش ہو  اور اگر متجانس تخم ریزی کے ذریعے  سے  بچے کی پیدائش ممکن ہوسکے تو  ایسا  کرنا بالکل  جائز ہوگا۔ لیکن غیر متجانس مصنوعی تخم ریزی   جس میں نطفہ کسی  سپرم بینک (sperm bank)سے لیا جائے ، یہ  کلی  طور  حرام ہے۔  جس طرح بلڈ بینک ہوتے ہیں اسی طرح  آج کل سپرم بینک بھی پائے جاتے ہیں ۔ آپ سپرم بینک سے نطفہ حاصل کرکے اسے اپنی بیوی  کے  رحم میں استعمال نہیں کر سکتے۔  یہ بالکل حرام ہے۔  پس متجانس  مصنوعی تخم ریزی جائز ہے اور غیر متجانس مصنوعی تخم ریزی  ناجائز ہے۔  اسی طرح  ٹیسٹ ٹیوب بےبی  وغیرہ  کے معاملہ  میں بھی ۔ اگر فریقین  میاں بیوی ہوں  تو مکمل طور پر جائز  ہےاور اگر  فریقین میاں بیوی نہ ہوں   جائز نہیں ہے۔3

آئی وی ایف (IVF) اور شیعہ علماء

بہت سے  شیعہ مذہبی ارباب اختیار   (Authorities) اکثریتی  سنی نقطہ نظر کی  ہی  حمایت کرتے ہیں :یعنی ان کا بھی یہی کہنا ہے  کہ تیسرے فریق کی بخشیش  (Donation) سختی سے منع ہے۔ تاہم 1999 میں ، ایران کے سابق آیت  اللہ خمینی  کے جانشین  اور  اسلامی  شیعہ برانچ  کے سب سے بڑے فقیہہ  آیت اللہ علی حسین  خمینی  نے  ایک فتویٰ جاری کیا  جس میں  بخشیشی فنون (donor technologies) کو استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی۔   تاہم شیخ خمینی نے نطفے اور بیضے دونوں کی بخشیش(donation) کے   بارے میں صراحت سے بتا دیا کہ  بخشیشیے(donor) اور  بانجھ والدین  دونوں کو ماں باپ  بننے (parenting) کے مذہبی ضابطوں  کی پاسداری کرنا ہوگی ۔بخشیشی بچہ صرف نطفے یا بیضے  کو بخشنے والے سے وراثت پائے گا  اور بانجھ والدین کو  صرف لے پالک والدین سمجھا جائے گا۔ تاہم شیعہ مسلمانوں کی  صورت حال  حقیقت میں اس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے کیونکہ شیعہ حضرات  انفرادی  مذ ہبی  دلیل  پر بھی عمل کرنے کے قائل ہیں  جسے وہ اجتہاد کا نام دیتے ہیں۔ اسی لئے بہت سے شیعہ علماء نے  نطفے اور بیضے کی بخشیش کے بارے میں اپنے انفرادی  اجتہاد سے نتیجہ اخذ  کیا ۔پس اس فتوے نے تیسرے فریق کی بخشیش کے بارے میں   شیعہ علماء کے درمیان بحث کا  ایک ایسا  نیا دروازہ کھول دیا ہے  جس میں کئی سوالات شامل ہو گئے ہیں جیسےکہ:

  • بچے کا نام کس  کی نسبت سے رکھا جائے  اوربے نامی کی بخشیش جائز ہے کہ نہیں؟
  • مزید یہ کہ  شیعوں کے اندر “متعہ کی شادی” (شادی کی ایک عارضی شکل ) کے  رواج نے   مرد کو یہ اجازت دے دی ہے کہ وہ زنا سے بچنے کے لئے تیسرے بخشیشی فریق سے  شادی کرسکتا ہے اگر اس کی پہلی بیوی اس کو اس کی اجازت دیدے۔ ایسی صورت میں تیسرے فریق کی بخیشش (donation)کا کیا درجہ ہوگا۔

اس تمام  ابہام کے ہوتے ہوئے ،  جوشادی شدہ بانجھ شیعہ جوڑےتیسرے فریق سےبخشیش  حاصل کرنا چاہتے ہیںـــ خاص طور پر نطفے کی بخشیش ـــ مذہبی راہنمائی حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں ۔ تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان مشکلات کے باوجود شیعہ دنیا   بشمول ایران اور لبنان،   میں کم از کم کچھ شیعہ جوڑوں نے بخشیشی بیضے ، بخشیشی نطفے اور بخشیشی جنین حاصل کرنے شروع کردیے ہیں  اور ساتھ ہی ساتھ دوسرے بانجھ جوڑوں   کو اپنے  صنفی تخم(Gametes)  بخشنا بھی ۔

آئی وی ایف  کے جوا ز کے  بارے میں چند تحفظات

          کچھ علماء کرام  نے  مصنوعی تخم ریزی کی اباحت  پر   بھی چند اعتراضات کئے ہیں  اگرچہ  وہ منکوحہ جوڑوں کے  ما بین ہی کیوں نہ  ہو ۔ان کا کہنا ہے  کہ  اسلامی لحاظ سے ان فنون کو  استعمال  کرنے میں دو مسئلے ہیں ۔

اول :یہ کہ اس  عمل میں خاوند کا  نطفہ مشت زنی  کے ذریعے سے حاصل کیا جاتا ہے  ، جو سوائے  کسی   انتہائی  ضرورت کے منع ہے۔ پس یہاں بانجھ پن کا علاج کرنے کے لئے  ایک ایسے طریقے کا استعمال کرنا پڑتا ہے جو ناجائز ہے۔  ان کا کہنا ہے کہ بانجھ پن کوئی ایسا  انتہائی طبی مسئلہ نہیں ہے  کہ  جس کی وجہ سے  ایک ناجائزطریقہ  عمل کو  جائز قرار دیا جاسکے۔

دوم :یہ کہ میاں اور بیوی دونوں کو علاج کے لئے  برہنہ ہونا پڑتا ہے   اور اپنے پوشیدہ اعضاء    کو نامحرم  لوگوں  کے سامنے کھولنا پڑتا ہے۔  ان کا کہنا یہ ہے کہ محض  بچہ حاصل کرنے کے لئے اس کی اجازت نہیں ہے۔پوشیدہ اعضاء کا کھولنا  صرف اس وقت جائز ہے جب   اس کی کوئی خاص ضرورت پیش آئے مثلًا جب جان کو خطرہ ہو۔

دونوں اعتراضات کا  جواب یہ دیا جاتا ہےکہ بچہ حاصل کرنے کی خواہش  دراصل ایک بہت ہی اہم مسئلہ  ہے۔ جو لوگ بچے پیدا نہیں کرسکتے  وہ کسی نہ کسی وقت ڈیپریشن اور جذباتی ٹوٹ پھوٹ  کا شکار ہوجاتے ہیں ۔اور بعض اوقات  تو اس کا نتیجہ بدکاری اور  اپنے زوج سے بے وفائی  کی صورت میں نکلتا ہے۔  پس نظریہ  ضرورت کی بنیاد  پر یہ ایک ایسا مسئلہ  ہے جہاں پر  قوانین میں کچھ نرمی اختیار  کرنا پڑتی ہے۔ پس بانجھ پن کا علاج کرنے کے لئے  مشت زنی  کے ذریعے  نطفہ حاصل کرنا  اور اپنے پوشیدہ اعضاء کو کھولنا دونوں جائز ہیں ۔

حوالہ جات

  1. Courtesy: Al-Bar MA, Chamsi-Pasha H. Assisted Reproductive Technology: Islamic Perspective. In: Contemporary Bioethics Islamic Perspective. And Islam Online. http://fatwa.islamonline.net/2363. Accessed July 7, 2016.
  2. https://archive.islamonline.net/?p=1383
  3. https://zakirnaikqa.wordpress.com/tag/test-tube-baby/

About راعنہ نقی سید

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *