Home / شمارہ اگست 2017 / پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ

پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ

پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟ کرپشن یا دہشت گردی ؟معیشت یا عدل کا فقدان ؟اس سوال اور اس کے حل کے لیے ہر طرف اتنا شور ہے کہ کسی کو کوئی سمجھ نہیں آرہی ۔کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی ۔۔۔۔ہر کوئی اپنی ہانکے جا رہا ہے ۔

 کرپشن کے لیے کیسا ہی سخت قانون بنا لیں جتنی بھی پکڑ دھکڑ کر لیں یہ ختم ہونے والی نہیں ۔ جب احتسابی عہدے دار خود ہی کرپٹ ہوں تو کرپشن کیسے ختم ہو

میں نے اس سوال پہ جتنا بھی غور کیا مجھے ان سب مسائل کی ایک ہی بنیادی وجہ معلوم ہوئی

اور وہ مسئلہ ہے ہماری مذہبی لحاظ سے شعوری تربیت کا۔

جب تک ایک انسان کے دل میں اپنے ہر قول و فعل کے متعلق اللہ پاک  کی بارگاہ میں جوابدہی کا احساس پیدا نہیں ہوتا اس وقت تک دنیا کا کوئی بھی قانون اس کا راستہ نہیں روک سکتا ، دنیا کے ہر قانون میں چور راستے تلاش کر لیے جاتے ہیں حتی کہ اسلامی قانون کے نفاظ کے بعد بھی کرپشن ۔نا انصافی و ظلم کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں اس کی مثال ہمسایہ ممالک کے حالات سے اچھی طرح لگایا جا سکتا ہے

 جب تک ہمارا معاشرے کا ہر فرد انفرادی طور پہ خود کواللہ کی بارگاہ میں مکمل جوابدہی کے لیے تیار نہیں کرے گا اس وقت تک یہ دہسشت گردی و بے انصافی اسی طرح ہی جاری رہے گی

کیا کچھ نہیں کیا جا رہا لیکن پھر بھی نتیجہ معنی خیز ۔۔۔

اب آتے ہیں اس مسئلہ کے حل کی طرف۔

کیا موجودہ تعلیم و تربیت ہماری انفرادی و اجتماعی شعور کی مکمل تربیت میں کامیاب ہے؟؟

ہر  محلے میں مسجد موجود ہے ۔ ہر گھر میں ایک عدد حافظ یا عالم موجود ہے ۔بے شمار دینی تحریکیں دن رات ہنگامہ برپا کیے ہوئے ہیں ۔ہر دوسری گلی میں مدارس موجود ہیں ۔الیکٹرانک و سوشل میڈیا پہ ہر وقت تبلیغ و نصائح جاری ہیں ۔ہر رات مختلف دینی جلسوں کا انعقاد ہو رہا ہے روز جلوس نکالے جا رہے ہیں ہر دوسرا شخص مذہبی لباس میں ملبوس ہے اور ہر پہلا شخص واعظ و نصیحت کر رہا ہے ۔۔۔۔ عورتوں کی بھی گھر گھر میں محافل و تربیت کے مراکز ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اس سارے ہنگامے کا مثبت نتیجہ ہمارے سامنے ہے

تو پھر؟

 اس سارے معاملے میں جو میں سمجھ پایا ہوں وہ یہی ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیم و تربیت کے جنتنے بھی مدارس و مساجد و علماء ومذہبی تحریکیں ہیں وہ سب اپنے اپنے فرقے کی اشاعت میں سرگرم ہیں اور مذہب کے مزاج کو سمجھ کر لوگوں کو اللہ کے قریب کرنے کی بجائے اپنی طرف راغب کر رہے ہیں اور اپنے علاوہ دوسروں کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں ۔۔بریلوی حضرات دیوبندیوں کی مساجد میں نماز سے بھی روکتے ہیں اور ان کے ساتھ راہ و رسم کو بھی گستاخی قرار دیتے ہیں ۔۔دیوبندی جوابی حملہ کرتے ہیں اور بریلویوں کو مشرک و بدعتی ہونے کی سند جاری کر رہے ہیں ۔اہلحدیث و شیعہ کا بھی بالکل یہی حال ہے ایک دوسرے پہ تکفیر ۔کوئی غامدی صاحب سے روک رہا ہے تو کوئی دعوتِ اسلامی سے ۔۔کوئی تبلیغی جماعت سے بچنے کی نصیحت کرتا ہے تو کوئی جہادی تنظیم کو کفر وایجنٹ ثابت کر رہا ہے ۔آستانوں والے شیخِ طریقت احباب اپنے اکابر کی ولایت بیچ رہے ہیں ۔ مخلوق کو خالق کے قریب کرنے کی بجائے یہ دستاو جبہ فروش اپنی طرف راغب کر رہے ہیں

ہر کسی کے اپنے اپنے راوی ہیں ۔ اپنے اپنے امام ہیں ۔اپنے اکابر ہیں

ہمیں اس ساری صورتِ حال پہ تسلی سے غور کرنا ہو گا ۔ وقت کے تقاضوں کو سمجھنا ہو گا ۔

 جب تک انسان کا اللہ سے رشتہ محکم نہیں ہوتا ۔ اللہ پاک کی بارگاہ میں جواب دہی کا احساس پیدا نہیں ہوتا ۔ کل بروزِ قیامت نبی کریم روف الرحیم صلی اللہ علیک وسلم کا سامنا کرنے کا احساس پیدا نہیں ہوتا اس وقت تک امن و سکون کے خواب بس خواب ہی ہیں

 جب اسلام دل میں داخل ہو جاتا ہے تو سارے حقوق خود بخود پورے ہوتے جاتے ہیں اسلام سے بڑھ کر فلاحی نظام کوئی نہیں ۔اسلام ہماے الفاظ میں ہے ،  ہماری تحریروں میں ہے ، ہماری تقریوں میں ہے لیکن افسوس ہمارے دل میں ابھی نہیں اترا ، اے اللہ ! ہمارے الفاظ کو تاثیر عطا فرما۔

About سالک وٹو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *