Home / آزادی سپیشل / پاکستان کا مطلب کیا؟؟؟

پاکستان کا مطلب کیا؟؟؟

پاکستان کسی غصبیت ، رہزنی یا وار کا نام نہیں بلکہ یہ حق کی علامت،  وراثت کی شبیہ اور قرار کا نشان ہے۔نظریاتی تفریق ہزار برس اس لئے اجاگر نہ ہو سکی کیونکہ ہندوستان پر مسلمانوں کی حکومت رہی اور اس پر ہندؤوں کا ہزار سال گزارنا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ انہیں بطور رعایا کسی حیل و حجت کا سامنا نہ تھا اور اس کے برعکس مسلمانوں نے ناانصافیوں اور ظلم و جوار کے ان آثار کو چند دہائیوں کی محرومی میں بھانپ لیا زندگی کے ہر شعبے میں مسلمانوں سے سوتیلوں جیسا سلوک اور مذہبی مصلوبیت ہی وہ انگارہ تھا جس نے مسلمانوں کو علیحدہ وطن کی سوچ پر مجبور کر دیا ۔ مسلمانوں کی معیت میں ہزار سال گزارنے کے باوجود جب بعض شدت پسند ہندوؤں کے ہاتھ حکومت کی باگ دوڑ آئی تو انھوں نے انسانیت کے درجے سے ہزار کوس دور کر دیا۔انگریزوں کے ساتھ تخت اقتدار پر فائز انھی لوگوں کے منفی رویے نے دو قومی نظریے کی اہمیت اجاگر کی۔ اس ضمن میں اس اعتراض کے بارے میں وضاحت ضروری ہے کہ جب تک مسلمان حکمران رہے تب تک نظریہ ایک ہی تھا تب نہ کوئی سرسید پیدا ہوا اور نہ ہی کسی ماں نے اقبال کو جنا لیکن جونہی ان کا تختہ الٹا تب دانشوروں کی نہ صرف باڑ آئی بلکہ ہزار سال سے چلا آنے والا متحدہ قومیت کا نظریہ بھی دو لخت ہو گیا؟ دراصل یہ دو قومی نظریہ صد سالہ یا ہزار سالہ نہیں،  بلکہ اول دن سے موجود ہے بس فرق یہ ہے کہ مسلمانوں کے دور حکومت میں  اس کا احساس کم رہا کیونکہ انھیں مکمل آزادی تھی۔ جبکہ بعد میں جب شدت پسند ہندوؤں کو انگریزی تسلط کے سائے میں آزادی ملی انہوں نے مسلمانوں سے وہی آزادی چھین لی  جس سے  وہ ہزاروں سال تک محظوظ ہو رہے تھے۔ اسی تناظر میں اقدام انتہائی ناگزیر تھا کہ ایک ایسی سرزمین ہو جہاں مسلمان قوم کی بقا کی ضمانت ہو۔بس اسی لئے جہد پاک کا آغاز ہوا جس میں ماؤں کی کوکھیں اجڑیں ،باپوں کی کمریں ٹوٹیں ، بچے یتیم ہوئے ، بہنیں بیوہ ہوئیں اور بیٹیوں کی عفتیں تار تار ہوئیں… یہی جبر مسلسل اس دو نظریہ کی ان مٹ نشانی ہے کہ جہاں دو قومیں ایک ساتھ تو رہیں اور وہ بھی سال دو سال چار سال دہائی دو تین دہائی صدی دو صدی نہیں بلکہ دس صدیوں کے باوجود بھی ایک نہ ہو سکیں بلکہ جس طرح متفرق تھیں ٹھیک ویسے ہی الگ الگ دھارے میں بہتی رہیں ۔گو عادات اور رسومات کو گود لیا گیا مگر بنیادیں کبھی بھی مدغم نہ ہوسکیں۔ آج کشمیر کی ستم ظریفیوں سے تو دنیا واقف ہے مگر ہندوستان میں مقیم اقلیتیں خواہ وہ مسلمان ہوں، سکھ ہو یا خود ہندوؤں کا ہی اچھوت طبقہ، سبھی ایک عذاب سے دوچار ہیں  اور شدت پسند ہندوتوا سیاست کے قہر سے محفوظ نہیں۔

یہ نظریہ اگر اہم نہ ہوتا تو لاکھوں مسلمان لقمئہ اجل نہ بنتے۔ تاریخ کے اوراق اگر آج بھی پلٹے جائیں تو  غلبے کی سوچ رکھنے والے بعض ہندو اور سکھ قزاقوں کی رہزنی اور درندگی چنگھاڑتی نظر آتی ہے۔جس طرح وہاں مسلمانوں کے خون سے ناحق ہولی کھیلی گئی اس کی مثال ڈھونڈے نہیں ملتی ۔صرف بہار کے صوبے میں تیس ہزار مسلم خزاں رسیدہ پتوں کی طرح بکھیر دئیے گئے۔مختلف شدت پسند تنظیموں نے نئی دہلی پنجاب اور کاٹھیاواڑ تک خونی فسادات کئے اور بہار مدراس اور بمبئی سے دس لاکھ مسلمانوں کو جبرا گھروں سے نکال دیا گیا۔ کپور تھلہ میں 67 فیصد مسلمان تھے وہاں بھی شب خون مارا گیا بہن بیٹیوں کی عزتوں سے کھیلا گیا بچوں کو اچھال کر نیچے نیزے اور کرپان کھڑے دئیے گئے عورتوں کی چھاتیاں کاٹ پھینکی گئیں۔ یہیں پر بس نہیں جب لاہور اسٹیشن پر ٹرین پہنچی تو سوائے لاشوں کے کچھ نہ تھا یہاں تک کہ ایک بوگی بچوں کے سروں اور عورتوں کے سینوں سے بھری پڑی تھی جبکہ بوگی پر لکھا تھا کہ یہ پاکستان کیلئے عید کا تحفہ ہے۔ سماعتوں کو لرزا دینے والے اور اوسانوں پر برچھے پھیر دینے واقعات أج بھی تڑپا کر رکھ دیتے ہیں۔ یہ پاکستان خلوص ہے ان کا جنہوں نے اپنے شب و روز اس کے حصول میں گزار دئیے جنہوں نے وراثتیں قربان کر دیں جنہوں نے اپنی نسلوں کے خون سے اس کی بنیاد رکھی۔ اگر ہم اب بھی نظریہ پاکستان کی نفی کرنے والوں میں سے ہیں تو ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ یہ لاالہ الااللہ پر حاصل کیا جانے والا ملک کسی لا کو خاطر میں لانے کا قطعا قطعا مجاز نہیں  ہو سکتا اور جنہیں ظلم، تعصب اور عدم برداشت کے رویے سے محبت اور مسلمانوں کے علیحدہ وطن کو ایک ناجائز ریاست قراردیتے ہیں،ان کے ذوق کے تعفن سے اللہ محفوظ فرمائے۔

About کاشف جانباز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *