Home / علمی مضامین / پیسہ اور نئی اکانومی

پیسہ اور نئی اکانومی

سروائول تھیوری ہی سے جڑی ہوئی بات ہے۔ پیسہ۔ دولت اور وسائل۔

کسی نے کہا پیسہ سب کچھ نہیں ہوتا۔ پیسے سے خوشی حاصل نہیں ہوتی۔ پیسہ غم کو مٹا نہیں سکتا۔ پیسہ یہ نہیں کر سکتا۔ پیسہ وہ نہیں کر سکتا۔ پیسہ ہاتھ کا میل ہے۔ اور میل کو صاف کر دینا چاہیے۔ سننے والا مجھ جیسا تھا۔ اطمینان سے سننے کے بعد کہنے لگا  “سر آپ اپنی اگلے مہینے کی تنخواہ مجھے بھجوا دیجیے گا۔ آپ کو نہیں تو مجھے ہی خوشی حاصل ہو جائے گی۔” کہنے کا مقصد یہی ہے کہ دنیا میں آنے کے بعد انسان کے جسم کے لیے جس طرح کھانا ضروری ہے، اسی طرح زندگی میں پیسہ ضروری ہے۔ اس کی اہمیت سے انکار کرنے والا نہ دنیا کی اکنومکل سائنس سے واقفیت رکھتا ہے، نہ ضروریات زندگی کا درست ادراک کر سکتا ہے۔ پاورٹی لائن سے نیچے رہنے والے ملک میں ہماری قوم کی اکثریت توہمات کو سننے اور انہیں قبول کرنے کی اتنی عادی ہے کہ کوئی بھی اسے بے وقوف بنا سکتا ہے۔ کبھی سیاست دان کے روپ میں، کبھی استاد کے روپ میں، کبھی ڈاکٹر کے روپ میں، کبھی انجنئیر اور کبھی مولوی صاحب کے روپ میں۔اس مقام سے ذرا اوپر اٹھ کر دیکھیے۔ ویسٹ تو خیر بہت دور ہے، عرب اور گلف اور آس پاس کے ترقی یافتہ ممالک میں دیکھیں تو ان کی سوشیو سائکولوجیکل بنیادیں بہت مضبوط نظر آتی ہیں۔ اور اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ پیسے کو “بُری چیز” سمجھ کر اپنی سو کالڈ  “Dignity”  کا ایشو نہیں بناتے۔ وہاں پر کسی ریسرچ سائنٹسٹ کو ملنے والا وظیفہ اس کے لیے کوئی طعنہ نہیں ہوتا۔  بلکہ اس کی محنت کا معاوضہ ہوتا ہے۔لیکن ہم معصوم لوگ ہیں۔ ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ پیسہ بری چیز ہے۔ اور نتیجے میں ایک restricting psychology پیدا ہوتی ہے جو معاشرے میں سماجی اور نفسیاتی تناؤ کو مزید بڑھا کر ہمیں دنیا سے کئی صدیاں پیچھے دھکیل دیتی ہے۔

لیکن یہ ساری باتیں میں کیوں کر رہا ہوں؟یہ ساری باتیں کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہماری ہاں یوتھ سے لے کر پچیس اور ستائیس سال کی عمروں میں بھی اکثر لوگ اپنی پریکٹکل لائف میں نہیں آتے۔ بہت سے ایسے ہیں جو ابھی تک گھر والوں کے ساتھ ڈپینڈینٹ ہیں۔ اور مجھے آ کر یہی درس دیتے ہیں کہ ان کے نزدیک پیسے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

ان کے گریبان میں تھوڑا جھانکنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ننانوے فیصد سٹوڈنٹس ہیں۔  یا  وہ لوگ ہیں جنہیں روزگار کی بد ترین ہوا نے ابھی تک چُھوا ہی نہیں ہے۔لیکن میں آپ کو پورا یقین دلاتا ہوں کہ ہماری مذہبی آئیڈیولوجی سے لے کر سوشل ایتھکس تک دنیا کا کوئی قانون بھی آپ کو پیسہ کمانے یا کمانے کے نئے طریقے ڈھونڈنے سے روکتا نہیں ہے۔ نہ اسے برا کہتا ہے۔

نئی دنیا میں معاشی مقابلہ آرائی اور افراتفری کا وہ عالم ہے اگر آپ پیسے کی اہمیت کو اپنی اس نو عمری میں نہیں سمجھتے تو آگے سروائول کے لیے صرف غلامی ہی رہ جاتی ہے۔ باقی رزق کا وعدہ تو اللہ نے کیا ہی ہے۔ لیکن یہ رزق غلامی کی ذلت کا ہوگا یا بادشاہی کی عزت کا۔۔۔؟ یہ آپ کے اوپر منحصر ہے۔

About مزمل شیخ بسمل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *