Home / شمارہ اگست 2016 / پیغامِ حدیث

پیغامِ حدیث

النبي صلى الله عليه و سلم  قَالَ مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ أَدَاءَهَا أَدَّاهَا اللَّهُ عَنْهُ وَمَنْ أَخَذَهَا يُرِيدُ إِتْلاَفَهَا أَتْلَفَهَا اللَّهُ

’’نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا! جو کوئی لوگوں کا مال قرض کے طور پر ادا کرنے کی نیت سے لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی ادائیگی میں اس کی مدد فرمائے گا اور جو کوئی نہ دینے کے لیے لے، تو اللہ تعالیٰ بھی اس کو تباہ کر دے گا۔‘‘ (صحیح بخاری، باب:من أخذ أموال الناس يريد أداءها أو إتلافها ، ج 2،ص841)

مطالبہ حدیث

بے جا قرض لینا   اخلاقی برائیوں کا باعث بنتا ہے۔ضرورت پڑھنے پر  درست نیت سے قرض لیا جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی ادائیگی کے لیے راستے کھول دیتا ہے۔قادر ہونے کے باوجود قرض ادا نہ کرنا ظلم ہے۔ بنا بریں قرض معاف کردینا بہترین عمل اور باعث بخشش عمل ہے۔

متعلقہ احکام

’’اور اگر قرض دار تنگ دست ہو تو کشادگی تک مہلت دو اور اگر بالکل معاف کردو تو  یہ عمل خیر ہے تمہارے لیے‘‘ (سورۃ البقرۃ: 280)

’’ ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک تاجر تھا جو لوگوں کے ساتھ ادھار کا لین دین کرتا تھا،پس جب وہ کسی کو تنگ دست پاتا تو اپنے نوکروں سے کہتا اس کا ادھار معاف کردو ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی  معاف کردے،پس اللہ تعالیٰ نے  اس کو معاف کردیا۔‘‘                 (متفق علیہ)

About مریم نورین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *