Home / شمارہ جولائی 2017 / چند خوبصورت واقعات

چند خوبصورت واقعات

طاہر محمود

 چند دن قبل میرے ایک جاننے والے کا ٹچ موبائل سواریوں والی گاڑی میں رہ گیا۔ انہوں نے کسی سے موبائل لے کر اپنے نمبر پر کال کی تو ڈرائیور نے کال ریسیو کی اور موبائل ایک دکان پر رکھوا دیا۔انہوں نے جا کر وہاں سے لے لیا۔

S میرا اپنا موبائل ایک دفعہ گم ہو گیا تھا۔ دوسرے نمبر سے کال کی تو ایک بندے نے کال ریسیو کی اور جگہ بتائی۔وہاں جا کر ان سے موبائل وصول کر لیا۔

S تقریباً بیس سال پہلے کی بات ہے کہ بارہ تیرہ سال کے تین بچوں کو کھیلتے ہوئے ایک انگوٹھی ملی۔ گھر جا کر دکھائی تو پتہ چلا کہ سونے کی اور اچھی بھلی قیمت کی ہے۔ والدین نے آس پاس کے گھروں میں بات کی تو مالک کا پتہ چل گیا۔ اسے انگوٹھی لوٹا دی۔ ( وہ بچے میں اور میرے دو کزن تھے)۔

S تیرہ سال قبل کی بات ہے کہ میرا کمپیوٹر کا کچھ سامان رکشے میں رہ گیا۔ رکشے والے کو گھر نہ مل سکا تو اس نے وہ سامان اس دکان پر پہنچا دیا جس دکان سے میں نے کمپیوٹر اور سامان رکشے پر رکھا تھا۔

S پچھلے سال میں کالج کے طلباء کے ساتھ ٹور پر اسلام آباد گیا۔ وہاں ایک مسجد میں نماز پڑھی تو ہمارے ایک ساتھی کی تقریباً چالیس ہزار کی قیمتی گھڑی وضو کرتے ہوئے وہاں رہ گئی۔ کافی وقت کے بعد اسے یاد آیا۔ہم فورًا واپس گئے۔ ادھر کسی نے گھڑی اٹھا کر امام صاحب کو دے دی تھی۔ امام صاحب نے ہم سے نشانی پوچھ کر گھڑی ہمارے حوالے کر دی۔

S ایک دفعہ میرا لیپ ٹاپ والا بیگ ایک دکان پر رہ گیا۔ تقریباً پچپن ہزار کا لیپ ٹاپ تھا۔ میں واپس گیا تو دکاندار نے بیگ سنبھال کر رکھا ہوا تھا۔

یہ نمونے کے چند واقعات ذکر کیے ہیں۔ورنہ ہماری زندگیوں میں ایسے بے شمار مثبت واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔لیکن ہماری اکثریت منفی واقعات کی اتنی عادی ہو چکی ہے کہ ہمیں اپنے ملک اور معاشرے میں بکھرے ہوئے ایسے ہزاروں بلکہ لاکھوں مثبت اور حسین واقعات نظر ہی نہیں آتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *