Home / آزادی سپیشل / چودہ اگست۔ تجدید عہد وفا کا دن

چودہ اگست۔ تجدید عہد وفا کا دن

الحمداللہ آج 14اگست 2016 کو ہم 69واں یوم آزادی منانے جارہے ہیں۔اور اِس آزادی پر خوشیاں منانایقینا زندہ وجاوید قوم کی نشانی ہے۔اور کسی  بھی نعمت کاحصول ہوتو اُس پرخوب خوشی کااظہار کرنا قرآن مجید سے بھی  ثابت ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ‘‘

’’اور اپنے پروردگار کی نعمت کا خوب چرچا کرو‘‘             (الضحیٰ:11)

14اگست1947 کو  امت مسلمہ نے جن قربانیوں کے بعد وطن عزیز کو حاصل کیا  ان کی   تابناک داستان سے ہم میں  کوئی بھی ناواقف نہیں۔ آگ اور خون کے دریا سے گزر کر  یہ وطن حاصل کیا گیا۔اور جس مقصد اور بنیادی نظریے کے تحت یہ وطن عزیز حاصل کیا گیا وہ  نظریہ وہ مقصد جو سب کی زبانوں پر سجا ہوا تھا وہ یہ تھا کہ ’’پاکستان کامطلب۔۔۔لاالہ الااللہ‘‘ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم نے اسی نظریہ کو  پس پشت ڈال ہے وہ اسلام جس کے نام پر اس ساری جدوجہد اور قربانیوں کی داستان رقم کی گئی تھیں اپنے ہی گھر میں اجنبی ہو گیا۔ حکومت سے لے کر انفرادی زندگی تک ہر جگہ اسلامی تعلیمات سے روگردانی اور دوری ایک عام روش بن چکی ہے۔

قائد اعظم ؒ نے 6دسمبر 1943 کو کراچی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے 31 ویں اجلاس سے خطاب کے دوران فرمایا:

وہ کون سا رشتہ ہے جس سے منسلک ہونے سے تمام مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں ، وہ کون سی چٹان ہے جس پر ان کی ملت کی عمارت استوار ہے ، وہ کون سا لنگر ہے جس پر امت کی کشتی محفوظ کر دی گئی ہے ؟ وہ رشتہ ، وہ چٹان ، وہ لنگر اللہ کی کتاب قرانِ کریم ہے۔ مجھے امید ہے کہ جوں جوں ہم آگے بڑھتے جائیں گے ، قرآنِ مجید کی برکت سے ہم میں زیادہ سے زیادہ اتحاد پیدا ہوتا جائے گا۔ ایک خدا ، ایک کتاب ، ایک رسول ، ایک امت “

اسی طرح جنوری 1948 ء کو کراچی میں اخبارات کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے قائد اعظم نے ارشاد فرمایا :-

” اسلامی حکومت کے تصور کا یہ امتیاز پیش نظر رہنا چاہیے کہ اس میں اطاعت اور وفا کا مرکز اللہ تعالی کی ذات ہے جس کی تعمیل کا عملی ذریعہ قرآن کے احکام و اصول ہیں۔ اسلام میں اصلا نہ کسی بادشاہ کی اطاعت ہے نہ پارلیمنٹ کی نہ کسی شخص یا ادارے کی۔ قرآن کریم کے احکام ہی سیاست و معاشرت میں ہماری آزادی اور پابندی کی حدیںمقرر کر سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اسلامی حکومت قرآنی احکام و اصولوں کی حکومت ہے “

14 فروری 1948 ء کو قائد اعظم نے بلوچستان میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

” میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات کا واحد ذریعہ اس سنہری اصولوں والے ضابطہ ء عمل میں ہے جو ہمارے عظیم واضع قانون پیغمبر اسلام نے ہمارے لیے قائم کر رکھا ہے۔ ہمیں اپنی جمہوریت کی بنیادیں سچے اخلاقی اصولوں اور تصورات پر رکھنی چاہئیں۔ اسلام کا سبق یہ ہے کہ مملکت کے امور و مسائل کے بارے میں فیصلے باہمی بحث و تمحیص اور مشوروں سے کیا کرو۔”[1]

آج ہم اگر اپنی انفرادی واجتماعی زندگیوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ  ہم نے اپنے قائد ملت کے تمام فرمودات بھلا دیئے ہیں۔ نظریے کی بنیاد پر حاصل کی گئی مملکت نے جب اپنے نظریے سے دوری اختیار کی تو باوجود ظاہری  آزادی کے، غیروں کی ذہنی غلامی کی زنجیریں پہنتی چلی گئی۔ اور آج یہ عالم ہے کہ غیروں کی غلامی میں ہم اس قدر آگے نکل گئے کہ اپنے ملکی مفاد تک کو بالائے طاق رکھ دیا، غربت اور بے روزگاری پر توجہ دینے کے بجائے اپنے بیرونی آقاؤں کی خوشنودی کے حصول میں مگن ہیں۔ جس کے نتیجے میں حالات بد سے بد تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ترقی تو درکنار، مہنگائی اور بے روزگاری تک پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ اور سب سے بڑھ کر امن و امان کی صورتحال اس قدر دگرگوں کہ انسان اپنے گھر میں  بھی محفوظ نہیں۔فیض احمد فیض نے کیا خوب کہا ہے:

یہ داغ‌ داغ اجالا، یہ شب گریدہ سحروہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں

یہ وہ سحر تو نہیں، جس کہ آرزو لے کرچلے تھے کہ یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں[2]

پاکستان کی نوجوان نسل کا سوال ہے:

کہ نظريہ پاکستان اور لا الہٰ الا اللہ کے عہد پر حاصل کئے گئے پاکستان ميں آج ان کے سنہرے مستقبل کو تباہ کرنے کے ليے جو ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہيں، وہ کون لوگ کر رہے ہيں اور کس کی ايماء پر يہ سب کچھ ہو رہا ہے ؟ پاکستان کو بنانے ميں نظريہ پاکستان کا کيا بنيادي کردار تھا؟اور موجودہ حالات ميں جب پاکستان کی  نظرياتي اور جغرافيائی بنیادوں کو تباہ کرنے کے بين الاقوامی منصوبوں  کا انکشاف ہو رہا ہےتونظريہ پاکستان کي اہميت کيا ہے اور اسکیکتنی  ضرورت ہے؟ کيا نظريہ پاکستان کو  معدوم کر دينے کي صورت ميں پاکستان کے قيام کا کوئی جوازرہ جائے گا؟

پاکستان کےعلاوہ دوسرے اسلامی ممالک اپنے نوجوان نسل کی تربیت اور ان میں صحیح اسلامی تشخص کی بیداری کے لیے  بے پناہ کام کررہے ہیں تاکہ ان کی نئی نسل اپنے آباوء اجداد کے عظیم کارناموں سے آگاہ ہوتے ہوئے ان کے نقش قدم پر چل کر  صحیح اسلامی تشخص کی علمبردار بنے۔

آج 69ویں یوم آزادی کے دن امت مسلمہ سے سوال یہ ہے کہ:

کیا یہ وہی پاکستان ہے؟جس کے لیے اتنی قربانیاں دی گئیں،انتے ظلم سہے گیے۔ تصویر کے دوسرے رخ کو دیکھیں تو  کچھ شراب میں دھت کچھ ماں باپ کے نافرمان کچھ دہشت گردوں کے بازو اور ایمان فروش بددیانت کرپٹ  معاشرہ کے ارکان بن چکے ہیں۔کیا یہ وہی پاکستان ہے جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا؟   جہاں آج امت مسلمہ میں غیرت کے نام پر قتل ہوتے ہیں اور   اسلام کی غلط تعبیرات اور فرقہ بندی اور آپس کے تضادات کا شکار ہیں ۔کیا ہم  میں بحیثیت قوم  تحمل برداشت  بردباری  ،جرأت،بہادری شجاعت  ،عدل امانت دیانت ،حیا ، باقی ہے ؟کیا ہم جغرافیائی  سرحدوں کے ساتھ ساتھ اپنی نظریاتی  سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں ؟

 سب کا جواب نفی  میں ہے  یہاں تو خوف ، فتوی بازی انتشار   جھوٹ فساد  کرپشن  ایک دوسرے کو نیچا دکھانا بے حیائی  عریانیت   جھوٹی شان اور   غیرت  قرآن سے دوری بحیثت قوم پائی جاتی ہیں  ۔

آج جشن آزادی مناتے ہوئے ہمیں قائد ملت  کے اس قول پر غور کرنا چاہیے جو انھوں نے 13 اپریل 1948 ء کو اسلامیہ کالج پشاور میں تقریر کرتے ہوئے  ارشاد فرمائے:

” ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا بلکہ ہم ایسی جائے پناہ چاہتے تھے جہاں ہم اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکیں”

آج 69واں یوم آزادی ہم سے تقاضہ کررہاہے کہ!آج  ایک بار پھر اس جذبے اور ولولے کے ساتھ تعمیر پاکستان کے لیے اٹھ کھڑا ہوا جائے جسکا مظاہرہ 14 اگست 1947ء کو کیا گیا تھا ۔ ہم اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھیں زبان،رنگ و نسل ،ذات پات سے بالاتر ہوکر سوچیں کیونکہ صرف تقویٰ و پرہیز گاری ہی بزرگی کی اصل علامت ہے۔

آج کا تقاضا ہم سے یہ ہے کہہم آپس میں مل جل کر رہیںآپس میںتفرقہ کا شکار نہ ہوں اپنے اندر  سے منافقت نکال باہر کریں جھوٹ اور بدعہدی سے بچیں حقوق العباد ،قوانین کی پاسداری اور اپنے ہر اس عمل اور فعل سے جس سے اسلام اور پاکستان بدنام ہوتاہے بازآجائیں۔ آج پاکستان کو ناکام ریاست کہنے والوں کے منہ بند کرنے کیلئے یقیناً ہمیں اپنے قول وفعل سے یہ ثابت کرناہوگا کہ ہم میں نہ تو زبان کی بنیاد پر کوئی اختلاف ہے اور نہ ذات پات کی بنیاد پر اورنہ رنگ و نسل اورقوم قبیلہ کی بنیاد پر۔اپنی قوم کی  تربیت اور قوم کی   صحیح سمت متعین کرنا ہوگی ۔(جب تک ہم ان   اصولوں پر زندگی نہ گزاریں گے   تب تک  یونہی رسوا ہوں گے ۔)

آج ہم کو اپنے جوانوں اور نوجوانوں کو یہ پیغام خود اپنے عمل سے ثابت کر کے دینا ہو گا   خرد کو غلامی سے بھی آزاد کرنا  ہو گا ۔

غرض اوپر بیان کیے گیے پہلوؤں پر توجہ دیں گے تو ہی قائد کی روح کو سکون ہو گا  اور اللہ اور اللہ کا رسولﷺ بھی راضی ہوں گے کیونکہ قرآن اور سنت رسول کو مضبوطی سے تھامنا اور عمل  اور فکر کو بہتر کرنا ہی آزادی ہے ذہنی غلامی اور پستی سے نکل کر ڈٹ کر جینا ہو گا پھر کوئی میلی نظر سے وطن کی طرف نہیں  دیکھےگا اور جو خواب دیکھا تھا علامہ محمدا قبال نے اور جس کی تعمیر قائد نے کی  ہم اس کی تکمیل ہم  تبھی کر سکیں گے ۔

دعا ہے کہ :

                            خدا کرے میری ارض پاک پر اترے                                                                             وہ فصلِ گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

                       خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن

                       اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو

                         ہر ایک خود ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال

                        کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو

                                          خدا کرے کہ میرے ایک بھی ہم وطن کیلئے                                   حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو۔

            احمد ندیم قاسمی

 14 اگست عہد تجدیدوفا کا دن ہے خرد کو غلامی سے آزاد کرنا ہو گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں علم وعمل اوراخلاص کی دولت سے مالامال فرمائے۔اور پاکستان کومزیدترقیاں اورپاکستانی قوم کو ہزاروں آزادیاں منانے کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین

تڑپنے پھڑکنے کی توفیق دے دل مرتضیٰؓ، سوز صدیقؓ دے

خرد کو غلامی سے آزاد کر جوانوں کو پیروں کا استاد کر

جوانوں کو سوز جگر بخش دے مرا عشق، میری نظر بخش دے (علامہ اقبال )

[1]پاکستان بنانے کا مقصد ( افکار اقبال و قائد اعظم کی روشنی میں)” از حکیم سید محمود احمد سرو سہارنپوری

[2]فیض احمد فیض ،صبح آزادی – اگست ،1947

About ڈاکٹر آسیہ رشید

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *