Home / خواتین اسپیشل / چہرے کا پردہ

چہرے کا پردہ

اسلام نے جہاں خواتین کو معاشرے میں باعزت مقام کے ساتھ ساتھ تمام تر شخصی حقوق فراہم کیے ہیں وہیں ان کی حرمت و عفت کی حفاظت کے لیے پردہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ پردہ کی فرضیت سے انکار کرنا کسی کے لیے یوں ممکن نہیں کہ یہ قرآن پاک کا واضح ترین حکم ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ نام نہاد روشن خیالی دور میں آتے آتے علماء کرام نے چہرے کا پردہ فرض ہے یا واجب جیسے موضوع کو لے کر دو مکاتب فکر قائم کر لیے ہیں۔ ایک جماعت چہرے کے پردے کو فرض قرار دیتی ہے اور دوسری واجب۔

حالانکہ یہ اتنا دشوار معاملہ ہرگز نہ تھا کہ اس پر اختلافی مسائل جنم لیتے۔ یہاں چہرے کے پردے کی مخالفت و موافقت میں دیے جانے والے چند اختلافی دلائل کو قرآنی آیات اور احادیث کی روشنی میں بیان کیا جا رہا ہے۔ قرآنی حکم واضح ہے اس لیے اپنی خواہش نفسانی پہ چلنے والا کوئی بھی بندہ اپنی خواتین کے معاملے میں یا بندی اپنے طرزِ عمل کے حق میں بات کرنے والے علماء کی بات مانتے ہیں یا اللہ کے حکم کو اہمیت دیتے ہیں اس کا فیصلہ وہ خود کر سکتے ہیں۔

غلط فہمی کی اصل بنیاد:

چہرے کے پردے کے معاملے میں اصل غلط فہمی ستر اور حجاب کے فرق کو سمجھنے میں پیدا ہوئی۔قرآن پاک میں نازل کردہ حکم حجاب میں چہرے کا پردہ شامل ہے۔ حالت احرام کے علاوہ دوسری تمام حالتوں میں نامحرم افراد کے سامنے نقاب کو خواتین کے لباس کا لازمی جز بنا دیا گیا تھا۔لیکن کچھ علماء نے ستر اور حجاب کو کچھ اس طرح سے گڈمڈ کیا ہے کہ آج فقہ حنفی کا ایک بڑا طبقہ بھی چہرے کے پردے کو واجب سمجھتا ہے، یعنی اگر خواتین چہرہ اور ہاتھ نہ بھی چھپائیں (جو کہ ستر میں شامل نہیں ہیں) تو ان کی دانست میں کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ اس رخصت کے حق میں دلیل یہ دی جاتی ہے کہ چہرہ اور ہاتھ ستر میں شامل نہیں ہیں۔ حالانکہ ستر اور حجاب دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے “المراۃ عورۃ ” یعنی عورت چھپائے جانے کی چیز ہے۔ (ترمذی، حدیث1173) اس پر علامہ ابوالحسن المرغینانی فرماتے ہیں کہ آزاد عورت کے چہرے اور ہاتھوں کے سوا پورا جسم ستر ہے۔

 ستر سے مراد عورت کے جسم کا وہ حصہ ہے جس کا شوہر کے علاوہ کسی اور کا دیکھنا ہرگز جائز نہیں ہے چاہے وہ محرم ہی کیوں نہ ہوں۔ چہرہ اور ہاتھ ستر کے حکم سے خارج ہیں۔ لیکن جب حکم حجاب کی بات آتی ہے تو چہرہ اور ہاتھ (جوکہ ستر میں شامل نہیں ہیں) صرف محرم رشتہ داروں کے سامنے کھول کر آنے کی اجازت دی گئی ہے، غیر محرم افراد سے انہیں چھپانے کا حکم ہے۔ حجاب ستر سے زائد چیز ہے جسے عورت اور غیر محرم مردوں کے درمیان حائل کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ ذیل میں دیے گئے دلائل اور وضاحت ستر کے بجائے احکام حجاب پر ہے۔

دلائل اور وضاحت:

 (قرآن پاک  سے دلائل)

قرآن پاک میں پردہ کے مکمل احکام موجود ہیں (جن میں سے چند کا ذکریہاں کیا گیا ہے)اور اس سلسلے میں قرآن پاک میں تین الفاظ کا تذکرہ کیا گیا ہے؛ الحجاب(پردہ )،الخمار (اوڑھنی) اور جلابیب (بڑی چادریں).

1: سورہ النور میں مسلمان خواتین کے لیے حجاب کے احکام بیان کیے گئے ہیں۔ ایک جگہ آیت 31 کے الفاظ ہیں، “—–اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں بجز اس کے جو خود ظاہر ہوجائے۔”

زینت کا مطلب ہے آراستہ کرنا، خوشنما بنا کر دکھانا، بناؤ سنگھار، آرائش و زیبائش ، خوشبو، فیشنی ملبوسات، زیورات، میک اپ سب اس میں شامل ہیں۔ زینت کی یہ سب قسمیں نامحرم افراد پر ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔ سوائے ان چیزوں کے جو خود بہ خود ظاہر ہو جائیں۔ یہاں قرآن پاک زینت ظاہر کرنے سے روک کر ظاہر ہونے والی چیزوں کے بارے میں رخصت دے رہا ہے۔ ہم سب کو بخوبی علم ہے کہ چہرہ جو کہ خوبصورتی کا اصل معیار سمجھا جاتا ہے اسے چھپایا جا سکتا ہے، یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو خودبخود ظاہر ہوجائے۔ البتہ قدکاٹھ، ڈیل ڈول، اوپر اوڑھی جانے والی چادر، برقع یا جوتوں کا ڈیزائن وغیرہ چھپانا ناممکن ہے۔

 ابن مسعود، ابراہیم نخعی اور حسن بصری کے نزدیک زینت ظاہرہ سے مراد وہ کپڑے ہیں جو زینت باطنہ کو چھپانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ بھی چہرہ چھپانے کی قائل ہیں اور انہوں نے ظاہر ہو جانے والی زینت سے مراد ہاتھ، انگوٹھی، کنگن وغیرہ لیے ہیں۔لیکن یاد رہے کہ یہ وہ زینت ہے جو ظاہر ہو جائے تو اس پر مواخذہ نہیں ہے البتہ ارادتاً یہ بھی ممنوع ہے کہ ہاتھوں کا زیور یا حسن نمایاں کیا جائے۔عورتیں اپنا سنگھار خواہ وہ جسم کا ہو یا متعلقات جسم کا کسی نامحرم پر ظاہر نہ ہونے دیں۔ اس کے تحت ہر وہ چیز آ جاتی ہے جو غیروں کے لیے شوق و رغبت کا باعث ہو ۔پھر اسی آیت میں آگے دوبارہ اپنی آرائش کو ظاہر کرنے سے منع فرمایا سوائےان افرادکے سامنےجنہیں مستثنی کیا گیا ہے۔صاف ظاہر ہے کہ دونوں قسم کی زینت الگ ہے۔پہلی ظاہر ہونے والی زینت  وہ جوہر ایک پہ ظاہرہوسکتی ہے جبکہ دوسری وہ جس سے خواتین خود کو آراستہ کرتی ہیں۔اگراس کا اظہار بھی ہرایک کے سامنے جائز ہوتا تو الگ سے بعض افراد کے استثناکی کوئی ضرورت نہ تھی۔

2: قرآن پاک کی سورہ احزاب آیت 59 میں چہرے کے پردے کا حکم واضح طور پر آیا ہے۔ ترجمہ: “اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے (چہروں کے) اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں۔ یہ قریب تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں۔” جلابیب جلباب کی جمع ہے جس کا مطلب ہے بڑی چادر۔ قرآن مجید کے تمام مفسرین نے اس کا یہی مفہوم بیان کیا ہے کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کا ایک حصہ لٹکا لیا کریں، اور یہی مفہوم گھونگھٹ کا ہے۔ حضرت ابن عباس، علامہ ابن جریر طبری، علامہ ابوبکر جصاص، علامہ نیشاپوری، امام رازی اور قاضی بیضاوی سب اسی مفہوم سے متفق ہیں۔ دور صحابہ سے چودھویں صدی  ہجری کے نصف آخر تک اسی مفہوم پر عمل کیا جاتا رہا کیونکہ عہد نبوی سے ہی خواتین نے اس حکم کی تعمیل میں چہروں پہ نقاب ڈالنا شروع کر دیا تھا۔ اب جو شخص قرآن پاک کے اس واضح ترین حکم سے بھی منہ موڑنا چاہے تو یہ نادانی و ہٹ دھرمی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔

3:  سورہ النور کی آیت 31 میں ہی فرمان باری تعالیٰ ہے؛ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ ۔ ترجمہ،اور اپنے پاؤں زمین پر زور سے نہ ماریں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہو جائے۔

کوئی بھی باشعور انسان سمجھ سکتا ہے کہ پاؤں کے مخفی زیور سے بہکنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے یا کھلے چہرے کے فتنے سے۔قرآن تو پاؤں کے مخفی زیور کی جھنکار  تک کوکسی نامحرم کے کانوں  تک پہنچانے سے منع فرماتا ہے چہ جائیکہ  حسن کا مرکز چہرہ کھلا رکھا جائے۔

اسی طرح اسی آیت میں فرمایا؛ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ۖترجمہ،اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں۔ جب گردن و سینہ ڈھانپنا فرض ہے تو چہرے کے پردے کی فرضیت توبدرجہ اولیٰ ہوگی۔خمار خمر کی جمع ہے جس کا مطلب  ایسی اوڑھنی جس سے عورت اپنا سر ڈھانپتی ہے۔

(احادیث سے دلائل)

چہرے  کے پردے کی موافقت میں بہت سی احادیث موجود ہیں جن میں سے صرف ایک  حدیث(واقعہ افک والی )یہاں مذکور ہے جبکہ چہرے کے پردے کی مخالفت میں جو  احادیث بیان کی جاتی ہیں ان کاجائزہ لیا گیا ہے۔

1-سنن ابی داؤد حدیث نمبر 4104 میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ اسماء بنت ابی بکر باریک کپڑے پہنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپ ﷺنے چہرہ مبارک دوسری طرف پھیر لیا، نیز  فرمایا کہ “اے اسماء! جب عورت بالغ ہو جائے تو درست نہیں کہ اس کی کوئی چیز نظر آئے سوائے اس کے۔”اور چہرے اور ہاتھوں کی طرف اشارہ کیا۔ اس حدیث کا حوالہ دے کر چہرے اور ہاتھوں کو حجاب کے حکم سے خارج قرار دینے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ امام ابوداؤد نے اسے مرسل ہونے کے سبب معطل قرار دیا ہے۔ اس لیے اسے دو وجوہ کی بناء پر ضعیف احادیث میں شمار کیا گیا ہے۔اول یہ کہ خالد بن دریک نے اس روایت کو ام المومنین حضرت عائشہ سے براہ راست نہیں سنا۔ ابو داؤد کے علاوہ ابو حاتم رازی نے بھی اس کے ضعیف ہونے کی یہی وجہ بیان کی ہے۔ دوم یہ کہ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر کو ناقابل اعتماد سمجھ کر ترک کیا گیا ہے۔امام احمد اور دوسرے ائمہ حدیث نے بھی اس بناء پر اسے ضعیف حدیث قرار دیا ہے۔

2- ابوداؤد، ترمذی، مؤطا اور دیگر کتب احادیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں عورتوں کو چہرے پہ نقاب ڈالنے اور دستانے پہننے سے منع فرما دیا تھا۔ اس حکم کو لےکرچہرے کے پردے کے مخالف حضرات چہرہ اور ہاتھ کھلے رکھنے کی دلیل لاتے ہیں۔ حالانکہ ذرا عقل کا استعمال کیا جائے تو صاف ظاہر ہے کہ حالت احرام میں بہت سی حلال چیزیں حرام ہو جاتی ہیں۔ اسی سے پتہ چلتا ہے کہ دور نبوی میں خواتین چہرے کا پردہ اور ہاتھ چھپانے کے لیےدستانوں کا استعمال کیا کرتیں تھیں جو کہ حالت احرام میں ممنوع قرار دیا گیا۔ اس کے علاوہ ابوداؤد ،ابن ماجہ اور مؤطا امام مالک و دیگر احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ ازدواج مطہرات اور عام مسلمان خواتین حالت احرام میں بغیر نقاب کے بھی اپنے چہروں کو اجانب سے چھپانے کی سعی کیا کرتی تھیں۔(سنن ابی داؤد۔1833)

3- ایک دلیل نماز عید کے موقع پر حضرت جابر کے حوالے سے بیان کی جاتی ہے۔ (صحیح مسلم ، صلاۃ العیدین حدیث نمبر2048 )جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کی جماعت کو وعظ و نصیحت فرما رہے تھے ، “اے عورتوں کی جماعت!صدقہ کیا کرو کیونکہ جہنم کا زیادہ تر ایندھن تم (عورتیں) ہی ہو۔اس پر عورتوں میں سے ایک بھلی سیاہی مائل رخساروں والی عورت نے کھڑے ہو کر پوچھا،۔۔۔۔۔۔” اس روایت کے پیش نظر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اگر اس خاتون کا چہرہ کھلا نہ ہوتا تو حضرت جابر کو اس کے رخساروں کی رنگت کا علم کیسے ہوتا۔ اس حدیث مبارکہ کو لے کر علماء کرام میں اتنے اختلافات ہیں کہ صحیح صورت حال پر تبصرہ کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔یہ واقعہ حکم حجاب کے نزول سے پہلے کا ہے یا بعد کا، کچھ کہنا مشکل ہے کیونکہ نماز عید 2 ہجری سے چلی آ رہی ہے جبکہ سورۃ الاحزاب جس میں پردے کے احکام دیے گئے ہیں،5 یا 6 ہجری کو نازل ہوئی۔ اس بات کا علم بھی نہیں ہے کہ وہ کس عمر کی خاتون تھی کیونکہ معمر خواتین جنہیں نکاح سے رغبت نہیں ہوتی انہیں چہرہ کھلا رکھنے کی اجازت ہےنیز لونڈیاں بھی عمومًا  کھلے چہرے سے پھرا کرتی تھیں۔قابل غور بات یہ ہے کہ اس  واقعہ کو حضرت جابر کے علاوہ حضرت ابوہریرہ، حضرت عبداللہ ابن مسعود، ابن عباس،ابن عمراور ابو سعید خدرینے نے بھی بیان کیا ہے مگر ان میں سے کسی نے بھی ‘میلے رخسار’ یا ‘سیاہی مائل رخسار’ کا لفظ استعمال نہیں کیا۔اس لیے غالب امکان ہے کہ حضرت جابر اس خاتون سے پہلے سے واقف ہوں ۔اس سلسلے میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ فقہ میں ایک اصول ہے کہ جس روایت کی تشریح میں احتمال ہوتو  استدلال کر کےاسے بطور دلیل استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

بے پردگی کو رواج دینے کے خواہشمند افراد اس حدیث پر سارا زور بیان صرف کرنے میں اتنے مشغول نظر آتے ہیں کہ وہ واقعہ افک والی صحیح حدیث کو زیر بحث لانا بھول جاتے ہیں جس میں لشکر کی روانگی کے بعد گمشدہ اشیاء کو دیکھنے کی غرض سے پیچھے رہ جانے والےحضرت صفوان بن معطل اس جگہ پہنچے جہاں حضرت عائشہ صدیقہ اپنا ہار تلاش کرنے میں ناکام رہ کر لشکر کی واپسی کے انتظار میں سو گئیں تھیں تو انہوں نے ایک سوئے ہوئے انسان کا سایہ دیکھا۔صحیح بخاری حدیث نمبر 4141 کے مطابق حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ جب انہوں نے مجھے دیکھا تو پہچان گئے کیونکہ پردہ کا حکم نازل ہونے سے پہلے وہ مجھے دیکھ چکے تھے۔جب وہ مجھے پہچان گئے تو انا  للہ پڑھنا شروع کیا اور ان کی آواز سے میں جاگ اٹھی اور فوراً اپنی چادر سے میں نے اپنا چہرہ چھپا لیا_____” یہاں عربی میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ “وجھیی جلبابیی” کے ہیں جس کا مطلب ہی چادر یا جلباب سے اپنا چہرہ چھپانا ہے۔ اب اس حدیث کو نظر انداز کیوں کر دیا جاتا ہے، یہ بات سمجھ سے باہر ہے۔ اس سے واضح اورصحیح روایت کیا ہوگی جس میں صاف بیان ہے کہ اس موقع پر چہرے سے پردہ ہٹنے کے باعث حضرت صفوان نے انہیں پہچان لیا کیونکہ وہ پردہ کی آیات کے نزول سے قبل انہیں دیکھ چکے تھے۔ حکم نازل ہونے کے بعد تو حضرت عائشہ و دیگر خواتین چہرے کا پردہ کیا کرتیں تھیں۔ اور بات صرف امہات المومنین کے لیے مخصوص نہیں ہے۔ چونکہ وہ تمام مسلمان خواتین کے لیے نمونہ ہیں تو انہی کا طرز عمل اپنایا جائے گا، نہ کہ مخصوص حالات میں کسی ادنیٰ درجے کی خاتون کے چہرہ کھلا ہونے کو دلیل مانا جائے گا۔ نیز یہیں سے ان بہنوں کے اعتراض کا جواب بھی دیا جا سکتا ہے جن کا ماننا ہے کہ پردہ تو دل کا ہوتا ہے۔ انہیں سمجھنا چاہیے کہ امہات المؤمنین اور صحابہ کرام سے زیادہ صاف دل اور نیک نیت کون ہوگا؟ مگر پھر بھی انہیں تلقین کی گئی  کہ کچھ بھی مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگو، یہ حکم بھی قرآن میں مذکور ہے،یہ بھی چہرے کے پردے کی واضح دلیل ہے۔

اس کے علاوہ صحیح احادیث میں پردے سے متعلق مزید روایات بھی موجود ہیں جن سے صاف ظاہر ہے کہ چہرے کا پردہ دور نبوی سے ہی امہات المومنین اور عام مسلمان خواتین میں رائج تھا۔ ضرورت کے وقت تو شریعت بھی خواتین کو چہرہ کھولنے کی اجازت دیتی ہے جیسے علاج معالجہ یا گواہی کے موقع پر۔ لیکن خود سے اللہ کے کسی حکم کو اپنی خواہشات کے مطابق ڈھال کر عمل کرنا اور دوسروں کو بھی اس پہ عمل کی دعوت دینا خدائی غضب کا سامان ہوسکتا ہے۔ ایک سادہ سی مثال لیجیے کہ نکاح سے پہلے متوقع زوجین کو ایک دوسرے کو دیکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اگر چہرہ پہلے سے ہی کھلا ہے تو یہ دیکھنا کیا معنی رکھتا ہے؟ یہاں دیکھنے سے مراد چہرہ دیکھنا ہی ہے، جو کہ عام حالات میں اجنبی افراد سے چھپایا جاتا ہے ،نہ کہ جسم مراد ہے۔ پردہ مسلمان خاتون کی عفت و عصمت اور عزت و وقار کا معاملہ ہے لیکن چہرے کے پردے کو اختلافی موضوع بنا کر پردے کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر تمام مسلمان خواتین روشن خیال علماء کے اجتہاد پہ عمل کر کے منہ کھولے پھرنا شروع کر دیں تو اندازہ لگائیں کہ وہ کس طرح اجنبی لوگوں کی آنکھیں سینکنے کا باعث بنیں گی کیونکہ اب ایسے افراد تو ہمارے معاشرے میں پائے نہیں جاتے جو خواتین پر نظر ڈالنا حرام سمجھیں گے۔ باوجود اس کے کہ سورہ النور آیت 30 میں خواتین سے پہلے مردوں کو “غض بصر”  یعنی نگاہیں پست رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نگاہ اٹھا کر چہرہ ہی دیکھا جاتا ہے اسی لیے جب دوسرے نمبر پر خواتین کو پردے کا حکم دیا گیا تو اپنے چہرے پر چادریں لٹکانے کوکہا گیا۔

چونکہ انسانی فطرت میں ذوق جمال اور صنفی کشش رکھی گئی ہے لہٰذابدنگاہی کا پہلا تیر عورت کے چہرے پر ہی جا کر گڑتا ہے کیونکہ چہرہ ہی عورت کے حسن کا اصل مرکز ہے۔اسی سے فتنوں کا آغاز ہوتا ہے، اس بات سے انکار ممکن ہی نہیں ہے۔جو حضرات چہرے کے پردے کے قائل نہیں ہیں ان کا ماننا ہے کہ جب فتنے کا خوف ہو تو ہاتھ اور چہرہ چھپانا چاہیے،اب کوئی یہ پوچھے کہ جو چیزفرض ہے اس کو حالات کی رعایت دے کر ساقط کرنا کہاں کا انصاف ہے۔فقہاءشوافع جیسے اما م الحرمین جوینی،امام ابن رسلان،امام موزعی جیسے مشہور فقہاءکی رائے ہے کہ:

” فتنے کا خدشہ ہو یا نہ ہو،عورت کے لیے غیر محرم کے سامنے چہرہ کھولنا جائزنہیں ہے“۔(روضة الطالبین:7/27)

 تو ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین پردہ کرنے میں رضائے الہٰی کا حصول اور حکم رسول کی بجاآوری کو پیش نظر رکھیں۔ روز آخرت قرآن کریم کی روشنی میں اعمال کو پرکھاجائے گا نہ کہ کسی عالم کے دیے گئے روشن خیال اسلامی فتوے سے۔

سحر شاہ

About سحرشاہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *