چیلنج

آج کے دور میں   اپنے عقیدے پر قائم رہنا اور اس کا دفاع کر سکنا بہت بڑی دولت ہے، اگر انسان سمجھ سکے تو کہ جہاں دیگر مسائل ہیں وہاں ایک مسئلہ ایسا بھی ہے جس نے ہمارے معاشرے کے ایک مخصوص طبقے جس میں ایک بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے، کو اپنے اثر میں جکڑنا شروع کیا ہے۔ یہ مسئلہ ایسا نہیں کہ سیاق و سباق کے بغیر آپ کو اس کا ادراک ہو سکے۔

آج کے دور نے رابطوں کو ایک نیا معنیٰ دے دیا ہے۔ آج کوئی بھی کہیں بھی کسی سے رابطہ میں رہ سکتا ہےبشرطیکہ وہ سوشل میڈیا پر موجود ہوں ۔ لیکن جہاں انٹرنیٹ پر ہر قسم، مذہب، عقیدے کے لوگ موجود ہیں وہاں  ہمارے مسلمانوں نے اپنے عقیدے کے ہی اثبات کے لیے ٖصرف اپنے مخصوص طبقے یا مسلک کے نظریات سے ہی استفادہ کیا ہوتا ہے۔  اس لیے جب بھی کوئی عام مسلمان کوئی ایسی چیز جو اس کے مسلک یا بنیادی عقیدے کے خلاف لکھی یا سنی جاتی ہے تو وہ آگ بگولہ ہوجاتا ہے۔ کچھ ہی ایسے ہیں جو سنجیدگی سے ان سوالوں کا جواب تلاش کرتے ہیں مگر اس میں عام طور پر انہیں ناکامی ہی ہوتی ہے کیوں کی اسلام کے خلاف جو بھی لکھا گیا ہے، اس کا جواب بہت کم دیا جاتا ہے۔ ہمارے مذہبی طبقہ کے افراد اس طرح کی چیزیں پڑھنا پسند نہیں کرتے ہیں۔ اگر کوئی پڑھ بھی لے تو لکھتا نہیں ہے اور اگر لکھ بھی لے تو بہت ہی کم اس قابل ہوتے ہیں جو عصری علوم پر دسترس رکھتے ہوئے ان کا جواب دے سکیں۔

اس حقیقت کا ادراک بہت کم لوگ کرتے ہیں کہ ہم نے اسلام کا علم اٹھایا ہوا ہے، ہم جواب نہیں دیں گے تو کوئی باہر سے آ کر جواب نہیں دے گا یہ ہمارا ہی کام ہے، ہماری ہی ذمہ داری ہے اس لیے اسلام ، قرآن، محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وغیرہ کے خلاف جو سوالات پیش کیے جاتے ہیں، ان کے جوابات ہمارے ذمہ ہیں۔ اس کے لیے ہمیں عصری علوم کے ماہر درکار ہیں۔ مذہب، فلسفہ، زبان، بیان، لسانیات، سائنس، حسابایات کے ماہرین درکار ہیں۔ ان کی نظر تاریخ پر بھی ہو تب ہی وہ اس قابل ہو سکیں گے کہ ایسے سوالات کا سیاق و سباق جان سکیں اور ان کا جواب دے سکیں۔

اگر ہم ان سوالوں کو درخواعتنا نہیں سمجھتے، کنویں کے مینڈک کی طرح آنکھیں بند کیے رکھتے ہیں تو یاد رکھیے تمام تر مواد انٹرنیٹ کی بدولت ہر کسی کی دسترس میں ہے۔ ایسے سوالات ہمارے پڑھے لکھے اذہان کو متاثر کر رہے ہیں اور اس میں کامیاب بھی ہو رہے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ اس میں اضافہ ہوا جا رہا ہے آپ بےشک اس میں پھر سوشل میڈیا پر پابندیاں لگاتے پھریں۔ ہمارے پاس بھی صرف نعرے لگانے والے رہ جائیں گے، سوچتا، محسوس کرتا، جاگتا ذہن دور چلا جائے گا۔

 ہمارے علماء، دانشوروں کو اس مسئلہ کی اہمیت کو سمجھنا ہو گا، ایسے سوالات سے گھبرانا نہیں چاہیے، آگے بڑھ کر ان کا سامنا کریں۔ ان کی بات تو سنیں وہ کہہ کیا رہے ہیں؟ یاد رکھیے ہمارا عقیدہ، نظریہ کوئی لمحاتی نہیں بلکہ صدیوں پر مشتمل ایک تحریک ہے جو ہر چیلنج کا جواب دیتی آئی ہے اور دے گی بھی ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسے افراد کی ایک کھیپ مہیا کی جائے جو اس ضمن میں کام کریں اور اپنی نسل کے ذہین، پڑھے لکھے لوگوں کے اذہان کو منتشر ہونے سے بچانے کے لیے آگے آئیں اور تحقیق میں نئی داستانیں رقم کریں۔

About ڈاکٹر فہد چوہدری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *