Home / شمارہ فروری 2018 / کائنات: قسط نمبر 9

کائنات: قسط نمبر 9

تحریر:    ڈاکٹر فہد چوہدری

قسط ۔9

نظام شمسی

سولر سسٹم یا نظام شمسی اس نظام کا نام ہے جس میں ہم موجود ہیں۔ ہماری کہکشاں ملکی وے ہے جس کے اربوں ستاروں میں سے ایک ستارہ سورج ہے۔ جی ہاں ! وہ ہی سورج سے ہم روز دیکھتے ہیں۔ اس سورج کے گرد کچھ سیارے، شہابیے، چٹانیں اور دیگر اشیاء چکر لگانے میں مصروف ہیں۔ اس سارے مربوط نظام کو نظام شمسی کا نام دیا گیا ہے۔

اس نظام کی عمر ۵۶۸.۴ ارب سال ہے۔ اس کا پتہ ہے کہ یہ ملکی وے گلیکسی کے اورائین۔سیگنس بازو میں پایا جاتا ہے۔ ہمارے ستارے یعنی سورج سے قریب ترین ستارے ۲۲.۴ نوری سال اور ۳۷.۴ نوری سال کے فاصلے پر موجود ہیں۔ہمارے سولر سسٹم میں بنیادی طور پر:

۔ ایک ستارہ

۔ نو ستارے

۔ پانچ سیارچے یا بونے سیارے

۔ ۴۷۰ قدرتی سیٹیلائیٹس( چاند وغیرہ)

۔ ۶۶۴،۷۰۷ چھوٹے یا اصغر سیارے

۔ ۴۰۶،۳ شہابیئے اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔

اب اگر یہاں کچھ فاصلوں کی بات ہو جائے۔ ایک خلائی پیمانہ یا یونٹ ( اسٹرونامی کل یونٹ) وہ فاصلہ   ہے جو سورج اور زمین کے درمیان ہے۔ اسے اے۔یو سے ظاہر کہا جاتا ہے۔ ایک اے ۔یو ۱۵۰ ملین کلومیٹر یا ۹۳ ملین میل کے برابر ہے۔ اب ان فاصلوں کو ذہن میں رکھئے۔ سیاروں سے پرے بالخصوص نیپچون سے پرے کا علاقہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ نظام شمسی میں سورج سے نیپچون تک کا فاصلہ صرف تیس اے۔یو کا ہے۔ تیس سے ۱۵۰۔ ۱۰۰ اے۔ یو تک کے فاصلے میں کائپر بیلٹ       اور سکیٹرڈ ڈسک ( بے ترتیبی پلیٹ)پائی جاتی ہے۔ اس پلیٹ کے اختتام پر اورٹ کلاوڈ شروع ہو جاتا ہے جو پچاس ہزار سے ایک لاکھ اے۔ یو پر مشتمل ہے۔ ابھی ہم مریخ کے بارے میں ہی صحیح طور پر نہیں جان پائے اور ہمارا پورا نظام شمسی تو بہت دور کی بات ہے۔ اس وقت جس وقت میں یہ سطریں تحریر کر رہا ہوں اس وقت انسان اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ اگر ایسے ہی انسان زمین کے وسائل استعمال کرتا رہا تو اس صدی کے اختتام تک انسان کی تباہی میں کوئی شک نہیں رہ جائے گا۔ اس چیز کو ذہن میں رکھتے ہوئے انسان کو دوسرے سیاروں پر بسانے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ یہ دیوانے کا خواب اب ایک حقیقت میں بدلنے لگا ہے۔ ایلون مسک اور اس جیسے لوگوں نے بین السیارہ یعنی سیاروں کے مابین پرواز کے لیے لوگوں کی بکنگ بھی شروع کر دی ہے۔ آج انسان اس دقت پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے کہ کیسے سات ماہ کاسفر کرنے کے بعد راکٹ کو مریخ کی سطح پر سیدھا اتارا جائے۔ آج اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ کیسے پانی، آکسیجن، سولر پینل، پاور پلانٹ انسان کے مریخ پر اترنے سے قبل ہی مریخ کی سطح پر اتارے جائی؟ مریخ تو صرف سات ماہ کا سفر کر کے پہنچا جا سکتا ہے باقی کائنات کی بات کریں تو اس کی وسعتوں کا ذکر کر کے ہی انسان چکرا جاتا ہے، سوچ میں پڑ جاتا ہے، اتنی وسیع و عریض کائنات؟ ابھی تو یہ ایک نظام کی بات ہو رہی ہے۔ اس نظام کی جس میں ہم خود رہتے ہے، اس کو کھنگالنے کی ہمت اپنے اندر نہیں پاتے لیکن امید کرتے ہیں کہ اگر نفرتوں کے گرداب سے نکل کر ہم انسان اگر ایک ہو گئے تو وہ دن دور نہیں جب ہماری منزلیں نہ صرف اس نظام بلکہ اس کائنات سے بھی پرے ہوں گی۔

اگر ہم نظام شمسی کی حدود کا ذکر کریں تو یہاں یہ ذکر دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ اس کے بارے میں ہماری معلومات ابھی محدود ہیں ۔ ایک رائے کہ مطابق سورج کی کشش کا اثر ایک لاکھ پچیس ہزار اے۔ یو تک محسوس کیا جا سکتا ہے لیکن ہماری مشکل یہ ہے کہ ہمیں ابھی اورٹ کلاوڈ کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں لیکن ہو سکتا ہے کہ وقت کے ساتھ بہتر اور واضح صورتحال سامنے آجائے۔

About ڈاکٹر فہد چوہدری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *