کائنات

تحریر:ڈاکٹر فہد چوہدری

زمین

پروٹیرو زوئیک   ای اون۔۔۔ Proterozoic Eon

ڈھائی بلین سال سے لےکر ۵۴۲ ملین سال قبل  پر محیط اس عرصہ کے نام  کا  مفہوم ایک لحاظ سے دلچسپ ہے۔ اسکی تاریخ  کچھ اس طرح ہے کہ یہ یونانی زبان سے ماخوذ الفاظ پر مشتمل ہے۔ یہ دوالفاظ پر مشتمل ہے ۔ ان میں ایک پروٹیرہو اور دوسرا ز وئک  ہےجس میں سے پہلے کا مطلب ہے قبل، قدیم، پہلے  اور دوسرےکامطلب ہے جاندار  یعنی اس نام کا مطلب ہوا کہ جانداروں سے پہلے کا عرصہ۔   اگر ہم تکنیکی  طور پر بات کریں  تو  جاندار کی اصطلاح کی رو سے جاندار اس دور میں بھی بستے تھے لیکن جن معنوں میں  ایک عام آدمی جانداروں کو لیتا ہے یہاں بھی انھی معنوں میں اس کو سمجھا گیا ہے۔

اس دور کے مزید تین ذیلی ادوار ہیں جو

 Paleoproterozoic

Mesoproterozoic

Neoproterozoic

کے نام  سے جانے جاتے ہیں۔اب آتے ہیں  اس دور کی کچھ جھلکیوں پراس دور میں   خشکی کے بڑے قطعات مستحکم طور سے جمنے لگ گئے تھے لیکن زمین ابھی بھی اندرونی طور پر ایکٹو تھی جس کے باعث جھٹکے اور ان بڑے قطعات کا ٹکراو ایک ناگزیر  بات تھی۔ ۔

زمین کی فضا آکسیجن سے بھر چکی تھی۔ زمین کی فضا اب ایسے جانداروں کے لیے سازگا ہوچکی تھی جو آکسیجن پر زندہ تھے۔

سائنو بیکٹیریا ترقی پا  کر اپنے نظام کو بہتر کر چکا تھا۔ اس  دور میں یوکیری اوٹس  پھلنے پھولنے لگ گئے تھے۔  یہ وہ جاندار تھے جوا یک خلیے یا سنگل سیل سے ایک درجہ آگے ہیں۔ ان میں  ایک بڑا فرق یہ ہے کہ ان میں موجود  عضوی خلیوں پر جھلی تھی ۔ یہ پروکیری اوٹس ایک خلیے پر بھی مشتمل ہو سکتے ہیں اور زیادہ خلیوں پر بھی مشتمل ہوتے ہیں۔ اسی دور میں  کمپلیکس سیل پر مشتمل زندگی کا آغاز ہوا۔ اس دور کے شواہد امریکہ، کینیڈا وغیرہ میں بکثرت ملتے ہیں۔

اس دور میں ہی گلیشئیر بننے کا عمل شروع ہوا۔ اس ضمن میں ایک اصطلاح سنوبال ارتھ استعمال کی جاتی ہے۔ پوری زمین برف سے ڈھک گئی تھی اور برف کا ایک سفید گولہ دکھائی دیتے تھی۔ ایسا اچانک کیوں ہوا۔ اس بارے میں ابھی تک حتمی رائے نہیں ہے۔ کچھ تھیوریاں اس ضمن میں دی جاتی ہے لیکن ان سے آپ کو بور نہیں کروں گا۔ یہ برف پر محیط عرصہ ہی ہے جو پہلا آئس ایج سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح کے آئس ایج  جو آج سے صرف چند ہزار سال قبل رونما ہوا تھا اور زمین کے ایک بڑے حصے کو برف سے ڈھک دیا تھا، ہالی وڈ ایک دو فلمیں بنا چکا ہے جن میں سے  ۱۰۰۰۰ بی سی اور آئس ایج ہی کے نام سے مشہور انیمیٹیڈ سیریز   شامل ہیں۔ اس دور کے اخیر تک چار بڑے بڑے گلیشئیر وجود میں آچکے تھے۔ اس دور کی برف کے ذخائر آج بھی کینیڈا کے کیوبیک اور اونٹاریو صوبے کے برفیلے پہاڑوں میں موجود ہیں اور یہ ذخائر تین ہزار میٹر  یعنی نو ہزار فیٹ سے زائد پر مشتمل ہیں۔


 

About ڈاکٹر فہد چوہدری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *