Home / علمی مضامین / کائنات

کائنات

وقت ۱ * ۱۰-۳۵

یہ وہ وقت تھا جب  مادہ اور توانائی نے الگ الگ ہونا شروع کر دیا۔  اس عمل کو بیریوجینسس کا نام دیا گیا ہے۔ اس عمل کے وقت مادہ اور نفی مادہ برابر تعداد میں موجود تھے۔

وقت ۱* ۱۰-۱۱

آج ہم اس قابل ہو چکے ہیں کہ اس دور کے بنیادی عوامل کو اپنی تجربہ گاہوں میں آزمائش کی کسوٹی پر پرکھ سکیں۔  اس وقت میں ہونے والے عوامل کی ہم کچھ کچھ سمجھ رکھتے ہیں اور ان کو اپنی تجربہ گاہوں میں آزما چکے ہیں۔ اس وقت بنیادی قوت کے حصے بخرے ہونا شروع ہو گئے تھے۔ فوٹان کی کثرت تھی۔ فوٹان روشنی کی بنیادی اکائی ہے۔  لیکن کائنات میں اس وقت بھی اس قدر کثافت تھی کہ روشنی کی چمک اس کی کثافت کے باعث ماند پڑ گئی تھی ۔ دوسرے لفظوں میں روشنی تھی مگر کثافت کے باعث ہر طرف اندھیرا تھا۔

وقت اعشاریہ ایک سیکنڈ

یہ وہ وقت ہے جب کائنات نے پھیلنا شروع کر دیا۔ اس کے پھیلنے کے باعث اس کا درجہ حرارت گرنا شروع ہو گیا۔  وجود میں آنے کے بعد کائنات کیوں کے کثیف تھی جس کے باعث اس کا درجہ حرارت حد سے زیادہ گرم تھا۔ اس کے پھیلاو نے اس کے درجہ حرارت کو کم کرنے میں مد د دی۔ اسی اثنا میں  سب اٹامک پارٹیکلز جو بیریو جینسس کے وقت وجود میں آگئے تھے انھوں نے ایک دوسرے سے ملنا شروع کر دیا۔ ان کے ادغام سے نیوٹران اور پروٹان وجود میں آئے۔ آج سائنس کا ادنیٰ سا طالب علم بھی نیوٹران اور پروٹان کے بارے میں واقفیت رکھتا ہے۔ اگر زیادہ نہیں بھی جانتا  تو اس نے کم از کم ان کے نام سن  رکھے ہیں۔ میری کوشش بھی اس مضمون میں حتی الوسعیٰ یہ ہی رہی ہے کہ آسان اور سہل زبان میں سائنس کے پیچیدہ مضمون کو پہنچاوں، اگر اس کے نتیجے میں ایک شخص بھی سائنس کی طرف راغب ہوا تو میرا  انعام یہ ہی۔   اگلی بار سیکنڈ کے سفر کو پورا کریں گے۔  اللہ ہمارا، آپکا ، سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

About ڈاکٹر فہد چوہدری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *