کائنات

وقت اعشاریہ ایک سیکنڈ

جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے کہ نیوٹران اور پروٹان بننا شروع ہو گئے تھے۔ جونہی یہ ایک سیکنڈ مکمل ہوا یہ اس قابل تھے کہ ہائیڈروجن، ہیلیئم وغیرہ کے نیوکلیئس بناسکیں۔ اس عمل کو نیوکلیئوسس کا نام دیا گیا ہے لیکن یہ عمل ایک سیکنڈ کے بعد کا ہے۔لیکن  یہاں یہ ملحوظ خاطر رہے کہ کائنات کا درجہ حرارت زیادہ ہونے کے باعث ایسا ممکن نہیں ہو پا رہا تھا۔

اب تک ہم نے جو پڑھا ہے اس کا کچھ اعادہ کر لیا جائے تاکہ کچھ نہ کچھ یاد رہ جائے اور بات مزید واضح ہو جائے۔

۱۔ یہاں کائنات کے قدیم ترین لمحات کی بات کی جائے تو اس سے مرا د بگ بینگ سے قبل  ۱۰-۴۳ سیکنڈ مراد ہیں۔ ان قدیم لمحات کو کوانٹم کوسمولوجی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس وقت کی ایک خاص بات یہ ہے کہ کائنات بہت چھوٹے سے سائز کی تھی۔

۲۔ اس کے بعد انفلیشن کا دور ہے جس میں کائنات کا پھیلاؤممکن ہوا۔

۳۔ کوسمک انفلیشن یا پھیلاؤ کے بعد بیروجینیسس کا عمل رونما ہونا شروع ہوا ۔ بیروجینیسس جیسا کہ ہم پڑھ آئے ہیں ایسا دور تھا جس میں مادہ اور قوت کا ادغام شروع ہوا۔

۴۔  اس دور کے بعد پارٹیکل کوسمولوجی کا دور آیا جس میں بنیادی قوت کے حصے بخرے ہونا شروع ہو گئے۔

۵۔  پھر ہم نے جانا سٹینڈرڈ کوسمولوجی کے بارے میں  جس میں پروٹان، نیوٹران کا ظہور ہوا۔

 یہ ایک سیکنڈ کی داستان ہے جو بگ بینگ کے بعد وجود میں آئی۔ یہاں یہ بتانا آپ کی دلچسپی کا باعث بنے گا کہ شروع میں کائنات کا درجہ حرارت کتنا تھا۔ کائنات کے قدیم ترین لمحات میں یعنی کوانٹم کوسمولوجی  کے وقت اس کا درجہ حرارت ۱۰۳۲   ڈگری سیلسیئس تھا۔ اب اس کو جاننے کے لئے سمجھیئے کہ ایک کے آگے بتییس صفر لگائے جائیں تو اس جتنا درجہ حرارت تھا۔

About ڈاکٹر فہد چوہدری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *