کائنات

انسانی تاریخ کے تقریبا تمام عرصے میں انسان اس خیال کا مالک رہا ہے کہ یہ کائنات ہمیشہ سے ہے اور اس کی کوئی حد نہیں ہے۔  انسان لاکھوں سالوں سے آسمان کی جانب دیکھتا رہا ہے اور اس کی بلندی اور وسعت سے حیرت زدہ ہوتا آیا ہے۔ اس حیرت نے اس کے تخیل کو ہوا دئیے رکھی اور انسان نے اپنے مشاہدے کی بنا پر کائنات کے بارے میں مختلف نظریات وضع کیے رکھے۔ جیسے  انسان کے پاس علم آتا گیا، بات ،مشاہدہ سے آگے بڑھتی گئی ویسے  انسان کے نظریات میں کانٹ چھانٹ ہونے لگی۔ کچھ پر صداقت کی مہر ثبت ہوئی، کچھ میں معمولی تبدیلی ہوئی اور کچھ کو سرے سے جھٹلا دیا گیا۔ لیکن یہ تمام عمل اتنا آسان نہیں رہا۔ جس انسان نے تبدیلی کی بات کی، نئے نظریے کی بات کی، پرانے نظریات کی صداقت پر سوال اٹھایا اسے طعن وتشنیع کا سامنا کرنا پڑا، جلاوطنی جھیلنا پڑی، کتابوں سے برات کا اظہار کرنا پڑا حتیٰ کہ جان سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حقائق چھپ نہیں سکے اور مزید کھل کر سامنے آتے گئے۔

کائنات کے بارے میں بھی انسان کے خیالات نے آہستہ آہستہ ترقی کی ہے۔ شروع سے کائنات کے بارے میں انسان کا یہ خیال رہا ہے کہ کائنات ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہنے والی ہے، یہ کبھی ختم نہیں ہوگی۔ اس خیال کے بارے میں شک و شکوک تب پیدا ہوئے جب انسان تھرموڈائنیمکس ( حرکیات) کے علم میں بارےمیں جاننا شروع ہوا۔ یہ نظریات انیسویں صدی میں تبدیل ہونا شروع ہوئے۔ بیسویں صدی میں آئن سٹائن نے اپنی جنرل ریلیٹویٹی کی تھیوری پیش کی۔ اس تھیوری کے فارمولے کے مطابق کائنات تغیز پذیر بنتی تھی۔ آئن سٹائن نے کائنات کو جامد اور ساکن  رکھنے کے لیے اپنے فارمولے میں ایک کونسٹنٹ کا اضافہ کردیا جس کو اپلائی کرنے کے بعد فارمولے کی رو سے کائنات جامد و ساکن رہتی تھی۔

لیکن ۱۹۲۲ کے تجربات اور ۱۹۲۹ کے مشاہدات نے اس نظریے کو کاری ضرب دی اور یہ خیال جڑ پکڑنے لگا کہ کائنات ساکن و جامد نہیں بلکہ یہ حرکت میں ہے اور اس پر حرکیاتی قوانین بھی لاگو ہوتے ہیں۔  ہبل نے کہکشاوں کے مطالعے سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ زمین سے دور ہوتی جا رہی ہیں یعنی ان کا درمیانی فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے ، اس لیے کائنات بھی پھیلتی جا رہی ہے۔

اس بات کا ثبوت ۱۹۶۵ میں تب ملا جب مائیکرویوکوسمک بیک گراونڈ ریڈی ایشن کی دریافت ہوئی۔ کائنات کی عمر اور اس ضمن میں مزید تحقیق کے لیے ایک خلائی سیارچہ ۲۰۰۱ میں لانچ کیا گیا ، دوسرا ۲۰۰۹ میں پلانک لانچ کیا گیا۔

About ڈاکٹر فہد چوہدری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *