کائنات

تحریر:    ڈاکٹر فہد چوہدری

عمر

اب اگر عمر کی بات کریں تو کائنات کے بارے میں استعمال تو مونث ہی کرتے ہیں مگر اس نے عمر نہیں چھپائی۔ اس کائنات کی عمر کا تخمینہ کچھ ۷۔۱۳ ارب سال لگایا گیا ہے۔

کہکشاں

آئیے آگے بڑھنے سے پہلے کچھ بات گلیکسی کی بھی کر لیتے ہیں۔ گلیکسی یونانی زبان سے ماخوذ ہے جس کا مفہوم ہے ’’دودھیا‘‘ یعنی دودھ جیسی۔ لیکن جب ہم گلیکسی لفظ بولتے ہیں تو اس سے ہماری مراد ستاروں، دھوئیں، تاریک مادے اور دیگر مواد کی ایک باہم مربوط سلسلہ میں جڑے نظام سے ہوتی ہے۔ یہ نظام جس میں ہر ستارے،سیارے، شہابیہ اور ان جیسے اربوں دیگر چیزوں کا آپس میں اتنا گہرا تعلق ہوتا ہے کہ کسی ایک کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے آپ کو پورے نظام کا مطالعہ ضرور کرنا پڑے گا۔ اس طرح کی بیشمار گلیکسیز یا کہکشائیں ہماری کائنات کی رونق بڑھا رہی ہیں۔ ان کہکشاوں میں بہت چھوٹی کہکشائیں بھی موجود ہیں جو صرف چند ارب ستاروں پر مشتمل ہیں اور ایسی بھی ہیں جو کھربوں ستاروں پر مشتمل ہیں۔ ان کہکشاوٗں کی مخصوص اشکال ہیں مثلا بیضوی، گول، چکردار، بے ترتیبی وغیرہ۔

کسی نے کبھی نہ کبھی آپ سے یہ ضرور پوچھا ہو گا کہ آسمان کے ستارے کتنے ہیں؟ پوری طرح تو ممکن نہیں لیکن اگر ہم صرف اس آسمان کی بات کریں جسے ہم اپنی آنکھ سے دیکھ سکتے ہیں جسے دوسرے الفاظ میں قابل مشاہدہ کائنات کہتے ہیں تو اس میں ستاروں کی تعداد کا تخمینہ ۲ ٹریلیئن لگایا گیا ہے۔ اس میں ہماری اپنی کہکشاں جسے ملکی وے کہا جاتا ہے، بھی شامل ہے۔

شاید آپ کے ذہن میں سوال پیدا ہو کہ یہ کہشائیں کب بنی تھیں؟ ہم یہ تو جان چکے کہ کائنات کی عمر کتنی تھی لیکن

 پہلی کہکشاں کب وجود میں آئی؟ اس کا ہم صرف اندازہ لگا سکتے ہیں لیکن اب تک کے مشاہدے میں عمر کے لحاظ سے سب سے پہلی کہکشاں مارچ ۲۰۱۶ء میں دریافت کی گئی۔ یہ کہکشاں بگ بینگ کے ۴۰ کروڑ سال بعد وجود میں آئی تھی۔ اس کہکشاں کا زمین سے فاصلہ ۳۲ ارب نوری سال کا ہے۔ اس کہکشاں کو کوڈ نام GN-Z-11دیا گیا ہے۔

About ڈاکٹر فہد چوہدری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *