کائنات

تحریر: ڈاکٹر فہد چوہدری

زمین

ہیڈئین  ای اون

زمین کی پیدائش سے لے کر تقریبا چار بلین سال قبل کے عرصے پر محیط اس عرصہ  کو تین ذیلی ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے

Paleohadean

Mesohadean

Neohadean

اس دور کے شروع میں تقریبا تمام زمین پگھلی ہوئی تھی۔ ابتدا میں تمام سطح پر آتش فشانی عمل جاری و ساری تھا۔ ہر طرف پگھلا ہوا  لاوا  بہہ رہا تھا۔ اس پر مستزاد  کہ زمین کی فضا بھی خلا سے آنے والے مختلف اجسام کی ٹکر سے بھری ہوئی تھی۔ ان سے زیادہ تر اجسام زمین  کی  پگھلی ہوئی سطح پر  بھی ٹکراتے رہتے تھے۔ یہ تمام  عمل لاکھوں سال جاری رہا۔

اس عرصہ کے بارے میں پہلے یہ قیاس تھا کہ اس دور میں کسی قسم کی کوئی چٹان یا  پتھر کے آثار موجود نہیں لیکن  آخری صدی کے آخری عشرے  میں گرین لینڈ، کینیڈا، آسٹریلیا  وغیرہ میں ملنے والے شواہدات اور  پھر  اس صدی کے دوسرے عشرے میں آسٹریلیا کی جیک ہلز میں زرکون نامی کرسٹلز کی نشاندہی نے  یہ ثابت کر دیا کہ قدیم ترین چٹانیں زمین کی پیدائش کے تھوڑے ہی عرصہ بعد تک   موجود تھیں۔ آسٹریلیا ہی میں ملنے والے ذرات کی عمر کا تخمینہ ۴۔۴ ارب سال قبل کا لگایا گیا ہے جو زمین کی پیدائش سے کچھ ہی بعد کی ہیں۔ ان ذرات کو کسی جان دار کی بقیہ جات بھی سمجھا جاتا ہے  کیوں کہ ان میں کاربن کے ٹریس ملے ہیں ۔ کاربن کیوں کہ زندگی کا بنیادی   جز ہے جس سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ زمین کے علاوہ بھی اس نظام کائنات میں زندگی موجود ہے۔ دو منٹ کے لیے ذرا تخیل کو آزاد چھوڑئیے ۔ کہاں کہاں سے وہ کاربن کے ایٹم سفر کرنے کے بعد زمین پر پہنچے ہوں گے؟ اگر ان کے پاس قوت گویائی ہوتی یا ہم میں ان کو جاننے کی طاقت تو کیا کیا راز ، کیا کیا کہانیاں اندیکھی دنیاوں کی یہ ذرات ہمیں سنا رہے ہوتے۔اس عرصہ میں پانی جو آج  زمین کی سطح کے ایک بڑے حصے کو ڈھانپے ہوئے ہے،  بھی آہستہ آہستہ بخارات سے مائع میں تبدیل ہونا شروع ہو چکا تھا۔  شروع  میں زمین پگھلی صورت میں موجود تھی، کاربن ڈائی آکسائڈ اس کی فضا میں موجود تھی اور اس کا درجہ حرارت بہت بلند تھا جس کا اندازہ تقریبا ۲۳۰ ڈگری سیلسیئس لگایا گیا ہے۔   یہ سب  آہستہ آہستہ تبدیل ہوتا گیا اور زمین ٹھنڈی ہوتی گئی۔ اس کی سطح کے خدوخال نمودار ہونے لگے۔ جیسی چٹانیں اور سطح ہمیں آج نظر آتی ہیں، اس دور کے آخر تک زمین ایسی صورت میں تقریبا تبدیل ہو چکی تھی۔ اس بارے میں کچھ متضاد رائے ہیں لیکن    ۲۰۱۷ تک کی تمام تحقیقات کی روشنی میں  جو معلومات ہمارے سامنے ہیں ان سے یہ صورت ہی سامنے آتی ہے۔

About ڈاکٹر فہد چوہدری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *