Home / شمارہ جون 2018 / کائنات

کائنات

تحریر:ڈاکٹر فہد چوہدری

زمین

آرکیان      ای اون

 چار بلین سال سے لے کر تقریبا ڈھائی بلین سال قبل کے عرصے پر محیط اس عرصہ  کو چار  ذیلی ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے۔

Eoarchean

Paleoarchean

Mesoarchean

Neoarchean

 اس دور  کے نام  کا مطلب ہے ابتدا، شروعات۔   اس دور سے ہمیں ابھی تک زمین  کی سطح کے بارے میں ایسے  شواہدات ملتے ہیں  جن کی روشنی میں ہمیں  یہ تاثر ملتا ہے کہ  یہ ہی وہ دور ہے جس میں زمین کے خدوخال کچھ واضح ہو گئے ہوں گے۔ اسی دور میں  بیکٹیریا وغیرہ کے آثار کی دریافتوں نے  اس دور کے مشاہدے اور تحقیق کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ اس دور میں کیا کیاہوا۔

سب سے پہلے جائزہ لیتے ہیں موسم کی صورتحال کا۔ اس دور کے آغاز میں یعنی  چار بلین سال قبل  موسم کا اندازہ آپ ایسے لگا  سکتے ہیں کہ آج کے مقابلے میں تین گنا گرمی تھی۔ آج  موسم گرما کے گرم ترین دن کا اندازہ  کیجیئے اور پھر اس کو تین سے ضرب دے دیجیئے۔ حاصل جواب آپ کا  آج سے چار بلین سال قبل کا ایک عام دن  ہو گا۔ اس درجہ حرارت کے ساتھ ایک خاص بات اور بھی تھی اور وہ خاص بات یہ تھی کہ  سورج کی چمک آج کی چمک کے مقابلے میں ستر  سے پچھتر فیصد زیادہ تھی۔  لیکن اس دور کے اختتامی عرصے کے وقت یعنی ڈھائی بلین سال قبل کا درجہ حرارت  آج کے درجہ حرارت کے دوگنا درجہ حرارت سے تھوڑا سا ہی زیادہ تھا۔ یعنی ڈیڑھ بلین سال   میں یہ درجہ حرارت تین گنا سے دو گنا تک پہنچا تھا۔

پہلے دور کی طرح اس دور میں بھی آتش فشانی عمل جاری و ساری تھااُس پر طرہ یہ کہ زلزلوں کی کثرت بہت تھی۔ زمیں ہر وقت ایک مسلسل  حرکت میں رہتی تھی۔ اگر ہم اس وقت میں موجود ہوتے تو ہر وقت ہونے والے آتش فشانی دھماکوں اور زمین کی گڑگڑاہٹ سے شاید شروع میں بوکھلا جاتے اور سب سے بڑی بات زمین مستقل مزاجی سے   آپ کو ہر وقت دائیں بائیں ہلائے دی جاتی۔

زمین کی سطح کے بارے میں دو طرح کی آراء ہیں۔ ایک کے مطابق   جس کا ذکر پچھلی قسط میں بھی ہو چکا ہے  کہ پہلے پانچ سو ملین  میں ہی  موجودہ خشکی کا انعقاد ہو چکا تھا(  بحوالہ رچرڈ آرمسڑنگ) ۔ دوسری  رائے کے مطابق زمین کی صورت جیسی آج ہے اس دور کے آخری عرصے میں بنی۔ بہرکیف صورت جو بھی ہو خشکی موجود تھی اور مائع پانی بھی موجود تھا اور گہرے سمندر کی ابتداء ہو چکی تھی۔ اس دور میں  بیکٹیریا، اور پروکیریاٹکس کے شواہد ملے ہیں  لیکن ابھی تک وائرس کے آثار نہیں ملے۔ اسی دور میں آکسیجن کا اخراج  فوٹوسنتھیسز کے توسط سے شروع ہو چکا تھا۔ فوٹوسنتھیسز وہ عمل ہے جو کاربن ڈائی آکسائڈ کو استعمال میں لاتا اور انرجی پیدا کرتا ہے۔ اس عمل کے آخر میں انرجی کے ساتھ ساتھ آکسیجن بھی بنتی ہے جو انسانوں اور دیگر ممالیہ کے لیے ایک لازمی جز ہے۔

اس دور کے شواہد  گرین لینڈ، کینیڈا، سکاٹ لینڈ، انڈیا، برازیل، مغربی آسٹریلیا، جنوبی افریقہ میں ملتے ہیں۔ زندگی کے ایسے شواہد جنھیں قدیم ترین شواہد کیا جاسکتا ہے وہ   تین اعشاریہ سات بلین سال قبل مغربی گرین لینڈ میں گریفائٹ کی ایک چٹان میں ملے ہیں۔

About iisramagadmin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *