کائنات

ایک تاریک رات میں اوپر دیکھو تو گویا ہیرے موتیوں سے بھرا ایک تھال سر پر الٹ دیا گیا ہو۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو ان خلاؤں کی وسعتوں پر نظر دوڑا کر سوچتے ہیں؟ تسخیر تو دور کی بات ، ہم میں سے کتنے ہیں جو اس حقیقت کا ادراک کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ ان علوم نے ہی آج اقوام کو ترقی و تسخیر کی دوڑ میں آگے لا کھڑا کیا ہے۔ ہم میں سے کتنے ہی تو اسے ایک بے فائدہ علم قرار دیتے ہیں یہ جانے بناٗ کہ اس ایک علم نے ہی ہمیں اس سائنسی دور میں پہنچایا ہے اور اگر ہم ترقی یافتہ اقوام کی فہرست میں کھڑا ہونا تو دور ، بحیثیت قوم ہی زندہ رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی اس علم سے استفادہ کرنا ہو گا۔

اگر کبھی اس آسمان کی  جانب نگاہ کی جائے تو لامنتاہی خلا کی ہیبت دل پر طاری ہو جاتی ہے اور انسان کا وجود نہایت حقیر دکھائی دیتا ہے۔

آخر کائنات ہے کیا؟

کائنات کے لیے انگریزی میں لفظ یونیورس مستعمل ہے۔یہ فرانسیسی زبان سے مستعار لیا گیا ہے جہاں یہ لاطینی سے فرانسیسی میں آیا تھا۔اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کے مطلب میں سب کچھ جو بھی وقت، مکاں اور ان میں شامل ہے۔ وہ سب جو تھا، ہے اور ہو گا سب کو ایک ہی لفظ میں سمو دیا گیا ہے۔ سب چیزوں سے مل کر کائنات بنی ہے۔

ماہیت

اس کی ماہیت کی بات کریں تو اس میں

تاریک قوت

تاریک مادہ

عام مادہ

برقیاتی مقناطیسی تابکاری اور

ضد مادہ یا نفی مادہ

شامل ہیں۔

وسعت

کائنات کی جانب نگاہ کریں تو لامحالہ اس کی وسعت کی طرف دھیان جاتا ہے، ذہن لازمی اس جانب جاتا ہے کہ اس کی انتہا کہاں ہوگی، اس کا درمیان کہاں ہے، ہم کہاں کھڑے ہیں، ہم اس کے کس گوشے میں پائے جاتے ہیں؟ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہمارے مروجہ جتنے بھی اصول، پیمانے، معیار اختیار کیے گئے ہیں عقدہ یہ کھلا کہ جہاں سے دیکھو، کائنات ایک جیسی نظر آئے گی، اس ،مشاہدہ نے اس نظریہ کو جنم دیا کہ کائنات کا کوئی مرکز نہیں ہے، یہ لامنتائی ہے، اس کی کوئی حد نہیں، اس کو آسانی سے سمجھنے کے لیے آپ ایک گول پھولے ہوئے غبارے کو ذہن میں لائیے، آپ جہاں سے بھی دیکھیں گے اس کا وہ حصہ ہی اس کا مرکز قرار پائے گا۔ دوسرا ابھی تو ہم قابل مشاہدہ کائنات کی بات ہی کر رہے ہیں، کون جانے اس قابل مشاہدہ کائنا ت سے آگے کیا ہے؟ اب تو کئی کائناتوں کی بات بھی شروع ہو گئی ہے اور ہم ابھی اپنی کائنات کے اسرار  ہی نہیں  جان پائے۔

About ڈاکٹر فہد چوہدری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *