Home / شمارہ اگست 2017 / کرپشن کیا ہے؟

کرپشن کیا ہے؟

اس  روز چیئر مین نیب کے ایک بیان کے حوالے سے اخبار میں خبر تھی، ’’دہشتگردی کے بعد، کرپشن ملک کا دوسرا بڑا مسئلہ ہے!‘‘ میں ان سے اپنی ذاتی رائے میں اختلاف کر نا چاہوں گی، وہ ان کی ترتیب بدل کر اسے دوسرا نہیں بلکہ پہلا بڑا مسئلہ کہیں کیونکہ اس وقت وہ ملک میں کرپشن کے خلاف لڑی جانیوالی جنگ کے سپہ سالار ہیں، اور سابق فوجی ہونے کے حوالے سے وہ بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ اپنے دشمن کو کبھی کمزور نہیں سمجھنا چاہیے اور اسے دوسرے نمبر کا نہیں بلکہ اپنے لیے پہلے نمبر کا خطرہ سمجھنا چاہیے ۔

سب سے پہلے اس بات کو واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ کرپشن کیا ہے، عموما ہمارے ہاں کرپشن کو ’’رشوت ‘‘  کا ایک اور نام سمجھا جاتا ہے جب کہ کرپشن ایک انتہائی وسیع المعانی لفظ ہے، اگر آپ اردو  یا انگریزی کی لغت میں اس لفظ کو دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ ہر معاشرتی برائی اس لفظ کے مطالب میں سما جاتی ہے۔

اس کی تشریح میں لغت میں ہر برا لفظ موجود ہے… بے ایمانی، خرابی، گمراہی، سڑن، گلن، بد اخلاقی،  بد قماشی، بداخلاقی وضعداری کی تباہی،  بد عنوانی،  رشوت،  ناپاکی،  بے حیائی،  زبان کا بگاڑ،  بد کرداری،  بد اعمالی،  بد خصلتی،  خیانت،  چوری،  حقوق غصب کرنے کا عمل اور ایک طویل فہرست۔  اب آپ سوچیں کہ ان سب خرابیوں کو جب ایک لفظ کرپشن میں سمویا جاتا ہے تو اس لفظ کی کیا اہمیت بن جاتی ہے اور اس سے معاشرے کا چہرہ کس طرح مسخ ہو تا ہے، اس کے خلاف جنگ کو بھی جہاد کا  درجہ دیا جانا چاہیے کہ اس میں کوئی بیرونی دشمن کارفرما نہیں ہے بلکہ ہمارے اپنے اندر پروان چڑھا  ہوا کرپشن کا  پودا،  تناور درخت بن چکا ہوتا ہے جسے ایک طرف سے تلف کریں تو کہیں نہ کہیں اور طرف سے پھوٹ پڑتا ہے۔

شنید ہے کہ جھوٹ ہر گنا ہ کا باپ ہے،  یعنی سارے گناہوں کی بنیاد جھوٹ پر رکھی جاتی ہے… گناہ کی عمارت کی بنیاد کی پہلی اینٹ… جھوٹ اصل میں ایک ایسا پردہ ہے جو سچائی کو ہم تک پہنچنے نہیں دیتا اور ہم دوسروں کو پہچان نہیں سکتے۔ جس طرح قبض کی بیماری،  ہر بیماری کی ماں ہے،  اس کے بطن سے ہر بیماری جنم لیتی ہے،  جب تک قبض کا علاج نہ کیا جائے ، جسم سے دوسری بیماریوں کا خاتمہ کرنا مشکل ہوتا ہے اسی طرح کرپشن بھی قبض جیسی ایک  بیماری ہے،  اسی کے بطن سے تمام جرائم،  خرابیاں اور برائیاں جنم لیتی ہیں ۔

یہ ہمارے ملک کا ترجیحی مسئلہ ہے،  دہشت گردی سے بھی بڑا، کیونکہ دہشت گردی میں تو چند لوگ، گروہ یا جماعتیں ملوث ہیں جب کہ کرپشن میں ہم میں سے ہر شخص کسی نہ کسی طرح ملوث ہے…اعداد و شمار کے مطابق ہمارے ملک میں دہشت گردی سے دو فیصد اور دیگر اسباب سے اٹھانوے فیصد  اموات ہوتی ہیں، ان اٹھانوے فیصد میں سے ایک بڑی تعداد ان  اموات کی ہے جن کے ڈانڈے کسی نہ کسی طرح کرپشن سے جا ملتے ہیں، چوریوں اور ڈکیتیوں کے دوران، قتل برائے غیرت، عورتوں پر گھریلو تشدد اور بے حرمتی کے واقعات، قتل،  تشدد،  بر وقت علاج کی سہولت میسر نہ ہونا  یا  جعلی ادویات کے استعمال،  اسپتالوں کی حالت زار،  ڈاکٹروں کی بے حسی،  غربت کے ہاتھوں تنگ آ کر خود کشیاں،  بھوک ا ور فاقوں  سے مرنیوالے،  تو صاحب!! یہ سب لوگ کسی نہ کسی طرح کرپشن کا شکار ہوتے ہیں،  وہ کرپشن جو ہماری جڑوں میں بیٹھ چکی ہے، آپ سے بہتر یہ کون جان سکتا ہے۔

کرپشن جو کہیں انسان کو واقعی جان سے ما ر دیتی ہے اور کہیں عمر بھر سسکا سسکا کر مارتی ہے،  ہر سانس موت کی طرح آتی ہے،  جو  رشتوں کی پہچان اور تمیز ختم کر دیتی ہے، کہیں مرنے کو زندگی سے نجات کا وسیلہ سمجھنے پر مجبور کر دیتی ہے۔  بچوں کی تربیت کے ابتدائی سالوں سے ہی ان پر  اچھائی  اور برائی کے جن معیارات کو واضع کر دینا چاہیے،  وہ نہیں کیے جاتے، جھوٹ بولنے سے روکا جاتا ہے مگر زبانی اور عملی طور پر ہمارے بڑے ہمارے سامنے سیکڑوں چھوٹے بڑے جھوٹ بولتے اور ہم سے کہتے ہیں کہ کچھ جھوٹ مصلحتا بولنا پڑتے ہیں۔

کبھی کبھار ہمارے والدین ہمارے ذریعے جھوٹ بولتے ہیں اور ہمیں احساس نہیں ہوتا کہ یہ جھوٹ ہے کیونکہ ابا نے کہا ہوتا ہے کہ باہر دروازے پر آئے آدمی کو بتا دو کہ ابا گھر پر نہیں ہیں، کبھی اماں کہتی ہیں کہ کسی کا فون اٹینڈ کرو اور کہہ دو کہ اماں گھر پر نہیں ہیں ۔ جس روز کسی کا بچہ پہلی بار… اپنے کسی ہم جماعت کی کوئی نہ کوئی چیز  چرا کر گھر لاتا ہے۔ ا س کے گھر والے اگر اس واقعے کو اہم نہ سمجھیں، اپنے  بچے کو نہ بتائیں کہ جو اس نے کیا  وہ غلط تھا، اس بچے کی چیز معذرت کے ساتھ اپنے  بچے کے ہاتھ سے واپس نہ کروائیں تو گویا انھوں نے اپنے بچے کے پہلے جرم کی سرپرستی کر دی، کرپشن کے پودے  کا  بیج  اس بچے کے ذہن کی زمین پر گر جاتا ہے اور اس کی آبیاری شروع ہو جاتی ہے… یہ سلسلہ جاری رہتا ہے کیونکہ پہلی بار… صرف پہلی بار انسان کسی بھی نئے ’’ایڈونچر‘‘ سے خوف زدہ ہوتا ہے۔

خود سے چھوٹے بچوں کے حقوق کا استحصال… گھر اور گھر سے باہر ہمارا  بچہ کرتا ہے مگر ہم اسے غلط نہیں کہتے،  اس کی ہر غلطی اور برائی کو ہم تحفظ دیتے ہیں، اسکول میں بھی وہ بچوں کو bully کرتا ہے مگر اسے گھر سے غلط نہیں سمجھا جاتا ہے تو اس کی روش جاری رہتی ہے،  جوں جوں  بچہ بڑا ہوتا ہے،  معاشرے میں ایک غنڈے کا اضافہ ہو جاتا ہے،  اس کی دہشت اپنے علاقے میں پھیل جاتی ہے اور یہ وہ  وقت ہوتا ہے جب ماں باپ کے سمجھانے کا وقت بہت دیر پہلے گزر چکا ہوتا ہے،  وہ ہر طرح کی کرپشن کو جائز سمجھتا ہے۔

نظام ِتعلیم ہے یا  نظام اسکولوں میں بچوں کے داخلے سے لے کر امتحانات میں ان کے سینٹر اپنی مرضی کے بنوانے،  ان کے امتحانی پرچوں کے تعاقب کرنے میں والدین اور اساتذہ  ہلکان ہوتے رہتے ہیں اور پھر برملا  کہتے ہیں کہ ہمارا  نظام ِتعلیم ہی خراب ہے۔ یہاں تک کافی نہیں… ان کے لیے ملازمتوں کے حصول کی خاطر سفارشوں کے رقعے چلتے ہیں،  دوسروں کا حق مار کر ملازمتیں حاصل کی جاتی ہیں،  سفارش یا رشوت کے بل بوتے پر… جس ملک میں ایک دس ہزار روپے تنخواہ  پانیوالا سپاہی بھرتی ہونے کے لیے بیس سے پچیس لاکھ کی رشوت دی جاتی ہو، آپ تصور کریں کہ کیا وہ صرف دس  ہزار  روپے کی تنخواہ کے لیے اتنے جتن کرتا ہے؟

صحت… اللہ ہی حافظ ہے، بڑی سے بڑی ڈگریاں آسانی سے حاصل کی جا سکتی ہیں،  ڈاکٹری کی جعلی ڈگریاں حاصل کر کے انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے انسان نما درندے،  ملک کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ہماری اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے پچاس فیصد لوگ وہ ہیں جن کی ڈگریاں جعلی ثابت ہو چکی ہیں۔ لیکن کیا کریں، ان ایوانوں تک پہنچنے کے لیے سر دھڑ کی بازی یونہی تو نہیں لگائی جاتی،  جتنا پیسہ خرچ کیا جاتا ہے اس سے کئی گنا زیادہ چند مہینوں میں کما لیا جاتا ہے۔  ملاوٹ … ا س طرح ہماری زندگیوں میں ہر چیز میں در کر آئی ہے کہ کیا غذائیں اور کیا دوائیں،  ہر چیز کے اصلی ہونے میں شک ہے، حلال اور حرام کی تمیز ختم ہو گئی ہے۔ملاوٹ نمک، چینی، مرچوں اور مسالوں کی ملاوٹ سے بڑھ کر حلال اور پاکیزہ جانوروں کے گوشت میں کتے اور گدھے کے گوشت تک پہنچ گئی ہے۔

جان بچانیوالی  دوائیں… جان لے لیتی ہیں کیونکہ ہمارے اندر اخلاقیات ختم ہو گئی ہے، ہم جعلی دوائیں مرتے ہوئے لوگوں کے لیے بے دھڑک بیچتے ہیں۔  ہم اپنی اصلیت کو،  ذات پات کو چھپاتے ہیں،  اپنے اثاثوں کو چھپاتے ہیں، اپنے مفادات کے لیے اپنی شخصیتوں پر نقابیں چڑھا کر دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں۔

بد زبانی، گالی گلوچ، لڑائی جھگڑا، مارکٹائی کرتے کرتے… گزرتے وقت کے ساتھ نوبت قتل و غارت گری تک جا پہنچتی ہے… کرپشن کا لگایا جانے والا ہر ننھا سا پودا چند سالوں میں ایک تناور درخت بن جاتا ہے اور ملک میں کرپشن کے جنگل میں ایک اور درخت کا اضافہ ہو جاتا ہے،  اس کے بیج تلف کرنے کی ضرورت ہے،  اس اسٹیج سے آگے نکل جائیں تو پنیری کو جڑ سے اکھاڑ دیں،  ناتواں پودا کاٹ دیں،  مگر نہیں،  یہاں کرپشن اتنی پھیل چکی ہے کہ پورا ملک کرپشن کا جنگل بن چکا ہے… یہاں محبتیں خریدی جاتی ہیں۔ووٹ خریدے جاتے ہیں،  وفاداریاں بکتی ہیں،  انصاف بکتا ہے… لوگ بھوک کے مارے اپنے بچوں کے گلے میں ’’ برائے فروخت ‘‘ کی تختیاں لگا کر سڑکوں پر پھرواتے ہیں، کیونکہ ہم نے اپنے ملک میں کرپشن کو خوب پنپنے دیا ہے،  ا سے وافر مقدار  میں پانی  اور کھاد ملتی ہے تو آج  ہم اس مقام پر کھڑے ہیں جہاں ہمارا  ملک

’’ ماشااللہ‘‘ کرپشن کے لحاظ سے پہلے دس ملکوں کی فہرست میں آتا ہے، آپ نے اسے ملک کے لیے دوسرا بڑا مسئلہ کہا ہے تو چلیں … آپ اس ملک کے مفادات کو درپیش دوسرے بڑے خطرے کو ہی پوری قوت سے جڑ سے اکھاڑ دیں،  اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو!! آمین۔

About شیریں حیدر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *