Home / شمارہ جون 2018 / کسی کی خامی ہماری خوبی نہیں ہو سکتی

کسی کی خامی ہماری خوبی نہیں ہو سکتی

تحریر:محمد شمیم مرتضیٰ

 

کچن سے آنے والی تیز چھناکے کی آواز نے میری محویت توڑ دی۔میں نے چونک کر دیکھا تو فرش پر بکھرے ہوئے پلیٹ کے ٹکڑوں پر نظر پڑی۔بیگم کے ہاتھوں سے پھر کوئی برتن ٹوٹا تھا۔

”لگتا ہے آج کل برتنوں کی شامت آئی ہوئی ہے۔“ میں نے بیگمکو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔

”جی ! میں خود بھی پریشان ہوں آج کل ہاتھ سے چیزیں بہت پھسل رہی ہیں۔“ بیگم نے پریشان  کن لہجے میں کہا۔ ”کل فرِج سے نکالتے ہوئے دہی گر گئی، گلاس بھی آدھے سی سلامت رہ گئے ہیں۔“   اُن کے لہجے میں تشویش  دَر آئی۔

اُن کی تشویش بجا   تھی۔وہ  عموماً   کام بہت سنبھال کر اور ا حتیاط سے کرنے کی عادی تھیں۔ یہ کچھ عرصہ سے میں بھی دیکھ رہا تھا کہ وہ کچن میں کام کے دوران ،برتن دھوتے وقت اور صفائی کرتے  ہوئےچیزیں یا تو گِرا بہت رہی تھیں یا پھر شور بہت کر رہی تھیں۔

”تمھیں اندازہ ہے کہ تمھارے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟“ میں نے پُرخیال لہجے میں اُن کی جانب دیکھتے ہوئے سوال کیا۔

”نہیں ، اگر معلوم ہوتا تو میں اس کا حل نہیں ڈھونڈ لیتی۔“ بیگم نے تنک کر کہا ۔

”با لکل درست اگر کسی مسئلہ کی وجہ کا ہمیں شعوری ادراک ہو  تو ہم اس کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔“  میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔

”تو  آپ ہی بتادیں۔“ بیگم نے تیز لہجے میں کہا۔

”بیگم اس میں کسی حد تک قصور آپ ہی کا ہے، یہ اور بات کہ آپ کو اس کا  اندازہ نہیں ہے۔“ میں نے سنجیدہ لہجہ میں کہا۔

”جی!!!!!!۔“ ان کے لہجہ میں حیرت دَر آئی۔

” کیا آپ کو اندازہ ہے کہ کچھ عرصہ سے آپ ایسا کیا کر رہی ہیں  کہ جس کے اثرات آپ کے اپنے ارتکاز پر پڑ رہاہے۔“ میں نے رَسانیت سے پوچھا۔

”مجھے بالکل اندازہ نہیں ہے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔“ بیگم کے لہجے میں حیرت برقرار تھی۔

”کچھ عرصہ سے آپ اپنی نئی نویلی بھابھی  کے کارناموں کا ذکر بڑے ذوق و شوق سے فرما رہی ہیں۔“ میں نے معنی خیز انداز میں کہا۔

”کیا مطلب؟“ انھوں نے گھورتے ہوئے کہا۔

”مطلب یہ کہ شادی کے فوراً بعد سے ہی آپ کی بھابھی نے پَر پُرزے نکالنے شروع کردیے ہیں، اور یہ کہ وہ بہت گھنّی ہے۔اُس کو کوئی کام نہیں آتا وغیرہ وغیرہ۔“ میں نے وضاحت کی۔

”وہ تو میں ویسے ہی اُس کا ذکر کر رہی تھی۔“ بیگم نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا۔

”مگر اُن کی ایک خوبی کا ذکر آپ بڑے شدّو مد سے کرتی ہیں۔“ میں نے بات جاری رکھی۔

”وہ کیا؟“ انھوں نے پوچھا۔

”دھیان دیں ذرا کہ آپ اکثر یہ کہتی ہیں کہ وہ کچن میں کام صحیح طریقہ سے نہیں کرتی ہے، برتن بہت زیادہ گراتی ہے، سارے شیشے کے برتن توڑرہی ہے۔ اور یہ کہ آپ کی امی اس بات پر ان سے ناراض رہتی ہیں۔“ میں نے بات مکمل کرتے ہوئے کہا۔

”ہاں یہ تو ہے۔ وہ اگر کچن میں ہوتو کچن سے ایسی آوازیں آنا شروع ہو جاتی ہیں جیسے کوئی جنگلی بھینسا گھس آیا ہو۔“ بیگم پھر اپنے پسندیدہ موضوع پر چلی گئیں۔ ”مگر اس سے میرے ہاتھ برتن گرنے کا کیا تعلق ہے۔“ انھوں نے اچانک چونک کر کہا۔

”بالکل ہے۔“ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔

خیال کی قوت

بات دراصل یہ ہے کہ جب ہم کسی ایک چیز پر اپنی توجہ  مر کوز کرتے ہیں تو ہماری یہ توجہ ایک طاقت ور خیال بن جاتا ہے۔اور یہ خیال  ہمارے رویے میں تبدیلی لانا شروع کردیتا ہے۔جس طرح بیرونی حالات و واقعات  ہمارے سوچنے کے انداز میں تبدیلی پیدا کرتے ہیں اسی طرح ہمارے خیالات بیرونی دنیا میں حالات و وقعات پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ عام حالات میں یہ صرف ایک خیال ہوتا ہے مگر جب ہم  بار بار ایک ہی چیز کو سوچتے ہیں تو یہ خیال ایک نقطہ پر مرتکز ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ پھر یہ مرتکز خیال اپنی  قوت بڑھانا شروع کردیتا ہے۔ اس کی مثال بالکل ایسے ہی ہےجیسے   سورج کی روشنی پھیلی ہوئی ہو تو فقط حرارت پہنچاتی ہے اور اگر یہی سورج کی روشنی محدب عدسہ کے ذریعہ کسی ایک نقطہ پر مرتکز کر دی جائے تو جلانا شروع کر دیتی ہے۔

مثبت یا منفی

بیرونی دنیا میں تبدیلی کا انحصار خیال کی نویت پر بھی ہوتا ہے۔ اگر خیال مثبت ہے تو تبدیلی مثبت ہوگی اور اگر خیال منفی ہے تو تبدیلی منفی ہوگی۔جس طرح ایک مثبت  یا منفی چارج  اپنے اردگرد مثبت الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ بناتے ہیں اسی طرح مثبت اور منفی خیال  بھی اپنے اطراف میں ایک فیلڈ بناتے ہیں۔ اس فیلڈ کے زیرِاثر  پہلے تو ہمارے اپنے رویّوں میں تبدیلی واقع ہوتی ہے پھر یہ خارجی طور پر اپنے اثرات مرتب کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

کسی کی خامی ہماری خوبی نہیں  ہو سکتی

جب ہم کسی کی خامی کو ذکرتواتر کے ساتھ کرتے ہیں   تودراصل  ہم اس شخص کی خامی پر اپنی توجہ مرتکز کر دیتے ہیں۔ یہ توجہ ہمارے اپنے رویے میں تبدیلی کا باعث بننا شروع ہو جاتا ہے۔ چوں کہ یہ عمل نہایت     تدریجی ہوتاہےاس لیے ہمیں اپنے اندر ہونے والی اس تبدیلی کا احساس نہیں ہوتا۔ اور ہم لا شعوری طور پر اسی خامی کو اپنے اندر پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں جس کا ذکر ہم تنفّر سے کرتے ہیں۔ اس عمل میں ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ کسی کی خامی کا ذکر کسی بھی طور پر ہماری خوبی نہیں بن سکتی۔ اپنے اندر خوبی پیدا کرنے کے لیے اپنی صلاحیتوں پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ کسی اور کی خامی کا بار بار تذکرہ کرنے کی۔ بلکہ اس طرح ہم ایک بڑے گناہ کا مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں اور وہ ہے غیبت۔

About محمد شمیم مرتضیٰ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *