Home / شمارہ دسمبر 2017 / کل کے پچھتاوے سے آج کی احتیاط بہتر ہے!

کل کے پچھتاوے سے آج کی احتیاط بہتر ہے!

”ہمارے ایک قریبی گاؤں چک شاہ محمد میں یہ بچہ جسم پر کھولتا پانی پڑنے پر فوت ہو گیا۔ اللہ کریم اس کے والدین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔” ہم اکثر اخبارات میں‌ ایسی خبریں پڑھتے ہیں‌ کہ کسی گھر میں معمولی سی بے احتیاطی اور لاپرواہی سے کتنا بڑا نقصان ہو گیا۔گیس لیکج سے آتش زدگی، کھانے کی چیزوں میں کسی زہریلی چیز کا گر جانا، گیس ہیٹر، کھولتے پانی کا جسم پر گھر جانا اور دوسرے کئی واقعات روزانہ ہی اخبارات کی زینت بنے ہوتے ہیں۔میری رائے میں اس طرح کے واقعات کے تواتر سے پیش آنے کی وجوہات تعلیم و تربیت کی کمی، غفلت اور لاپرواہی کی عادات وغیرہ ہیں،اس سلسلے میں کچھ گزارشات پیش خدمت ہیں:

آج صبح صبح یہ خبر جان کر بہت دکھ ہوا۔اپنی عادت کے مطابق سوچا اس سلسلے میں ایک مضمون لکھ دیا جائے۔شاید کسی کے کام آ جائے۔آپ سے گزارش ہے کہ نیچے دی ہدایات پر خود بھی عمل کریں،اپنے گھر والوں کو بھی عمل کروائیں اور انہیں آگے سب سے شیئر بھی کریں!

  • میری رائے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچوں کو بچپن سے ہی اس قسم کے معاملات کی آگاہی اور احتیاط کرنے کی تربیت دینی چاہیے۔
  • خواتین کچن میں زیادہ ڈھیلے اور زیادہ کھلے کپڑے پہن کر کام نہ کریں۔جن کپڑوں میں نائلون زیادہ ہو انہیں پہن کر کچن میں کام نہ کریں۔
  • کسی کام میں بھی جلد بازی کا مظاہرہ ہر گز مت کریں۔
  • بجلی کے آلات کو گیلے ہاتھوں اور ننگے پاؤں کبھی استعمال نہ کریں۔
  • ماچس، تیز دھار والے آلات، تیزاب کی بوتل، فنائل، بلیچ اور کھولتا پانی وغیرہ بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔
  • اشیائے خوردنی اور دوسری ایسی اشیاء ہمیشہ ڈھانپ کر رکھیں۔
  • کچن میں چولہا جلا کر خود کچن سے باہر کسی دوسرے کام میں مصروف ہو جانا انتہائی خطرناک ہے اس سے احتیاط کریں۔
  • صفائی کے تیزاب اور کیمیکل وغیرہ چھوٹے بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔ بعض بڑوں کا ذہن بھی بچوں والا ہوتا ہے۔ میرے ایک کولیگ نے ایک دفعہ کسی ٹوائلٹ میں کولڈ ڈرنک کی بوتل میں پڑے تیزاب سے استنجا کر لیا۔ لہذا تیزاب وغیرہ ایسی بوتلوں میں نہ رکھیں تاکہ کسی کو دھوکہ ہواوپر لکھ کر چٹ بھی لگائی جا سکتی ہے۔
  • گیس ہیٹر ہیٹر لگا چھوڑ کر ہرگز ہرگز نہ سوئیں۔
  • گرم پانی سے بھری بالٹی کے پاس بچوں کو اکیلا ہرگز نہ چھوڑیں۔
  • پانی گرم کرنے کے لیے امرشن راڈ کا استعمال نہ کریں۔
  • غسل خانے میں کام کے بعد وائپر ضرور لگائیں۔
  • کمروں کے لیے ایسے فرنیچر کا انتخاب کریں جن کے کونے کم سے کم ہوں۔
  • بجلی کے جو سوئچ بچوں کی پہنچ میں ہوں ان پر ٹیپ لگا کر بند کر دیں۔
  • قینچی، چھری، پلاس، اُون سلائیاں اور سلائی مشین وغیرہ بچوں کی پہنچ سے دُور رکھیں۔
  • فورًا آگ پکڑنے والی اشیاء کو چولہے سے دور رکھیں۔
  • نوکدار اوزار کو بے دھیانی میں ادھر اُدھر نہیں پھینکیں۔
  • سیڑھی ہمیشہ خشک رکھیں۔
  • چھوٹے بچوں کو مسلسل دھیان میں رکھیں۔

مناسب تعلیم و تربیت، احتیاط اور سمجھداری سے زیادہ تر گھریلو حادثات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے مندرجہ بالا ہدایات پر خود بھی عمل کریں، اپنے بچوں کی اس سلسلے میں خصوصی تربیت کریں اور ان ہدایات کو دوسروں تک بھی پہنچائیں۔ اپنی غفلت اور غلطیوں کے برے نتائج کا ذمہ دار اللہ کو قرار دینا ایک غلط اور غیر اسلامی رویہ ہے۔ جس طرح میں یہ خبر جان کر صرف رونے نہیں بیٹھ گیا بلکہ اس پر یہ آرٹیکل لکھ کر آپ تک پہنچا دیا۔ اسی طرح آپ کم از کم اتنا کریں کہ اس کو آگے شیئر کرتے رہیں!

جزاک اللہ خیرًا !!


 

About طاہر محمود

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *