Home / شمارہ اگست 2018 / کوئی قابل ہو تو

کوئی قابل ہو تو

تحریر: رومانہ گوندل

 

انسانی زندگی کا ایک طے شدہ  اصول ہے،  انسان پیدا ہوتا  ہے   اور ایک مقرر عمر یہاں گزارتا ہے۔  اوسطا  پینسٹھ  سے ستر سال کا ایک سفر کرتا ہے اور پھر اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ اس دنیا میں آنا اور جانا اس کا اپنا انتخاب نہیں ہوتا  لیکن اس سفر میں وہ جو کچھ کرتا ہے اس  میں بہت حد تک اس کا اپنا انتخاب  ہوتا ہے۔ انسان دنیا  میں جس وقت اور حالات میں آتا ہے، عام طور پر ان میں مرتا نہیں ہیں۔  کیونکہ زندگی کے  اس سفر میں کئی تبدیلیاں آ تی ہیں، انسان کے اندر بھی اور باہر بھی۔ تبدیلی کے اس سفر میں  کئی کام اپنی کوشش اور محنت سے کرتا ہے اور کچھ  چیزیں خود بخود ہی  ہوتی جاتی ہیں کیونکہ  زندگی دو چیزوں سے بنتی ہے تقدیر اور  تدبیر۔ تقدیر وہ  جو اللہ رب العزت ہمارے لیے کرتے ہیں اور تدبیر وہ جو  انسان خود کوشش  کرتا ہے۔      اگر چہ انسان تقدیر کے دائرے سے کبھی  نکل ہی نہیں سکتا قرآن میں  ہے کہ

تم چاہا بھی نہیں سکتے، اگر اللہ نہ چاہے تو“۔

اس  کو بنیاد بنا  کر کچھ لوگ تو ہاتھ پہ ہاتھ دہر کے بیٹھ جاتے ہیں۔  لیکن  اگر اپنے  عمل میں انسان کا اختیار نہ ہو تو  اس کا امتحان کیسے ہو گا؟  چونکہ انسان اس دنیا میں  بھیجا  ہی  امتحان کے لیے، گیا ہے  اور امتحان یہی ہے کہ وہ کیا کرتا ہے، اچھائی اور برائی میں سے کس راستے کا انتخاب کرتا ہے   اس لیے انسان کو ایک محدود سا اختیار  دیا گیا  ہے تا کہ وہ اپنی مرضی سے اچھائی اور برائی میں سے جس راستے کا چاہے انتخاب کر لے، جس طرح کا عمل چاہے کر لے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ

انسان کے لیے  وہی ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے“۔

زندگی میں  تقدیر اور تدبیر  دونوں اہم ہیں۔ تدبیر کی حد تک تو  انسان کے ہاتھ میں  اختیار ہے کہ وہ کیا کرتا ہے  اور تقدیر بھی دعاؤں سے بدل جاتی ہے۔ اگر چہ  تقدیر کا کام تو  ایک مکمل منصوبہ بندی  سے مسلسل چل رہا ہے  جس میں ہر  ا نسان کو صلاحیتیں اور مواقع ملتے رہتے ہیں۔جیسے دن اور رات۔ دن کو سورج نکلتا ہے ہر طرف روشنی اور اجالا ہو جاتا ہے  اور رات کو اندھیرا  ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے  یہ روشنی اور اندھیرے کا چکر ہر انسان پہ ایک سا ہوتا ہے۔ لیکن رات کے اس اندھیرے میں  ہر انسان اپنی کوشش سے  لائٹس، بلب  یا موم بتی جلا لیتا ہے اور اپنی زندگی کو روشن بنا لیتا ہے اور  کچھ لوگ اندھیرے میں بیٹھے صبح کا  انتظار کرتے رہتے ہیں۔ پھر   رات کے اسی  اندھیرے سے ایک روشن اور خوبصورت دن تقدیر  لے آتی  ہے لیکن کوئی  سارا دن سوتا رہے  اور آنکھیں بند کر کے  خود کو اندھیرے میں رکھے تویہ  اس کا  اپنا انتخاب ہے۔ اس کے ساتھ تقدیر آ نکھیں کھولنے کی ذبردستی نہیں کرتی۔

ہر آ نے والا سورج ایک روشن اور حوبصورت دن  اور کئی مواقع لے کے آ تاہے  بہت کچھ سیکھانے اور بتانے ، یہ تقدیر ہے اور تقدیر سب لوگوں کو یہ موقع دیتی ہے ۔پھر کچھ لوگ تقدیر کے اس موقعے کو استعمال کر لیتے ہیں  اور انہی کا نام دنیا میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے لیکن  ذیادہ تر لوگ اس کو گنوا دیتے  ہیں اور  وہی بیٹھے رہ جاتے ہیں، جہاں بیٹھے تھے  اس لیے نہیں کہ تقدیر ان کو موقع نہیں دیتی، بلکہ صرف اس لیے کہ وہ تقدیر کے دیئے ہوئے موقع کو تدبیر کی کمزوری کی وجہ سے گنوا دیتے ہیں۔یہ ٹھیک ہے کہ اس دنیا میں آ نے والے ہر انسان کے حالات ایک سے نہیں ہوتے۔ لیکن یہ بھی  تو ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں آ نے والے ہر انسان کی صلاحیتیں بھی ایک سی نہیں ہوتی اور  وہی صلاحیتیں  دراصل تقدیر کا ایک انمول تحفہ ہوتی ہیں جن کا استعمال کر کے انسان اپنے حالات کو بدل سکتا ہے۔ یاد رکھیں اگر انسان اتنا بے اختیار ہوتا تو اسے اپنے عمل کا حساب کبھی نہ دینا پڑتا۔ اللہ تعالی نے صلاحیتیں دی،  انتخاب کی، عمل کی آزادی  دی ہے اسی لیے انسان کا حساب ہو گا۔ اب یہ انسان پہ محنصر ہے کہ وہ  ان نعمتوں کا استعمال کیسے کرتا ہے۔ چاہے تو دنیا اور آخرت سنوار دے اور چاہے تو تباہ کر دے۔  اسی لیے  اقبال  کہتے ہیں

؏ کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں

ڈھونڈنے  والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

 انسانوں کا  مسئلہ  یہ ہے  کہ ہم کسی ایک پہ بھروسہ کرتے ہیں۔ کچھ سب کچھ تقدیر پہ چھوڑ کے بیٹھ جاتے ہیں، اپنی نا اہلی، نا کامی، کام چوری کو تقدیر کا لکھا سمجھ بیٹھتے ہیں  اور  کچھ تدبیر کو ہی سب کچھ مان جاتے ہیں اور پھر ہر صیحیح اور غلط کام کو کرتے چلے جاتے ہیں صرف اس لیے کہ انہیں اپنے طے کئے ہوئے کچھ اہداف کو حاصل کرنا  ہوتا ہے۔   اس کے لیے  ”جنگ اور سیاست میں سب جائز ہوتا ہے “ جیسے فقرے ایجاد کر لئے۔

یہ کائنات تمام انسانوں کے لیے مسخر کی  گئی ہے، یہ تقدیر کا فیصلہ ہے۔ لیکن  تسخیر وہی کرے گا جو ہمت کرے گا، جو تدبیر سے بھی کام لے گا۔ ایک دانشور کا قول ہے کہ اگر ہندو اور مسلمان دریا میں اتریں تو بچے  گا  وہی جس کو تیرنا آتا ہے کیونکہ اللہ جاہلوں کی مدد نہیں کرتا۔  اس لیے  انسان کو  اپنی پوری کوشش کرنی چاہیے، علوم اور فنون بھی سیکھنے چاہیے۔  لیکن یہ نہیں بھو لنا چاہیے کہ نہ تو وہ مختارِ کل ہے اور نہ ماسٹر پلانئر   اور   جہاں تدبیر بے بس ہو جاتی ہے وہاں تقدیر کا حکم باقی رہتا ہے۔   جب لگے کہ  سب راستے  بند ہو گئے ہیں تو  بھی ایک راستہ ہمیشہ کھولا رہتا ہے، دعا کا۔ لیکن اس کے لیے پختہ ایمان چاہیے۔ جب ایمان  پختہ  ہو تو حضرت اسماعیل کے پاؤ ں تلے آ بِ زم زم پھوٹ پڑتا ہے،  جو انسانی عقل اور تدبیر  سے بہت اوپر کی  بات ہے لیکن اللہ کو اس میں حضرت ہاجرہ کی سعی پسند آئی  اور ان کی اس سنت کو قیامت تک کے لیے   باقی رکھا۔ یہ ایک پیغام  ہے کہ  رب العزت   ایمان کے ساتھ کوشش کرنے والوں کو  مایوس نہیں کرتا بلکہ ان کے لیے تو معجزے ہو جاتے ہیں۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

About رومانہ گوندل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *