Home / شمارہ اگست 2018 / شمارہ جولائی 2018 / کہانی گھر گھر کی

کہانی گھر گھر کی

تحریر: راحيلہ ساجد

کہنے کو يہ ايک تحرير ہے ليکن اصل ميں يہ بہت سے گھروں کی کہانی ہے ۔ ہمارا جوائنٹ فيملی سسٹم جہاں بہت فائدہ ديتا ہے وہاں اس کے کئی نقصانات بھی ہيں ۔ ايک ہی گھر ميں ايک ہی چھت کے نيچے جب مختلف مزاج کے لوگ اکٹھے رہتے ہيں تو کئی اختلافات جنم ليتے ہيں ۔ جن گھروں ميں گھر کا سربراہ مضبوط ہو وہاں حالات قدرے قابو ميں رہتے ہيں ۔ ليکن جہاں مرد نے ڈور ذرا ڈھيلی کی اور راج عورت کے ہاتھ ميں آيا تو اس حاکميت اور طاقت کو قائم رکھنے کے ليے وہ سب کچھ اپنے ہاتھ ميں رکھنا چاہتی ہے ۔ بيٹے کو کھو دينے کے ڈر سے وہ بہو پر بےجا رعب بھی ڈالتی ہے اور بيٹے کی نظر ميں اس کی اہميت کم کرنے کے ليے معمولی معمولی باتوں پر شکوے شکايتوں کے دفتر بھی کھول لیتی  ہے ۔ دوسری طرف بہو مياں کو ہاتھ ميں رکھنے کے ليے ساس اور نندوں کی جھوٹی سچی شکایتیں لگانے سے گريز نہیں کرتی اور ايسے ميں بيٹا بيچارہ تھالی کا بینگن بن کر رہ جاتا ہے ۔

زير نظر تحرير ميں سب اپنے اپنے دکھ شيئر کر رہے ہيں ۔

ميں ايک ساس ہوں ۔۔

جی ، ميں ايک بہو کی ساس ہوں مگرنہ ہوتی تو زيادہ اچھا تھا ۔ 26 سال بيٹے نے ميرے ساتھ ميرے مطابق گزارے ۔ 20 سال کی عمر تک ہر کام ميں ميری رضا مندی ، ہر کام ميں ميری خوشی حتیٰ کہ کپڑے بھی ميری پسند سے خريدتا تھا ۔ بلکہ ميں جو لے آتی تھی پہن ليتا تھا ۔ بہنوں پر جان چھڑکتا تھا ۔

اس سے اگلے 6 سال تھوڑی بہت آزادی دی کہ آخر بيٹا ہے ، کچھ تو باہر کی ہوا لگے ۔ 2 سال پہلے اس کی جاب لگی تو مجھ سے زيادہ خوشی کسے ہونی تھی ۔ ہر تنخواہ سے بہنوں کے ليے کچھ نہ کچھ لے آنا اور ميری پسند کی بھی کوئی چيز لانا اس کا معمول تھا۔ گھر کا ماحول بہت پرسکون تھا ۔ سب ايک دوسرے سے خوش تھے ۔

اب 6 ماہ پہلے مجھے ہی شوق چڑھا تھا کہ اس کی دلہن لاؤں تا کہ ميں بھی پوتے پوتيوں کوکھیلتا دوڑتا ديکھوں ۔ بڑی چھان پھٹک کے بعد ايک لڑکی پسند آئی ۔ ميرا فرمانبردار بچہ ميری پسند پر بہت خوش تھا ۔ ليکن شادی کے ايک ہفتے بعد ہی مجھے ايسا محسوس ہونا شروع ہو گيا تھا جيسے وہ بدل گيا ہے ۔ ہنی مون سے واپسی پر بہنوں کے ليے چھوٹی چھوٹی بالياں اور ميرے ليے ايک کاٹن کی چادر لايا اور بيگم صاحبہ نے اتنی قیمتی  شال اور بيگ مجھے دکھايا تو جانو تن بدن ميں آگ لگ گئی ۔  اور اب تو 6 ماہ ہو گئے ہيں اس کی شادی کو ، لگتا ہے جيسے ميرا بيٹا کہيں کھو گيا ہے ۔ آفس سے آتا ہے ، گھڑی دو گھڑی سلام دعا کرتا ہے اور پھر کمرے ميں غائب ہو جاتا ہے ۔ مہارانی کا موڈ ہوتا ہے تو کمرے سے باہر آتی ہيں اور کچن کے کام ميں تھوڑی بہت مدد کرتی ہے ، اور موڈ نہ ہو تو جھانکتی بھی نہیں  کہ کيا ہو رہا ہے ۔ بيٹے کو اس کی شکايت لگاتی ہوں تو وہ ٹال جاتا ہے ۔ اس کی سائیڈ لينے لگتا ہے ۔ ميری اب سنتا ہی نہیں  ۔ بہنوں کو بھی پہلے کی طرح وقت نہیں ديتا ۔ پہلے کی طرح اب تو ان کے ليے چيزيں لانی بھی کم کر دی ہيں ۔ پتا نہيں ، دلہن رانی مياں کے کے کان کس کس طرح بھرتی ہو گی کہ وہ اب ہم سے بات بھی نہیں کرنا چاہتا ۔

ميں ايک بہو ہوں

ميرے بھی ہر لڑکی کی طرح ڈھيروں ارمان تھے کہ شادی ہو گی تو زندگی بدل جائے گی۔ ميں مياں کے دل کے ساتھ ساتھ گھر پر بھی راج کروں گی۔ ليکن ہوا کيا،  شادی ہوئی تو پہلی رات ہی مياں جی نےنصیحتوں  کا بنڈل سر پر لاد ديا کہ ہم جوائنٹ فيملی سسٹم ميں رہتے ہيں اس ليے سب کے ساتھ مل جل کر رہنا ہو گا ۔ چلو جی ، يہاں تک تو ٹھيک تھا ليکن يہ حکم بھی صادر ہوا کہ ميں چونکہ گھر کا بڑا بيٹا ہوں اس ليے ميرے والدين ، ميرے بھائی بہن بھی ميری ذمہ داری ہيں اور اس ذمہ داری ميں مجھے ان کا مکمل ساتھ دينا ہو گا ۔ پہلا ہفتہ تو بڑا اچھا گزرا ۔ ليکن ايک ہفتے بعد ہی ساس کا رويہ بدلنے لگا۔ جس کا احساس ہنی مون سے واپسی پر ہی ہو گيا تھا۔  ہفتے بعد ہی ميں گھر کے چھوٹے موٹے کام کرنے لگی ، کسی نے منع نہیں  کيا حالانکہ سنا تھا کہ بہو کو ايک دومہینے  کام نہیں کروايا جاتا۔ مہینہ  گزرا تو کچن ميں کام شروع کر ديا ۔ ليکن ساس کو ميراکوئی کام پسند ہی نہ آتا۔ ہر کام ميں کوئی نہ کوئی نقص نکال لیتیں ۔ شام کوميرے مياں گھر آتے تو پہلے امی کے پاس سلام کرنے جاتے اور گھنٹہ بھر بیٹھتے ۔ مجھے کوئی اعتراض نہيں تھا ۔ ليکن جب کمرے ميں آتے تو موڈ تھوڑا خراب ہوتا ۔ پوچھتی تو ٹال جاتے ۔ ليکن کچھ دير بعد ٹھيک ہو جاتے ۔ 3، 4 ماہ بعد يہ حال ہوا کہ جب بھی کمرے ميں آتے ان کے پاس ميری شکايتوں اورنالائقیوں  کا پلندہ ہوتا جو امی نے ان کے کان ميں ڈالی ہوتيں ۔ کبھی کام نہ کرنے

کی شکايت ، کبھی سارا دن حال نہ پوچھنے کی شکايت ، کبھی کچھ کبھی کچھ ۔ پہلے تو ميں چپ رہتی تھی ۔ کچھ نہيں بولتی تھی ۔ ميرا خيال تھا کہ وقتی حالات ہيں ۔آخر ان کی امی تھيں ، اتنے سال ان کے ساتھ رہيں تھی ۔ بيٹے کو بانٹنا مشکل ہو گا ۔ پہلے جو بيٹا ہر وقت ان کے ساتھ اور پاس ہوتا تھا ، اب شادی کے بعد تقسيم ہو گيا ہے تو وہ يہ محسوس کرتی ہوں گی۔ ليکن جب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شکایتیں کم ہونے کے بجائے بڑھنے لگیں تو مجھے بھی لگا کہ اب خاموش رہنا ٹھيک نہیں۔ ورنہ اس طرح تو ميں اپنے مياں کی نظروں ميں بری ہی بنتی جا رہی ہوں ۔ ميں بھی اب پچھلے ايک ماہ سے خوب کان بھرتی ہوں مياں کے ۔ ان کے کمرے ميں آتے ہی تھوڑی دير بعد ميں بھی ان کی ماں اور بہنوں کی شکایتیں لگاتی ہوں ۔ اس کا فائدہ مجھے يہ ہوا ہے کہ اب وہ مجھے ماں کی لگائی ہوئی شکایتیں  نہیں  لگاتے اور اب ہمارے جھگڑے بھی کم ہو گئے ہيں ۔ ہاں کبھی کبھار ماں ، بہنوں کی سائیڈليتے ہيں تو ميں میکے جانے کی دھمکی دے کر چپ کروالیتی ہوں ۔

ميں ايک بيٹا ہوں

امی کا لاڈلا ، بہنوں کی آنکھ کا تارا ۔ والد تو ميرے بچپن ميں ہی انتقال کر گئے تھے ، اس ليے ان کا تو مجھے ياد بھی نہیں۔ ميری ہر بات منہ سے نکلنے سے پہلے پوری ہو جاتی تھی۔ مجھے کبھی کسی قسم کی ٹينشن اور فکر نہیں ہوتی تھی ۔ سب ہی مجھ سے خوش تھے ۔ ملازمت ملنے کے بعد حالات بہت بہتر ہو گئے تھے۔ سب کے ليے ہی کبھی کبھی کچھ لے جايا کرتا تھا ۔ زندگی بہت پرسکون تھی۔ اچانک امی کو ميری شادی کی سوجھی۔ بہت مشکلوں سے انہيں ايک لڑکی پسند آ گئی ۔ ميری اپنی تو کوئی پسند تھی نہيں ، ميں نے ان کی مرضی سے شادی کر لی ۔

اب تو جيسے زندگی اور خوبصورت ہو گئی تھی ۔ شادی کے بعد دو تين دن گھومنے پھرنے نکل گئے کہ اس سے زيادہ ميں افورڈنہیں کر سکتا تھا۔ واپسی پر سب کے ليے کچھ نہ کچھ ليا۔ بيوی کو ايک شال اور ايک بيگ بہت پسند آئے وہ اسے لے ديا۔ گھر آ کر جب سب کو ان کے تحفے دکھائے تو ان کے چہروں پر کوئی خاص خوشی دکھانی نہ دی۔ اسی اثناء ميں بيگم بھی اپنی شال اور بيگ دکھا چکی تھی۔ کسی نے جھوٹے منہ تعريف بھی نہ کی بلکہ عجیب  رنگ اور عجیب سٹائل کہہ کر اس کا بھی دل برا کر ديا ۔

پہلے بھی ميں روزانہ آفس سے واپسی پر ماں کے پاس بیٹھتاتھا ۔ ہم ادھر ادھر کی گپيں لگاتے تھے اور وہی معمول اب بھی جاری تھا ۔ ليکن کچھ دنوں سے باتوں کا انداز بدل گيا تھا ۔ غير محسوس طريقے سے کسی نہ کسی بہانے بيگم کا تذکرہ ہوتا ، اس کی کسی نہ کسی کوتاہی کی نشاندہی ہوتی۔ ميرے اس کو وقت زيادہ دينے اور باقی گھر والوں کو کم وقت دينے کا شکوہ ہوتا ۔ ميں کچھ نہ بولتا ، چپ چاپ کمرے ميں آ جاتا اور بيگم کو بھی کچھ نہ بتاتا ۔ تھوڑی دير موڈ خراب رہتا ليکن پھر بيگم کی خوشگوار باتوں سے ٹھيک ہو جاتا۔ آہستہ آہستہ مجھے لگنے لگا کہ شايد امی ٹھيک کہتی ہيں اب ميں اس سے ہلکی پھلکی باز پرس کيا کرتا ۔ کبھی وہ چپ ہو جاتی ، کبھی رو پڑتی ۔ ايک دن وہ بھی آيا کہ ميں امی کے پاس سے آيا تو اس پر برس پڑا کہ آج اس نے سارا دن کچن ميں جھانک کر بھی نہيں ديکھا تھا اور امی سارا دن اکيلی کچن ميں لگی رہی تھيں ۔ اور اب تھکن سے نڈھال کمر اور پاؤں کا درد ليے بیٹھی تھيں ۔ بہنیں  دن ميں کالج اور شام ميں اکيڈمی جاتی تھيں ۔ اس نے جوابا بتايا کہ اسے تو صبح سے مائيگرين تھا اور اس کا اپنا برا حال تھا ، کسی نے پوچھا بھی نہیں  کہ سارا دن باہرنہیں  آئی کہیں  طبيعت تو خراب نہیں  تھی ۔ مجھے بہت ندامت محسوس ہوئی ۔ ليکن ظاہر ہے اب اس کے سامنے ميں اپنی ماں کو غلط نہيں کہہ سکتا تھا ۔ اور پھر ماں کی شکایتیں  بڑھتی ہی جا رہی ہيں ۔ کبھی ميری کم توجہ کا گلہ ، کبھی پہلے کی طرح چيزيں نہ لانے کی شکايت اور کبھی ميرے بدل جانے کا مسئلہ۔

ميں پہلے بالکل اکيلا تھا ۔ جب دوستوں کی طرف نہیں  جاتا تھا تو گھر والوں کے ساتھ وقت گزارتا تھا۔  مجھے سمجھ نہیں  آتا کہ ميں ان کو کس طرح سمجھاؤں کہ ميری شادی ہو چکی ہے ۔ اور آپ کی مرضی سے ہی ہوئی ہے تو مجھے اب اپنا وقت بانٹنا پڑتا ہے ۔ ميرا بجٹ ميرے اخراجات کا ساتھ نہیں  ديتا ۔ ميں اب پہلے کی طرح فضول خرچی نہیں  کر سکتا ۔ اب ميری بيوی بھی ميرے ساتھ ہے ، مجھے اس کی ذمہ داری بھی اٹھانی ہے ، ليکن وہ اس تبديلی کو ذہنی طور پر قبول کرنے کو تيار ہی نہیں  ۔

ميں ايک شوہر ہوں

جس دن ميں شوہر بنا بہت خوش تھا ، لگتا تھا ہفت اقليم کا خزانہ ہاتھ لگ گيا ہے ۔ اچھا تو نہیں  لگ رہا تھا ۔ليکن شادی کی پہلی رات ہی بيوی کو جوائنٹ فيملی سسٹم کے بارے ميں سمجھايا کيونکہ وہ لوگ عليحدہ رہتے تھے اور اسے اس چيز کا تجربہ نہیں  تھا ۔ خير وہ کچھ نہیں  بولی سوائے اس کے کہ وہ پوری طرح ميرا ساتھ دے گی ۔ مجھے بہت خوشی ہوئی ۔ اگلے 3 دن ہواؤں ميں اڑے ۔ ہنی مون پر گئے ۔ جلدی واپسی کی وجہ سے اس کا موڈ خراب تھا ليکن سمجھانے پر مان گئی۔  اس نے سب کے ليے گفٹس پسند کيے ۔ خود کچھ نہیں  ليا ۔ ليکن ايک دکان ميں اسے شال اور ايک بيگ پسند آيا جو ميں نے اسے لے ديا ۔ گھر واپسی پر اس کی اس خريداری پر اعتراض کيا گيا ۔ وہ چپ رہی ۔ کمرے ميں آ کر رونے لگی ۔ بولی کچھ نہیں  ۔ اگلے چند دنوں ميں اس نے ميرا بہت خيال رکھا۔ ميں بہت مطمئن ہو گيا ۔ امی کی روزانہ کی شکایتیں  ميرا موڈ خراب کرتيں ليکن اس کو ديکھتے ہی ميرا موڈ فريش ہو جاتا ۔ پہلے وہ ان شکايتوں پر کچھ بھی نہ کہتی بلکہ رونے لگتی ۔ ميں اس کو بہلانے ميں لگ جاتا ۔ جس دن مائيگرين والا قصہ ہوا ۔ اس دن شام کو اس نے چپ توڑی اور پہلے دن سے لے کر اب تک کی تمام شکایتیں جو بقول اس کے زيادتياں تھيں مجھے سنا ديں ۔ ميں امی کی لگائی ہوئی شکايتوں کی روشنی ميں ساتھ ساتھ اسے بتاتا رہا کہ يہ بات مجھے اس طرح سے پتا چلی تھی ۔ اس بات کا تعلق اس بات سے ہے وغيرہ وغيرہ ۔ ليکن اس دن بس جيسے اس نے بولنے کا تہيہ کر ليا تھا ۔

اب ميں ہوں اور امی اور بيوی کی شکایتیں  ۔ روزانہ ڈاکٹر کی بتائی ہوئی دوائی کی طرح پہلے امی کے پاس سے اس کی شکایتیں  سنتا ہوں ۔ اگر سائیڈ لوں تو امی ناراض ، سائیڈ نہ لوں تو بيگم ناراض ۔ بعد ميں بيگم کی شکایتیں سنتا ہوں ، يہاں بھی حال وہی ہے ليکن يہاں ناراضگی کے ساتھ ساتھ ميکے جانے کی دھمکی بھی ہوتی ہے ۔ جو ميں نہیں  چاہتا ۔ کيونکہ مجھے وہ اچھی لگتی ہے ۔ اور ميں جانتا ہوں کہ وہ بھی مجھے پسند کرتی ہے مگر روز کی چخ چخ سے تنگ آ کر وہ بھی زبان دراز ہو گئی ہے ۔ مجھے تو اس کا کوئی حل سمجھ نہيں آتا ۔۔۔۔۔

آپ نے ديکھا ہر ايک خود ترسی یعنی سيلف پٹی ميں مبتلا ہے اور يہ بہت بڑا الميہ ہے ۔ جہاں معاشرے ميں اتنے بڑے بڑے مسائل جنم لے چکے ہيں ۔ ہم ابھی تک انہی پرانے اور انتہائی فضول باتوں اور بےوقعت مسئلوں ميں الجھےہوئے  ہيں ۔ اس خود ترسی ميں مبتلا مريض نہ ان نعمتوں پر غور کرتا ہے جو اسے ملي ہيں اور نہ ہی شکر ادا کرتا ہے بلکہ ہر وقت شکوے شکايتوں ميں الجھا رہتا ہے ۔ اور  ۷ ہم سب کو مل کر حل کرنا چاہئے جن پر آواز اٹھانی چاہئے عملی طور پر کام کرنا چاہئے وہ سب تو ان گھر گھر کے گھریلو مسائل کو بتانے،سننے سلجھانے میں دبتے چلے جاتے ہیں ۔

ہم نماز ، روزہ کو تو دين کا حصہ سمجھتے ہيں ليکن لوگوں سے معاملات یعنی  حق تلفی ، طعنہ زنی ، ناانصافی کو اپنا حق سمجھتے ہوئے دين کی بنيادی تعليم ‘ ايمان بالغيب’ سے کسر نظر کرتے ہيں ۔ کیونکہ اس طرز عمل میں یوم حشر ،یوم تغابن ،یوم حسرت پر ایمان دکھائی ہی نہیں دیتا ۔اگر واقعی آخرت پر کامل یقین ہوتا تو لمحے لمحے زبان کی،آپس کے تعلقات کی، حفاظت کرتے۔لمحہ ضائع کئے بغیر دوسرے کو معاف کرتے،لمحہ بھر میں راضی ہو جاتے ،ہر لمحہ ہر عمل تول رہے ہوتے ،قبل اس کے کہ میزان قائم ہو اور خیر و شر کا ذرہ ذرہ اس میں تولا جائے۔

تو کامیابی کی چار بنیادی شرائط میں سے جب کچھ بھی پورا ہو ہی نہیں رہا ایمان بالغیب ، عمل صالح وتواصوا بالحق و تواصوا بالصبر تو خسارے کے سوا رہ کیا جاتا ہے پھر؟

يہ بات بھی قابل غور ہے کہ جہاں دلوں میں گنجائش کے بجائے تنگی آ جائے وہاں زندگی بھی تنگ ہو جاتی ہے۔ الگ ہو جانے پر سب اپنی مرضی کی دنیا بسا کر اللہ کی متعین کردہ فرائض سے بھی ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔  بہانہ یہی کہ اس مہنگائی میں گزارا کرنا مشکل ہو جاتا ہے یہ کسی حد تک درست بھی ہے لیکن ایک مرد پر بہر حال اس کے والدین کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اسے پورا نہ کرنے والے آخرت میں جواب دہ ہیں۔

بہترین حل یہی ہے سب بیٹھ کر دلی کھچاؤ کا سبب جانیں اور اسے دور کرنے میں سب اپنا اپنا کردار ادا کریں اس سب میں گھر کے سربراہ کا کردار سب سے اہم ہے ۔ اگر مرد سربراہ نہ ہو تو خاتون یعنی  ساس کو چاہيے کہ وہ آنے والی بہو کو گھر کے فرد کا درجہ دے ۔ اسے بيٹی سمجھے ، دشمن نہیں  ۔ اتنی چاہت سے بياہ کر لائےجانے والی کو پرايا سمجھنا بذات خود سب سے پہلی اور بنيادی غلطی ہے ۔ جو اس کے بعد پيدا ہونے والے بہت سے مسائل اور پريشانيوں کی وجہ بنتی ہے ۔

اسی طرح بہو کو بھی چاہيے کہ ساس کو اپنی والدہ کی طرح سمجھے ۔ مياں کو مٹھی ميں کرنے کےبجائے ساس کا دل جیتے ۔ شرعاً بہو پر ساس کی خدمت لازمی نہیں ہے، لیکن اخلاقی طور پر اگر وہ اپنی ساس کی خدمت کرے تو اس کے لیے بہتر اور باعث اجر ہو گا۔

اللہ نے مرد کو گھرانے کا سربراہ بنایا ہے اور ماں کے حقوق بہت زیادہ ہیں مگر ان دونوں فریقین میں بیلنس رکھنا باپ اور بیٹے یعنی مردوں پر ہے۔ کسی کی حق تلفی نہ کریں کسی کو ناجائز نہ بولیں۔ اور گھر کے ماحول کو تلخ ہونے سے بچانے کے ليے ممکنہ حد تک اپنا رول مثبت طريقے سے ادا کريں۔

زندگی کو جنت بنانے کا بہترین طریقہ ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کو اپنے والدین کی طرح سمجھیں، کوئی فرق نہ کریں تو ہزاروں مسائل جو آج کل کافی گھروں میں چل رہے ہیں حل ہو سکتے ہیں۔ گھروں میں لڑائی جھگڑوں کی زیادہ وجوہات یہی ہیں کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے والدین کو اپنے والدین کی طرح نہیں سمجھتے ہیں، جس کی بنا پر ایک دوسرے میں نفرتیں جنم لیتی ہیں اور یہ معاملات بڑھتے بڑھتے بعض اوقات میاں بیوی میں علیحدگی کا سبب بن جاتے ہیں ۔

اللہ ہمیں اعتدال اور میانہ روی سے زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔۔اور حقوق العباد کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔۔۔

***********

About راحیلہ ساجد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *