Home / شمارہ اگست 2018 / شمارہ جولائی 2018 / کیا آپ تعریف اور اصلاح کرنے میں کھلے دل کے مالک ہیں؟

کیا آپ تعریف اور اصلاح کرنے میں کھلے دل کے مالک ہیں؟

تحریر :طوبیٰ منظور

تعریف کے وہ الفاظ جسے آپ کسی انسان کو کہنا پسند نہیں کرتے، یہ سمجھتے ہیں کہ ابھی وہ انسان اس تعریف کے قابل نہیں ہوا، یہ سوچتے ہیں کہ کیا فرق پڑتا ہے تعریف کریں یا نا کریں، کام دیکھ کر خاموش ہو جاتے ہیں، اگر کہتے بھی ہیں تو صرف طنزیہ، ایسا کچھ جس سے سامنے والا دوبارہ سے ہمت نا کر سکے کچھ کر دکھانے کی، نکالتے ہیں تو صرف غلطیاں، جتاتے ہیں تو صرف یہ کہ تمھیں  تو یہ بھی نہیں آتا، ہنسی اڑاتے ہیں،اور آپ کو لگتا ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا؟

سارا فرق ہی اس سے پڑتا ہے، کام کے شروعات میں کسی انسان کو اپنے کام کی تعریف پر جو خوشی ملتی ہے اس سے اس کی کام کرنے کی ہمت دوگنی ہو جاتی ہے، اور اس تعریف کے نا ہونے پر وہ اپنی صلاحیت پر ہی الجھن کا شکار ہو جاتا ہے کہ شاید یہ کام اس کے لئے ہے ہی نہیں، شاید اسے یہ کام کرنا ہی نہیں چاہئے۔ وہیں منفی الفاظ اس انسان کو یہ بتا دیتے ہیں کہ واقعی اس نے جو کام کیا ہے وہ کرنا ہی نہیں چاہئے،اور اسی طرح آپ، میں، ہم سب کسی بھی انسان کو اس کی صلاحیت نکھارنے میں مدد کرنے کے بجائے اس کو وہ بننے پر مجبور کر دیتے ہیں جو وہ ہوتا ہی نہیں ہے۔

ہمارے ارد گرد پتہ نہیں کتنے لوگ صرف اسی احساس میں اپنی خواہشات اپنے خواب اپنی صلاحیتیں گنوا دیتے ہیں چھوڑ دیتے ہیں کہ ان کے اندر کوئی قابلیت ہے ہی نہیں، کیونکہ ان کو حوصلہ دینے والا کوئی نہیں ہوتا۔ انہیں یقین دلانے والا کوئی نہیں ہوتا کہ وہ کچھ کر سکتے ہیں۔ان کی تعریف نہیں کی جاتی، ان کی اصلاح نہیں کی جاتی، الٹا ان کو طنزیہ الفاظ سے نوازا جاتا ہے ان کی غلطیوں کا مذاق بنایا جاتا ہے۔

آپ کے الفاظ بہت طاقت رکھتے ہیں خاص طور پر آپ کے ارد گرد موجود لوگوں کے لئے۔ اپنے الفاظ کو ضائع مت کریں، انہیں اپنے آس پاس موجود لوگوں کو بنانے کے لئے استعمال کریں۔ انہیں بتائیں کہ انہوں نے اچھا کیا ہے۔ ان کی اصلاح کریں، ان کو آگے بڑھائیں،اور اگر آگے بڑھا نہیں سکتے تو کم از کم ان کی راہ کا پتھر بھی نا بنیں۔

                  

About طوبی منظور

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *