Home / رمضان سپیشل / کیا اب بھی وقت نہیں آیا؟

کیا اب بھی وقت نہیں آیا؟

اب ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں  جہاں ہمیں فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہم بحیثیت قوم کس طرح چلنا چاہتے ہیں؟  ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو ہمیں ایک تنگی، گھٹن  کا احساس ہو تا ہے جس میں کوئی بھی حساس ، ذی شعور، سوچتا، جاگتا ذہن رہنا پسند نہیں کرتا۔ ہر شعبہ روبہ زوال ہے اور زبوں حالی بھی کچھ ایسی کہ ابھی ہمیں ابتدائی ڈھانچے بھی میسر نہیں ہیں۔ اس معملے میں کیا دنیا اور کیا دین ، سب ہی تباہ ہیں۔

ہمارا ملک ایک نہیں بہت سے مسالک، فرقوں، مذہبوں، مدرسوں میں بٹا ہوا ہے۔ طرف تماشہ یہ کہ ہر ایک کو اپنے ہی اصل، سچا ، حق پر ہونے کا ایسا دعویٰ کہ اس کے لیے وہ مخالف کی گردن اتارنے سے بھی گریزاں ہرگز ہرگز نہیں ہے۔ آخر آگ و خون کی اس ہولی میں ہم کب تک اپنی نسلوں کو جھونکیں گے؟ اگر ایسا ہی ہے مذہب تو  ایسے مذہب کو دور سے ہی سلام جو اپنے جیسے انسانوں اور انسان بھی کون جو ہم مذہب ہی ہوئے، کی گردن کاٹنے کا ٹھیکہ مفت میں دیٗے دیتا ہے۔ بھلا کچھ دیر یہ ہی سوچ لیتے ٹھہر کر کہ کیا اثر قبول ہو گا ہمارے اسلام کا، ملک کا دوسروں ہر؟ اپنی عزت تو ہم گنوا ہی چکے اب ملک، مذہب کی جو رہی سہی کسر باقی ہے اس کی تو لاج رکھ لو۔

ہر طرف دو اینٹ کی مسجد بنی ہے، مختلف رنگ کے لباس ہیں جو معتبر ٹھہرائے جا رہے ہیں دین سے، خداوند سے محبت کی نشانی کے طور پر اور سینہ زوری ایسی کی ان سے انحراف گویا دین سے ہی اخراج سمجھا جانے لگا ہے۔ کہاں تھے میرے آقا کے دور میں یہ سب مسلک، مذہب، فرقے؟ بس نہ دعویٰ علم نہ پارسائی ہے بس سمجھے ہیں تو اتنی سی بات کہ اسلام ایک سیدھا سادا سا دین اترا تھا، موشگافیاں نہ اس وقت جائز تھیں، نہ آج کے انسان کے پاس اتنا وقت و علم۔ قرآن کافی، نبی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتیں حکم باقی  رہےعلماٗ  تو اللہ تعالیٰ  نے ہماری آسانیوں کے لیے ہر دور میں پیدا کیے ہیں۔ ان سے استفادہ جائز مگر ان کے احکامات کے پیچھے اپنے ہی مسلمان بھائی  سے مخاصمت مجھے تو کسی طور جائز نہیں لگتی۔ آپ کو جائز لگتی ہو تو ضرور مخاصمت رکھیں مگر مجھے صرف ایک سوال کا جواب دے دیجیے کہ جناب آپ کے طریقے پر تو ہم صدیوں سے ایک دوسرے کا گلا کاٹتے آرہے ہیں، ایک دوسرے پر تکفیر کے فتوے لگاتے آرہے ہیں، ایک دوسرے کے پیچھے نمازیں پڑھنا جائز نہیں سمجھتے رہے تو کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ہم ازسر نو اپنے رویوں پر نظر ثانی کریں کہ کہیں نہ کہیں تو کوئی خامی ضرور ہے جس کے سبب ہم ایسی پستی کا شکار ہیں؟ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ہم بحیثیت قوم اپنے مزاج، کردار کا جائزہ لیں اور اسے بدلیں، اپنی قوم مین برداشت، تحمل کا مادہ پیدا کریں۔ نفرتیں کسی کو فائدہ نہیں پہنچاتیں اور ہمیں تو بحیثیت پاکستانی نفرت نہیں، پیار بانٹنا ہے، تحمل، برداشت پیدا کرنا ہے۔  اس ماہ مبارک کی مناسبت سے یہ بھی بہت ہو گا اگر ہم اپنے رویوں میں برداشت بالخصوص اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے لیے ، پیدا کر لیں۔ آپس میں ایک ڈائیلاگ کا ماحول پیدا کریں کہ اگلے کی بات سنی تو جائے کہ آخر وہ کہتا کیا ہے، ہم ہمیشہ صحیح نہیں ہو سکتے۔

ہم میں سے ہر کسی کو یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ بس میں صحیح گھر، ملک، مذہب میں پیدا ہو گیا ہوں، ہم سب کا یہ ہی خیال ہے، ہم سب اسلام کے بارے میں یہ سوچتے ہیں۔ سرحد کی اس پار سارے ہندو بھی یہ ہی سوچتے ہیں، سکھوں کا بھی یہی عقیدہ ہے۔ حد تو یہ ہے ہمارے گھر کے پاس رہنے والا عیسائی بھی یہ ہی سوچے گا تو صرف مسلمان ، ہندو، عیسائی، سکھ پیدا ہونے سے ہی آپ صحیح نہیں ہیں، پاکستان میں پیدا ہونے سے پاکستان اچھا نہیں ہو گیا۔ امریکہ میں پیدا ہونے سے امریکہ اچھا نہیں ہو گیا، آپ کام دیکھیں، دعوت دیکھیں، مقصد دیکھیں، اس کے ماننے والوں سے ڈائیلاگ کریں پھر فیصلہ کریں کہ کیا صحیح اور کیا غلط۔ ۔ ہمیں اللہ اپنے رویوں میں برداشت، حلم پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، اپنے آقا کی برداشت کا ایک فیصد بھی پاکستانی قوم کو عطا فرمائیں۔ آمین

About ڈاکٹر فہد چوہدری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *