Home / خواتین اسپیشل / کیا میں بد نصیب ہوں؟؟؟

کیا میں بد نصیب ہوں؟؟؟

روزمرہ کچھ معاملات اٹک سےجاتے ہیں۔۔۔بےروزگاری، بیماری، قرضے،مقدمے، بےوفائی ،طلاق ،رشتہ کا نہ ہونا ،بے اولادی ۔ ان حالات میں ہمارا رویہ دعاؤں وظیفوں کے بعد یہ ہو جاتاہے کہ  اللہ میری نہیں سنتا ہے ۔میں بدنصیب ہوں ۔

یہ قسمت نہیں ہوتی، بلکہ انسانوں کی زندگی کے چیلنجزز ہوتےہیں ۔پریشانی کوئی بھی ہو ہم نے اس کو لاشعوری طور پر سزا سمجھ لیا ہے۔اللہ ناراض ہے،مکافات عمل ہے،ہماری عبادات میں کمی ہے،ایک ظالم خیال رّب صرف عبادت گزاروں کا ہے۔

اگر  توجہ دیں تو احساس  ہو گا غم تو پیچھے  رہ گیااب جو ہم    کر رہیں وہ رّب کا کام یعنی فیصلہ سنا رہے، جج کررہے ہیں ۔جوسارے فیصلے رّب نے بندے کے بارے میں کرنے ہوتے ہیں وہ ہم خود کرچکے ہوتےہیں۔یہ باتیں غصہ، ڈپریشن اور مایوسی کو جنم دیتی ہیں۔ اذیّت در اذیّت کا سامان ہم خود کرتے ہیں۔

اللہ کی ذات و کبریائی کے ساتھ ہم نے جزا وسزا کا  جو تصور جوڑ دیا و ہ خود ساختہ ،معاشرتی رجحانات اور محاوراتی تصوارت پر مشتمل ہے۔ یہ نام نہاد کچےپکے علم کا نچوڑ ہے جو ہمیں  نفسیاتی کرب میں مبتلا کرتا کہ ہماری دعا قبول نہیں ہورہی ہے تو ہم نا مکمل ہیں ۔ہمارے وجود سے رّب کو لگاؤ نہیں ،کوئی ناقابل  معافی گناہ سر ذد ہوگیاہے ۔ایک شرمندگی دل میں جگہ لے لیتی اور ہم اصل رب  کے وجود سے جدا ہو جاتے ہیں۔  پس جس ذات کو طاقت کا سر چشمہ بنا کر ہم نے زندگی کا اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا تھا اور خود کو نکھارنا تھا وہاں ہم ایک کشمکش کا شکار ہوجاتے ہیں ۔زبان پر دعا کے الفاظ تو ہوتے ہیں، پر دل خالی ہوتا ہے۔

اللہ توفرماتا ہے ،جب میرا بندہ پکارتا ہے میں جواب دیتا  ہوں ۔کہاں لکھا ہے عبادت گزار بندہ پکارتا ہے،تو میں جواب دیتا ہوں۔؟

اللہ کو ہماری عبادات کی ضرورت ہے؟فرشتے اس کی عبادت میں دن رات مصروف ہیں۔

 یہ سارے مایوس ہونے کےحیلے ہیں۔اللہ نے تو اس مایوس راندء درگاہ  ابلیس کے  مہلت مانگنے پر اسے بھی خالی ہاتھ  نہیں لوٹایا تو ہم تو  اس کےبندے ہیں۔ طوفان میں کب نظر آتا ہےاور پریشانیاں طوفان ہی تو ہوتی ہیں۔ رب  پر یقین کے سہارے چلتے رہیں ۔ ایمان کا حصہ ہے کہ کچھ بھی نظر  نہ آرہا ہو تو بھی ہم یقین رکھیں۔ رب بہترین معاملہ کرنے والا ہے۔

ایک اورتوجہ طلب حقیقت کئی دفعہ ہم دعا کررہے ہوتے اور متبادل صورتحال پیش آجاتی ہے۔ دماغ ماؤف ہوکر رہ جاتا ہے۔اتنی سختی کیوں آگئی ہم نے کیا غلط مانگ لیا؟؟   یہاں حضرت موسی کا واقعہ ہماری رہنمائی کرے گا ، ان کی والدہ کی حالت کا اندازہ کریں وہ حضرت موسیٰ کو فرعون کے سپاہیوں سے بچانے کے لئے دریا میں ڈالتی ہیں  تو اللہ کی حکم سے دربار فرعون میں پہنچا دیے گئے۔اللہ ناراض تھا کیا ان سے ؟؟ بالکل نہیں یہ اس کی حکمت تھی۔انسانی آنکھ ہر دفعہ معاملہ کا احاطہ نہیں کر پاتی ہے۔

 ایک اور زوایہ نظر کہ  مسلسل مشکلات کسی کے نااہل ہونے کی نشانی ہیں۔حضرت یوسف  کی زندگی کے تمام واقعات   حکمت کے بے شمار موتی لئے ہوئے ہیں کہ بھائیوں نے کنویں میں ڈالا،بازار مصر میں فروخت ہوئے، غلام بنے ،الزام لگا،قید ہوئی اور  آخر میں شاہ مصر کا مقام ملا۔ اگر ان کی زندگی کے ایک ایک واقعہ کو الگ کیا جاتا تو کیسی قیامت تھی جو آئی مگر  سب ایک تسلسل جہاں تھا جو ظہور پزیر ہورہا تھا۔تمام واقعات ا اللہ کا نظام  ہے وہ بہترین منصوبہ ساز ہے ۔

اس کے بر عکس ہمارا حال یہ ہے  کہ اگر ہمارے سامنے ایسے معاملات آئیں جیسے سالوں بعد اولاد ہوئی تو معذور،مشکلوں سے نوکری ملی تو حادثہ ہو گیا،نئے گھر یا دکان میں آگ لگ گئی،شادی ہوتے ہی طلاق  ہو جائے  یا بیوہ ہونا ۔اس حال میں وہ صرف ایک منظر ہوتا ہے جسے دیکھ کر ہم  فورا ًپوری کہانی خود سے بنا لیتے ہیں اور لوگوں کے ساتھ خوش نصیب یا بدنصیب ہونے کے لیبل جوڑ دیتے  ہیں۔تقدیر اور تدبیر کے سارے فلسفے بھی کھنگال مارتے ہیں۔حاصل و محصول فقط  مایوسی ۔

اسی طرح  بنیادی نقطہ عبادات کے ضمن میں عرض ہے کہ  یہ فرض ہیں پر ان کے ساتھ خواہشات کے نتائج وابستہ کرنا خود کو اذیت میں مبتلا کرنا ہوتا ہے۔عبادت تورب کے ساتھ محبت اور وابستگی کا اظہار ہے۔دینے کا وعدہ تو اس نے  ہر حال میں کیا ہے ۔صرف ذہن میں رکھیں اللہ میرا مالک اور خیر خواہ ہے۔وہ جو بھی کر رہا میرے لئے خیر ہے۔ہمارے حساب سے جو محرومی کے معاملے ہیں اس کو رب کے حوالے کر دیں۔ دنیاوی اعتبار سے ہم ذرائع کی روشنی میں  معاملات سے نتائج اخذ کرتے ہیں اوررب ذرائع پیدا کرنے والا ہے۔ اس کا حکم ہو تو آگ حضرت ابراہیم کو نہیں جلاتی ،پانی حضرت موسی کو راستہ دے دیتاہے۔ایمان کا لیول گہرا ہوگا تو احساس ہوگا کہ ہر معاملہ اللہ چلا رہا ہے کچھ بھی خودبخود نہیں ہو رہا ہے۔وہ اس کائنات کا خالق ،مالک اور چلانے والا ہے وہ جب چاہے کائنات کے کسی بھی اصول میں تبدیلی کرسکتا ہے۔اللہ ہماری زندگی کو ہم سے بہتر سمجھتا ہےاور جوہمارے وہم وگمان میں بھی نہیں ہے وہ اس کا  بھی کامل علم رکھتا ہے۔ ضروری  نہیں ہم جو محرومیوں کے پس منظر میں خود کو بدنصیب سمجھ رہے ہیں اللہ بھی ہمیں ایسے ہی دیکھتا ہو۔۔

یاد رکھیں!! اللہ کہتا ہے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق  ہوں ۔اس سے ہر حال میں خوش گمان رہیں ۔ ہمارا کام دعا کرنا ہے اور آگے اللہ کی ذمہ داری ہے۔

اس سوچ کا فوری انعام تو یہ ہے کہ پریشانی ،غم،احساس محرومی اور پچھتاوا ہماری زندگی سے ختم ہونے لگتا ہے۔ اور مستقل بنیادوں پر اگر سوچ کی آبیاری ان نکات پر کی جائے تو اخروی کامیابی کی تو گارنٹی ہے ساتھ ہی ساتھ  دنیا بھی آسان لگتی ہے۔

ام حبیبہ

About ام حبیبہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *