Home / آزادی سپیشل / کیا ہم آزاد ہیں؟

کیا ہم آزاد ہیں؟

اگست کا مہینہ ہر سال پاکستانیوں کے لیے برسوں پہلے آباؤ اجداد کی حاصل کی ہوئی آزادی کی یاد لے کر آتاہے ۔  یہ آزادی ہمارےآباؤ

اجداد نے اس لیے حاصل کی تا کہ ہم  اپنے دین اسلام کے مطابق خود مختاری سے اپنی زندگیاں گزار سکیں ، عملی طور پر اپنی  زندگی کو

خالق کی منشا کے عین مطابق ڈھال سکیں ۔ ہمارے آباء کا نعرہ کیا یہ نہیں تھا ” پاکستان کا مطلب کیا؟ لاء الہ الا اللہ ”۔

چنانچہ اس نعرے کا پرچار تو ازل سے ہی ہوتا رہا اور ہو رہا ہے لیکن آج اس آزادی  کو منانے سے قبل ہم اس نعرے یعنی مقصدِ حصول پاکستان ، کا تجزیہ کرتے ہوۓ خود  سے پوچھتے ہیں کہ ”کیا  ہم واقعی آزاد ہیں ؟” اس نعرے کا مطلب حقیقی معنوں میں نا صرف غیروں کے تسلط سے آزادی تھا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ  اپنے نفس اور خود غرضی کے تسلط سے بھی آزاد ہو کر خود کو صرف اصل خالق و مالک کی غلامی میں دینا اور دنیاوی  فلاح کے ساتھ ساتھ  ابدی آزادی و خود مختاری کا حصول تھا ۔ سو غیروں کے تسلط سے تو ہم نے آزادی حاصل کی لیکن اپنے نفس کی برائیوں اور خود غرضیوں کی غلامی کر تے ہوے  اپنے معبود برحق کے ہر حکم کو پس پشت ڈال دیا ، نتیجتا غیروں کے ظلم و ستم سے تو نجات ملی  لیکن آپس میں ایک دوسرے پر ظلم و زیادتیکے بازار گرم ہیں  ۔ ناپ تول میں کمی ، کاروبار  و دفاتر میں بے ایمانی و نا انصافی ، رشتہ داروں کے حقوق  کی عدم ادائیگی و قطع تعلقی ، نا حق مال کھانا ، اپنے ہی مسلمان بہن بھائیوں کی عزت کو پا مال کرنا ، قتل و غارت گری ، تفرقہ بازی ، منافرت یہ سب ظلم و ستم آج غیروں نے نہیں، اپنوں نے ہی اپنوں پر ڈھاے  ۔ چنانچہ ہم صحیح معنوں میں آزاد نا ہو سکے بلکہ غیروں کی غلامی سے نجات پا کر اپنے برے نفوس  کی غلامی میں جکڑے گئے ۔ حقیقت یہ ہے کہ آج ہمیں معاشرے کی اجتماعی اصلاح کا رونا رونے سے پہلے اپنی اپنی انفرادی اصلاح کی ضرورت ہے ۔ اسلام کا مخاطب دراصل یہی فرد واحد ہے کیونکہ معاشروں کی اصلاح  کا عمل اس کے افراد کی اصلاح سے ہی ممکن ہے  ۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ آج ہمیں ایک دوسرے کے اعمال کریدنے کی بجاے  انفرادی سطح پر اپنے اپنے اعمال کریدنے اور ان کا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ دوسروں پر حد لگانے  اور الزام تراشی کا رویہ  ترک کرتے ہوے  خود کو حدود  کا پابند بنانے کی ضرورت ہے ۔کسی بھی معاشرے کی بہترین ریاست اس کے بہترین افراد ہی سے معرض وجود میں آیا کرتی ہے اپنے اندر آج اسی احساس کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے یعنی اپنی انفرادی اصلاح کے ذریعے سے اپنے برے نفوس کی غلامی سے تسلط پا کر ، اپنی انفرادی اصلاح کے عمل سے گزر کر ہی ہم صحیح معنوں میں آزاد ہو سکتے ہیں۔آئیے جشن آزادی اسی احساس اور عہد کے ساتھ منائیں کہ ہم اہل پاکستان آج اپنی انفرادی اصلاح اور باہمی محبت و اخوت کے ذریعے ، اپنی ذمہ

داریاں  قبول کرنے کے ساتھ خدا ذوالجلال سے ایک بہترین ریاست کے قیام کی امید کریں  گے ان شاء اللہ

About امِ مریم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *