Home / شمارہ اپریل 2017 / کیفیت کیوں بدلتی ہے

کیفیت کیوں بدلتی ہے

کیفیت کبھی ایک جیسی نہیں رہتی ۔ برے سے برا انسان بھی کبھی اپنے آپ کو اللہ کے قدموں میں رکھ کے آنسووں کی جھڑی لگا دیتا ہے اور کبھی پرہیز گار اور متقی لوگ بھی غافل ہو جاتے ہیں ۔جہاں چور کے ولی بننے کا واقعہ ملتا ہے وہیں پہ ایک ولی کے اپنے مقام سے گرنے کا بھی ذکر ہے یہ ایک قدرت کا قانون ہے کہ انسان ہمیشہ شعوری ارتقاء میں رہتا ہے لیکن ان بدلتی کیفیتوں میں ہمارے ظاہری اعمال اور باطنی خیال کا بھی بہت عمل دخل ہوتا ہے ۔ ظاہری اعمال میں ۔کسی کو تکلیف دینا ۔ کسی کی دل آزاری کرنا ۔کسی کا حق کھانا۔ اپنے فرائض سے منہ پھیر لینا ۔ والدین کو اہمیت نہ دینا ۔ بیوی بچوں کو اپنی محبت سے محروم رکھنا۔ غریب سے نفرت کرنا ۔بھوکے ہمسائے کی موجودگی میں خود پیٹ بھر کر کھانا کھا لینا۔ نماز سے جی چرانا ۔ حلال میں حرام کی ملاوٹ کرنا۔ اور اسی طرح بہت سے اعمال ایسے ہیں جو ایک انسان کی پاکیزہ کیفیت کو حرص و لالچ کی طلب میں بدل دیتے ہیں باطنی خیال میں کسی کے متعلق حسد کا خیال کرنا ۔بدگمانی رکھنا ۔ سوچ میں سوقِ پارسائی کا سما جانا۔ اجتماعی مفاد کو پسِ پشت ڈال کر بس اپنے مفاد کی پلاننگ کرنا۔لوگوں کو اپنے سامنے عاجز کرنے کی چاہت کا خیال ۔کسی کا برا چاہنا یا سوچنا ۔گھر والوں کی خدمت کو اپنا احسان سمجھنا۔کسی نسوانی وجود کو دیکھ کر اس کے حصول کی خواہش کو دل سے لگا لینا ۔

بے فیض لوگوں کی صحبت ، اور اسی طرح کے بہت سے خیالات انسان کے باطنی سکون اور صاف کیفیت کو داغدار کر دیتے ہیں اور انسان حیران و پریشان رہ جاتا ہے کہ کوشش کے باوجود اب دل میں وہ نرمی نہیں ۔روح میں وہ سکون نہیں ۔ عبادت میں وہ چاشنی نہیں ۔نماز کی رغبت نہیں ۔ اور پھر اس سے ایسا ہوتا ہے کہ وجد و بے خودی حقیقی نہیں بلکہ بناوٹی ہو جاتی ہے کسی غریب کا سہارا بن جانا روحانی کیفیت کے حصول کا ذریعہ ہے ۔جتنا کسی کا باطنی تعلق پائیدار ہوتا ہے اتنی ہی کیفیت دیر پا ہوتی ہے ۔اپنی روحانی کیفیت کی حفاظت کے لیے ہی کیفیت والے تنہائی کو زیادہ پسند کرتے ہیں ۔ زیادہ بولنے اور بحث و تکرار سے بھی کیفیت کی لطافت الجھن میں بدل جاتی ہے۔کیفیت عطا کرنے والا ہی کیفیتوں کی حفاظت کرتا ہے۔

About سالک وٹو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *