گلدستہ

مرتب:  ماہم یامین

حمد

صبا کو کس نے چمن میں سبک خرام کیا
سحر کے وقت ستاروں کو ہم کلام کیا

ترے ہی عشق نے بخشی ہے اس کو آزادی
جبھی تو دل نے خرد کو بھی زیرِ دام کیا

بدلتے رہتے ہیں شام و سحر سبھی موسم
کہ گردشوں کو ازل سے یونہی مدام کیا

لکھی ہیں کس نے یہ آبِ رواں پہ تحریریں
ہر ایک قطرہ شبنم کو تیرے نام کیا

کہ ظلمتوں میں کبھی نور میں ہویدا ہے
کہ دن کو رات سحر کو جو تو نے شام کیا

نزہت عباسیؔ

 

 

نعت

نام لوں تیرا تو اشکوں کی لڑی جاری ہو

ہو مُحبت جو محمد سے تو معیاری ہو

لفظ جو میم پہ ہے حرفِ مُحمّد پہ یہاں

اِس کو دل پہ جو لگاؤ تو ضرب کاری ہو

اپنی مرضی سے نہیں چُنتے ہیں کوئ سُنت

پوری سیرت پہ مگر اپنی عمل داری ہو

دِل بدلتے ہی نہیں جسم بدل دیتے ہیں

کیفیت دِل پہ بهی جِسموں کی طرح طاری ہو

حال  رہتا   ہے   وہیں  پر   اور  حُلیہ   تبدیل

دل بدلنے میں بهی تهوڑی سی طلب گاری هو

بس اِسی واسطے عملوں کو ہے ڈهالا سلمان

سامنے رب کہیں محشر نہ شرمساری ہو

سلمان حامدؔ

 

 

 

ہاں ترا صرف تیرا قائل ہوں!

لوگ غصے سے تیرے  ڈرتے ہیں

میں   تو  الفت میں  تیری مائل ہوں

لوگ جنت کی بات کرتے ہیں

میں تو جنت میں تیرا سائل ہوں

لوگ کانٹوں سے زخم کھاتے ہیں

میں تو  شرمندگی سے  گھائل ہوں

لوگ  یاں آفتو ں  سے مرتے ہیں

میں تو احسان ہی سے زائل ہوں

یوں  تو  ہوں میں گناہ گاروں میں

ہاں مگر تیری طرف مائل ہوں

بات بس ایک لکھ دے نامے میں

ہاں ترا صرف تیرا قائل ہوں

پروفیسرمحمد عقیلؔ

 

شورش  ِ کائنات ہے خاموش

شورش  ِ کائنات ہے خاموش

موت ہے زندگی کے دوش بدوش

آہ بحر     حیات کا یہ جوش

آج فردا ئےآخرت بھی ہے دوش

کیا یہ بے تابی خطاب و کلام

زندگی خود ہے اک پیام  ِ خموش

رسن و دار آج لزراں ہیں

ذرہ ذرہ ہے مہر درد آغوش

ایک بھی تو سنبھل نہیں پاتا

زندگی ہے کہ بادہ  سرجوش

اور عالم ہے دل دکھوں کا ترے

اب وہ زعم     ِ جنوں نہ شورش   ِ ہوش

من ِ صبح ازل کی شان فراق

عشق کی بے خودی قیامت کوش

فراق کورکھپوری ؔ

About ماہم یامین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *