Home / خواتین اسپیشل / ہر انسان قیمتی ہے

ہر انسان قیمتی ہے

آج سے کافی سالوں پہلے میں انگلینڈ کے ایک مشہور فیشن ریٹیل اسٹور کا مینجر ہوا کرتا تھا۔ میرا نرم مزاج جہاں میرے ساتھ کام کرنے والوں  کےلئے سکون کا سبب تھا ، وہاں میرے سینئر مینجرز میری نرم مزاجی سے نالاں تھے۔ان کے نزدیک کامیاب مینجر بننے کےلئے لازم تھا کہ میں جائز و ناجائز انداز میں اپنے ماتحت ملازمین کو شدید دباؤ میں رکھوں۔ اس کے برعکس میری سوچ ہمیشہ یہ رہی کہ جو نتائج باہمی محبت و خلوص سے حاصل ہوتے ہیں ، وہ کبھی بھی بے وجہ سختی سے نہیں ہوا کرتے۔ مجھے میرا باس سمجھایا کرتا “Azeem mate, Be a Rottwieler , Be as aggressive as you can”. غرض یہ کہ مجھے اپنے سینئرز کی ایک مسلسل خاموش مخالفت کا سامنا رہا کرتا تھا مگر وہ میری اور میرے ماتحت اسٹاف کی اچھی کارکردگی دیکھ کر کوئی اقدام کرنے سے قاصر تھے۔

 اسی زمانے میں ایک نوجوان لڑکی نے کمپنی جوائن کی جو دیکھتے ہی دیکھتے سب مینجرز کیلئے درد سر بن گئی۔ اس لڑکی کا معاملہ سمجھ سے باہر تھا، وہ کسی بھی کام کو ٹھیک سے انجام نہ دے پاتی۔ یہ لڑکی ذہنی بیمار لگتی تھی۔اچانک رونے لگتی اور ہر دوسرے دن بیہوش ہوجاتی۔ اس لڑکی کو ہر مینجر کے پاس ایک کے بعد ایک منتقل کیا گیا کہ شائد کسی ڈپارٹمنٹ میں چل سکے۔ہر مینجر اس پر اپنے طریق سے سختی برتتا مگر نتیجہ میں اسکی حالت مزید بدتر ہوتی جاتی۔اس لڑکی کو برطانوی قانون کے مطابق صرف کم پرفارمنس یا خراب صحت کی وجہ سے نکالا نہ جاسکتا تھا لہٰذا اس سے چھٹکارا حاصل کرنا ہائر مینجمنٹ کیلئے معرکہ بنا ہوا تھا۔ پھر ایک روز مینجرز کی ایک ہنگامی میٹنگ بلائی گئی جس میں مجھے بتایا گیا کہ اس لڑکی کو میرے ڈپارٹمنٹ میں منتقل کیا جارہا ہے ، جہاں اسے باقاعدہ ایک منظم انداز سے جاب سے نکالنے کا بندوبست کیا جائے گا۔ اسے قانونی زبان میں “Constructive Dismissal” کہا جاتا ہے. اب چونکہ میرے ڈپارٹمنٹ میں پیسوں کا حساب کتاب اور گاہکوں سے پیسہ لینا بھی شامل تھا جو نہایت تیزی کے ساتھ نمٹانا ہوتا ہے لہٰذا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ یہ لڑکی وہاں خاطر خواہ کارکردگی دکھا پاتی۔ اسٹور میں اعلان کر دیا گیا کہ اس مہینہ کمپیوٹر ریکارڈ کے ذریعے تمام کیش کاؤنٹرز کی کارکردگی کا حساب رکھا جائے گا اور اگر کوئی کمپنی گائیڈ لائن کی کم از کم رفتار سے مطابقت نہ رکھے گا تو اسکے خلاف ڈسپلنری ایکشن لیا جائے گا جو برطرفی کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے۔اس سب مخفی انتظام کے بعد لڑکی کو میرے ڈپارٹمنٹ میں منتقل کردیا گیا۔

پہلے ہی دن وہ لڑکی حسب معمول بیہوش ہوگئی۔ اب بطور انچارج مجھے اس صورتحال کو سنبھالنا تھا۔ لڑکی کے ہوش میں آتے ہی اسے میں نے آفس روم میں طلب کرلیا۔ وہ سہمی کانپتی اپنے مردہ حد تک زرد سفید چہرہ لئے آفس میں داخل ہوئی۔ میں نے اس کا تپاک سے استقبال کیا اور بیٹھنے کو کہا۔ اس نے گھبرا کر میری جانب دیکھا۔ اسے پوری امید تھی کہ اب ہمیشہ کی طرح اسے ذلیل کیا جائے گا مگر میرا نرم اور نارمل لہجہ اسکی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔میں نے اس کی خیریت دریافت کرکے پوچھا کہ کیا وہ اپنے گھر جانا چاہتی ہے؟ اس نے ڈبڈبائی آنکھوں سے نفی میں سر ہلادیا۔ کچھ دیر میں نے یہاں وہاں کی ہلکی پھلکی باتیں کرکے اسے مسکرا کر جانے دیا۔ اب میں نے اس کو قریب سے جاننے والی اس کی ایک سہیلی کو بلوایا اور اسے اعتماد میں لینے کے بعد پوچھا کہ کیا وجہ ہے جو یہ لڑکی ہر وقت روتی رہتی ہے ، شدید بیمار لگتی ہے اور بیہوش ہوجاتی ہے؟ اس نے جھجھکے ہوئے مجھے بتایا کہ کچھ ماہ پہلے اس کے بوائے فرینڈ نے اسے سالوں ساتھ رکھنے کے بعد چھوڑ دیا ہے۔ان سالوں میں اس خبیث انسان نے اس لڑکی کو یہ یقین دلادیا تھا کہ وہ ایک نہایت بدصورت اور ناکارہ انسان ہے۔ کم عمر ہونے کی وجہ سے سالوں بعد اب یہ لڑکی اپنے ناکارہ ہونے پر سو فیصد یقین کرچکی تھی اور نتیجہ یہ کہ خود اعتمادی کے شدید فقدان کا شکار تھی۔

اس دن میں سارا وقت اس معصوم لڑکی کے کیس کے بارے میں سوچتا رہا۔اگلے روز میں نے اسے کیش ہینڈل کرنے کی بجائے ایک آسان سا پانچ منٹ کا کام دیا۔ یہ کام اس نے آدھا گھنٹے بعد مکمل کیا اور ڈرتے ڈرتے مجھے معائینہ کیلئے بلایا۔ کام اتنی دیر بعد بھی ٹھیک سے نہیں ہوا تھا، مگر میں نے خوب دیکھ کر اسے زوردار آواز میں شاباشی دی۔ جلدی سے آواز لگا کر دو مزید ماتحت اسٹاف ممبرز کو بلایا اور کام دکھاتے ہوئے ان سے کہا کہ دیکھو کم وقت میں بہترین کام ایسے ہوتا ہے ! ، اس لڑکی کے چہرے پر حیرت کی آبشار بہہ رہی تھی۔ اسے کسی معمولی ترین درجہ میں بھی امید نہ تھی کہ کوئی اس کے کام سے اتنا خوش ہوسکتا ہے۔ میں نے اسے پھر دوسرا کام دیا ، جو اس نے پہلے سے کم وقت میں بہتر طریقے سے کردکھایا۔میں نے پھر زبردست تعریف کرتے ہوئے اپنی خوشی ظاہر کی اور کہا کہ یہ میری خوش قسمتی ہے جو اتنی ہارڈ ورکنگ یعنی سخت کام کرنے والی لڑکی نے میرا ڈپارٹمنٹ جوائن کیا۔ باقی سارا دن میں نے دیکھا کہ وہ ہنس رہی ہے ، مسکرا رہی ہے اور بھاگ بھاگ کے دوسرا کام مانگنے آجاتی ہے۔ اس دن کے بعد یہ لڑکی خوب دلجمعی کے ساتھ کام کرنے لگی۔ مینجرز حیران تھے کہ میں نے اب تک اس لڑکی کی شکایت کیوں نہیں کی؟ مگر میں نے نہ اس کی برائی میں کچھ کہا اور نہ ہی اس کی کوئی تعریف کی بلکہ خاموشی سے اس کا غیرمحسوس انداز میں حوصلہ بڑھاتا رہا۔

 الله الله کر کے پورا مہینہ گزر گیا اور وہ دن آگیا جب کمپیوٹر رپورٹ نکالی گئی۔ فیصلہ یہ ہونا تھا کہ جو سب سے سست ہوگا اسے نکال دیا

جائے گا اور مینجرز کو کامل یقین تھا کہ یہ سست ترین وہی لڑکی ہوگی۔مگر جب رپورٹ آئی تو مینجرز سمیت پورے اسٹور میں ہنگامہ مچ گیا۔ وہ لڑکی سب سے زیادہ تیز رفتار ثابت ہوئی۔ میرا باس یہ یقین نہیں کر پارہا تھا تو اس نے دوبارہ ایک الگ انداز سے رپورٹ نکالی اور وہی نتیجہ دیکھ کر دانتوں تلے انگلی داب لی۔ اس لڑکی کو تیزرفتار ترین آپریٹر کا ایوارڈ دیا گیا۔جسے پا کر وہ ایک بار پھر رو دی مگر اس بار یہ آنسو دکھ نہیں خوشی کی علامت تھے۔مجھے الله پاک نے ایک بڑی سیکھ دی تھی کہ اس جہان میں ہر انسان قیمتی ہے اور کسی سے کم نہیں۔بس بعض اوقات اسے ہمارے سہارے اور ذرا سی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

 عظیم الرحمٰن عثمانی

About عظیم الرحمٰن عثمانی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *