Home / خواتین اسپیشل / “ہسٹیریا یا آسیب” غلط فہمیاں اور حقیقت

“ہسٹیریا یا آسیب” غلط فہمیاں اور حقیقت

صبح کا وقت ہے ایک مشہور چینل کا مارننگ شو چل رہاہے آج کا ٹاپک ہے آسیب اور جدید سائنس۔ میزبان خاتون کے سامنے ایک جدید تراش خراش کے سوٹ میں ایک صاحب موجود ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ وہ جدید سائنسی طریقوں سے آسیب کا حل نکالتے ہیں۔

میزبان :” جی ڈاکٹر جعفری صاحب (فرضی نام) آپ ہمیں کچھ بیک گراونڈ اور ہسٹری بتائیں کہ آسیب کیا ہوتے ہیں اور سائنس انہیں کس طرح سے بیان کرتی ہے۔”

ڈاکٹر جعفری صاحب:” دیکھیں جی آسیب کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ جتنے بھی مشہور فلسفی اور سائنسدان گزرے ہیں جیسے ارسطو، سقراط وغیرہ انہوں نے بھی اس کے وجود کو ثابت کیا ہے۔ قرآن و حدیث سے بھی ان کا وجود ثابت ہے۔ ہماری کائنات میں ایسی طاقتیں موجود ہیں جو ہمارے نروس سسٹم پہ براہ راست حملہ کرتی ہیں اور ہمارے نیورو ٹرانسمیٹرز کو اپنے قابو میں کرلیتی ہیں۔ نیورو ٹرانسمیٹر دماغ تک پیغام پہنچاتے ہیں۔ جب یہ ہی آسیب کے قبضے میں ہوں تو بس سمجھ لیں بندہ بے بس ہوگیا۔ یہ جو پیر فقیر بابے ہوتے ہیں یہ لوگوں کی کم علمی کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور جھوٹے عمل کرکے پیسے بٹورتے ہیں جبکہ اس کا حل صرف جدید سائنس کے پاس ہے۔ اس کا میں آپ کو ابھی عملی ثبوت پیش کروں گا۔

اسٹیج پہ روشنیاں مدھم ہوجاتی ہیں ۔ایک خاتون کو لایا جاتا ہے جن کے جسم کو جھٹکے لگ رہے ہیں اور حلق سے غراہٹ نما آوازیں خارج ہورہی ہیں۔ آسیب ایکسپرٹ کچھ دیر خاتون میں موجود آسیب سے حال احوال پوچھتے ہیں، پھر ایک آلہ نکال کے سامنے رکھ دیتے ہیں  جس کے سامنے میٹر بنا ہوا ہے،پھر بتاتے ہیں کہ جب آسیب کسی کے جسم پہ قابو کر لیتا ہے تو اس کی مقناطیسی فیلڈ اس آلے میں دیکھی جاسکتی ہے وہ خاتون کا ہاتھ پکڑ کر آلے پہ رکھتے ہیں اور آلے پہ موجود میٹر کی سوئی فورا لال نشان پہ پہنچ جاتی ہے۔ پھر وہ خاتون میں موجود آسیب کو للکارتے ہیں کہ اگر تو رسول آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت سلیمان علیہ السلام پہ ایمان رکھتا ہے تو یہ مشروب پیتے ہی اس نیک عورت کو چھوڑ کے چلا جائے کا۔ آسیب اور ماہر کے درمیان کچھ جذباتی بات چیت ہوتی ہے اور پھر وہ ماہر آیت کریمہ کا ورد کرتے ہوئے وہ مشروب متاثرہ خاتون کو پلا دیتا ہے۔ کچھ ہی دیر بعد میٹر کی سوئی لال سے ہرے پہ آجاتی ہے جس کا مطلب ہوتا ہے کہ آسیب چلا گیا ہے خاتون کے جھٹکے رک جاتے ہیں اور غراہٹ کی آوازیں ختم ہوجاتی ہیں۔  مشروب کے بارے میں وہ صاحب آخر میں بتاتے ہیں کہ اس میں ایسا کیمیکل موجود تھا جو ڈائریکٹ نیورو ٹرانسمیٹرز پہ حملہ کر کے اس پہ سے آسیب کا اثر ختم کرتا ہے۔  ساتھ ہی وہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی مدد شامل کرنے کے لیئے وہ آیت کریمہ کا ورد بھی کرتے ہیں تاکہ آسیب انہیں انتقام کی کوشش میں نقصان نا پہنچائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔****۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔******۔۔۔۔۔۔۔۔۔*****۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس جیسے کئی پبلسٹی اسٹنٹ آج کل عموما ٹی وی پہ نظر آتے ہیں جہاں کوئی عامل بابا کوئی سائنسدان یا کبھی دونوں کا مکسچر ٹائپ بندہ لوگوں کے آسیب اور جن اتارتے نظر آتے ہیں۔ اب تو گلی محلوں میں بھی یہ لوگ آسانی سے مل جاتے ہیں۔

ان کا پہلا قدم ہوتا ہے مذہب کا نام لینا اور اس کا حوالہ دے کر کچھ بھی کہہ دینا۔ ہماری آدھی عوام اسی بات پہ آنکھیں بند کر کے یقین کرلیتی ہے کیونکہ وہ ان کے ایمان کو للکارتے ہیں کہ کیا تمہیں قرآن و حدیث پہ یقین نہیں؟؟ اس کے بعد کی آدھی عوام جو کہ منطق اور سائنسی دلیل کی حامی ہوتی ہے مگر بدقسمتی سے مکمل سائنسی معلومات نہیں رکھتی ان کے لیئے دوسرا حربہ استعمال کیا جاتا ہے۔ناموں کے آگے ڈاکٹر پروفیسر جیسے القابات لگا کے نفسیات اور سائنس کے موٹے موٹے الفاظ اور چند مشہور زمانہ سائنسدانوں کے نام استعمال کر کے انہیں یقین دلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ جو کہہ رہے ہیں عین سائنسی ہے۔ انہیں پتا ہے کہ کوئی ان سے نہیں پوچھے گا کہ دنیا کی کونسی یونیورسٹی آسیب کی سائنس میں ڈگریاں دیتی ہے۔

پھر آخری قدم ہوتا ہے علاج کا اور ایسے میں ذرا شعور رکھنے والے کی یہ کیفیت ہوتی ہے جو مشتاق احمدیوسفی صاحب نے بیان کی کہ غصہ یہ نہیں آتا کہ لوگ ان کے پاس علاج کے لیئے تعویز لینے جاتے ہیں بلکہ یہ آتا ہے کہ وہ اچھے بھی ہوجاتے ہیں۔ اور یہی وہ پوائنٹ ہے جس پہ آ کر اچھے اچھے چکرا جاتے ہیں کہ اگر واقعی متاثرہ شخص ٹھیک ہورہا ہے تو یقینا کچھ تو سچ ہوگا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کا راز علاج میں نہیں بلکہ بیماری میں ہی موجود ہے۔

نفسیاتی بیماریوں کی ایک قسم کہلاتی ہے سومیٹو فارم ڈس اورڈر یا سائیکو سومیٹک ڈس اورڈرز ان مسائل کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ یہ ذہنی دباو کا اظہار جسمانی بیماری کی علامتوں کے ذریعے کرتے ہیں۔ ہسٹیریا بھی اسی قسم کا ایک سائیکو سومیٹک ڈس اورڈر ہے۔ اسے بڑی تعداد میں لوگ نام سے تو جانتے ہیں مگر اس کی مخصوص علامات کا علم نہیں ہوتا اسی لیئے اس کی علامات کو آسیب سمجھ کے پیر یا عامل سے رجوع کر لیا جاتا ہے۔ یہ اب نفسیات کے شعبے میں کنورژن ڈس اورڈر کے نام سے جانا جاتا ہے یعنی ذہنی دباو کو کنورٹ کرنا

جسمانی علامت میں۔

قدیم یونان میں اسے خواتین کی جنسی مسائل کا نتیجہ سمجھا جاتا تھا اسے لیئے اس کے لیئے ہیسٹیریا کی اصطلاح استعمال کی گئی جس کا مطلب یونانی زبان میں یوٹیرس ہے۔

فرائڈ کا نظریہ بھی کچھ ملتا جلتا تھا اس کے مطابق خواتین میں جنسی فرسٹریشن ہسٹیریا کی بنیادی وجہ ہے ۔اس کے ثبوت کے طور پہ اس نے کئی کیسز کی مثال پیش کی۔ اس کے باوجود کوئی حتمی وجہ سامنے نا آسکی کہ ہسٹیریا کیوں جنم لیتا ہے۔ مگر اب بہت سی تحقیق اور کیسز کے مطالعے کے بعد نفسیات دان اس بات پہ متفق ہیں کہ کنورژن کا تعلق ذہنی دباو اور گھٹن سے ہے اور یہ عورت اور مرد  میں سے کسی بھی ایسے فرد کو لاحق ہوسکتا ہے جو ذہنی دباو کاشکار ہو۔ اس ذہنی دباؤ اور مسلسل الجھن سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیئے دماغ جسمانی علامتیں ظاہر کرتا ہے جس کی وجہ سے لوگ اس مریض کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، اس کی مالی یا جذباتی مدد کرتے ہیں اور وہ شخص ذہنی سکون محسوس کرتا ہے۔ اگر کسی شخص کو وقتی طور پہ بھی اس کے مسئلے حل ہونے کا یقین دلایا جائے تو اس کی جسمانی علامتیں ختم ہوجاتی ہیں۔ اور یہی وہ راز ہے جس کا پیر فقیر اور سوڈو سائنٹسٹ فائدہ اٹھاتے ہیں وہ مریض کے دماغ کو مغالطے میں مبتلا کرتے ہیں کہ آیت پڑھنے سے کوئی گولی کھانے سے یا محلول پینے سے آسیب چلا جائے گا کیونکہ وہ خدا کے نام سے ڈرتا ہے یا حضرت سلیمان کی اطاعت کرتا ہے اور مریض کی اپنی عقیدت وقتی طور پہ ان علامتوں کو فوری طور پہ تحلیل ہونے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مگر کچھ ہی عرصے بعد دوبارہ کسی ذہنی دباؤ کے موقعے پہ یہ علامات لوٹ آتی ہیں۔

کنورژن کا جن قابو کرنے کا وظیفہ

آپ کو یاد ہوگا ہم بات کر رہے تھے کنورژن ڈس اورڈر کی جس کا مختصر تعارف پچھلے آرٹیکل میں پیش کیا گیا تھا۔ آج ہم اسی پہ تفصیل میں بات کریں گے۔

ہمارا مسائل سے نپٹنے کا عمومی طریقہ یہ ہوتا ہے کہ یا تو ہم مسئلے کا حل تلاش کرتے ہیں یا پھر جھنجھلا کر دوسروں پہ غصہ نکالتے ہیں لڑتے جھگڑتے ہیں۔ مگر کچھ مواقع ایسے ہوتے ہیں جہاں آپ نہ تو مسئلے کا حل نکال سکتے ہیں نا اس کا غصہ کسی پہ نکال سکتے ہیں۔ مثال لیجیئے کہ کسی کا کوئی بہت قریبی عزیز کسی خوفناک حادثے میں چل بسا۔ یا ایک فوجی جو محاذ جنگ پہ ہے یا ایک بہو جس کے سسرال والے ظالم بھی ہیں اور میکے میں کوئی سپورٹ کرنے والا بھی نہیں۔ دیکھیئے انتقال کی صورت میں نا آپ مرنے والے کو واپس لا سکتے ہیں نہ کسی سے جھگڑا کر سکتے ہیں کہ میرا عزیز کیوں مرا۔ اسی طرح محاذ جنگ پہ موجود فوجی کو پتا ہے کہ اسے لڑنا ہے مگر جنگ ختم کرنا اس کے ہاتھ میں نہیں۔ اس کے سامنے اس کے ساتھی مر رہے ہیں اور وہ بھی اپنے ہاتھ سے ایسے لوگوں کو مار رہا ہے جس سے اس کی کوئی ذاتی دشمنی نہیں ان میں کبھی کبھی عورتیں اور بچے بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس کی حب الوطنی یا احساس ذمہ داری اور انسانیت کے درمیان ایک ایسی چپقلش شروع ہوجاتی ہے جو اسے انتہائی شدید ذہنی دباؤ کا شکار کردیتی ہے۔ اسی لیئے جنگی محاذ سے لوٹنے والے فوجیوں کو جس ذہنی دباؤ کا سامنا ہوتا ہے وہ کسی بھی دوسرا حادثہ سہنے والوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ شدید نوعیت کا ہوتا ہے۔ اس کے بعد تیسری مثال پہ آئیں تو ایک مجبور بہو جو ہر لحاظ سے سسرال میں کمزور حیثیت کی حامل ہے وہ نا ماحول سے چھٹکارا پا سکتی ہے نا کسی سے لڑ کر یا کسی پہ چیخ چلا کر اپنا غصہ نکال سکتی ہے۔

اوپر بیان کی گئی وجوہات کنورژن ڈس اورڈر کی بنیادی وجوہات ہیں یعنی ایک شخص جو اپنے مسائل میں خود کو شدید پھنسا ہوا محسوس کرتا ہو اور شعوری طور پہ کوئی حل نکالنے سے قاصر ہوتو اس کا ذہن لاشعوری طور پہ ایسے حل نکالنے کی کوشش شروع کردیتا ہے جس کی مدد سے وہ ایسی صورت حال سے نکل سکے مثلا کسی پیارے کی تکلیف دہ موت آنکھوں سے دیکھنے کے بعد بولنے دیکھنے یا چلنے سے معذور ہوجانا۔ ایسی صورت حال میں گھر کا ماحول اس نئے مسئلے سے یک لخت بدل جاتا ہے اور سب کی توجہ اس نئے مسئلے کی طرف ہوجاتی ہے۔ زیادہ تر ایسا تب ہوتا ہے جب وہ شخص کسی نا کسی حوالے سے اس حادثے کا ذمہ دار خود کو سمجھتا ہے اور لاشعوری طور پہ خود کو سزا دیتاہے۔

اگر ہم محاذ جنگ کی مثال پہ آئیں تو جنگ عظیم اول اور دوئم میں کئی ایسے واقعات سامنے آئے جس میں فوجی نظر کمزور ہونے، ہاتھ پیر مفلوج ہوجانے یا کسی مخصوص وقت اندھے پن کا شکار ہو جایا کرتے تھے۔ مکمل معائنے کے باوجود بھی کوئی جسمانی بیماری تشخیص سامنے نا آتی۔ یہ کنورژن کے بارے میں پیش رفت کا اہم موقع تھا جہاں عمومی نظریئے کے برعکس سارے مرد ذہنی دباؤکی وجہ سے جسمانی مسائل کا شکار ہورہے تھے۔ ان کا شعور انہیں محاذ جنگ پہ رہنے پہ مجبور کرتا اور لاشعور اس تکلیف دہ ماحول سے نکالنا چاہتا تھا۔ لاشعور کے لیئے جسمانی طور پہ مفلوج ہونا مسئلے کا ایک باعزت حل تھا۔ آج بھی شدید جنگی علاقوں میں موجود فوجی ان مسائل کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔

اب آتے ہیں تیسری مثال کی طرف  یعنی گھریلو مسائل کا شکار افراد خاص کر خواتین جنہیں اپنی زندگی کے فیصلوں پہ کوئی اختیار نہ ہو، نہ ہی ان کو اتنا تجربہ حاصل کرنے کا موقع دیا گیا ہو کہ وہ اپنے مسائل کا موزوں حل نکال سکیں ان خواتین کے پاس اپنے مسائل سے توجہ ہٹانے کا یہی طریقہ ہوتا ہے کہ وہ اس کے بارے میں سوچیں ہی نا اس کا حل وہ بچوں کو ڈانٹ کے، گھر کی بقیہ خواتین سے چھوٹی چھوٹی باتوں پہ لڑ جھگڑکے نکالتی ہیں۔ اوپر بیان کئے گئے حل یا ان کے علاوہ ساس بہو کے مشہور زمانہ ہندوستانی ڈرامے دیکھنا اور ان سے اپنی زندگی کو ریلیٹ کرنا، اپنی آرائش میں وقت صرف کرنا یا شاپنگ میں پیسہ ضائع کرنا ذہنی دباؤ سے نکلنے کے کچھ حد تک شعوری حل ہیں ۔ مگر جب یہ ذہنی دباؤشعوری برداشت سے سوا ہوجاتا ہے تو دماغ لاشعوری حل نکالتا ہے۔ مسلسل سر میں درد، گردوں میں درد، کسی خطرناک بیماری یعنی کینسر یا دل کی بیماری کی علامات کا ظاہر ہونا یہ سب لاشعوری حل ہیں۔

مگر ہمارے معاشرے کی سب سے اہم علامت کی طرف تو اب تک ہم آئے ہی نہیں اور وہ ہے آسیب زدگی کی علامات۔ بار بار بے ہوش ہوجانا، نامانوس آواز میں باتیں کرنا، غیبی مخلوق کا نظرآنا یہ پاکستان میں کنورژن کی سب سے عام قسم ہے۔ کنورژن کو پہچاننے کے لیئے چند اہم باتیں یاد رکھیں پہلی بات کنورژن کا دورہ مرگی کے دورے سے کافی مشابہت رکھتا ہے یعنی ایک دم سے ہاتھ پاؤں مڑ جانا، منہ سے جھاگ آنا، گر جانا وغیرہ مگر کنورژن اور مرگی میں واضح فرق یہ ہوتا ہے کہ مرگی کے دورے میں مریض کو عموما اچانک گرنے کی وجہ سے شدید چوٹیں آتی ہیں۔ پیشاب خطا ہوجاتا ہے اور زبان دانتوں میں آکر کٹ جاتی ہے جبکہ کنورژن میں لاشعور ہشیار رہتا ہے جس کی وجہ سے گرتے میں شیدید چوٹ لگنے کا امکان کم ہوتا ہے۔ اس کےساتھ ساتھ کنورژن کا دورہ ہمیشہ لوگوں کی موجودگی میں اور مریض کے جاگنے کے دوران پڑتا ہے۔ گہری نیند میں، نشہ آور ادویات یا ہائپنوسز کے زیر اثر اس کی علامات ختم ہوجاتی۔

کنورژن کو صحیح طور پہ سمجھنے کے لیئے مختلف معاشرے اور ان کا فرق سمجھنا بہت ضروری ہے۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی تک مغربی ممالک میں کنورژن کے ایسے کیسز جو آسیب زدگی کی علامات کےحامل ہوں تقریبا اتنے ہی تھے جتنے اب مشرقی ممالک خصوصا انڈیا اور پاکستان میں ہیں مگر جیسے جیسے وہاں مافوق الفطرت مخلوقات کے بارے میں لوگوں کا شعور بڑھتا گیا یہ علامات ختم ہوتی گئیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خلائی مخلوق سے ملاقات کے کیسز بڑھ گئے۔ ہاں جسمانی بیماریوں کی علامات کے کیسز اب بھی پائے جاتے ہیں۔

مشرقی ممالک میں آسیب زدگی کی علامات والےکنورژن کے کیسز بہت زیادہ ہیں اور دیہی علاقوں میں ان کی تعداد پریشان کن حد تک زیادہ ہے۔ یقینا آپ اس کی وجہ سمجھ گئے ہونگے۔

کنورژن کے علاج میں کچھ اہم باتیں ضرور ذہن نشین کرلیں۔ پہلی بات مریض جو کر رہا ہے اس سے وہ خود بھی واقف نہیں ہوتا تو کبھی بھی یہ نا سمجھیں کہ مریض آپ کو یا لوگوں کو دھوکا دے رہا ہے۔ یہ سب اس کے لاشعور کی کارستانی ہے جس سے اس کا شعور بالکل واقف نہیں۔ دوسری بات کنورژن کی تشخیص کے لیئے ماہرین سے رجوع کریں تاکہ سب سے پہلے جسمانی تجزیہ کیا جاسکے۔ کنورژن یا مرگی کا حتمی فیصلہ صرف دماغ کا MRI اسکین کروا کر ہی ممکن ہے۔ لہذا کبھی بھی جسمانی چیک اپ کے بغیر نا صرف کنورژن بلکہ کسی بھی ذہنی بیماری کا علاج شروع نا کروائیں جب تک یہ تصدیق نا ہوجائے کہ مریض کو کوئی جسمانی بیماری یا مسئلہ نہیں ہے۔

کنورژن کے علاج کے لیئے سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ ان مسائل پہ توجہ دی جائے جن کی وجہ سے مریض ذہنی دباو کا شکار ہے۔ یہ بات یاد رکھیں کہ ذہنی مرض کا علاج جسمانی بیماری ہی کی طرح ہمیشہ ماہر سے کروائیں گھر والوں کی سب سے اہم ذمہ داری ایسی صورت میں یہ ہوتی ہے کہ وہ مریض کا مسئلہ سمجھ کر اس کا ساتھ دیں اور اسے زبردستی صحیح رویہ رکھنے پہ مجبور نہ کریں۔  کیونکہ یہ اس کے لئے اتنا ہی ناممکن ہے جیسے ایک بغیر ہاتھ والے بندے کا ہاتھ سے کوئی کام کرنا۔ جب تک کہ وہ مکمل صحتیاب نا ہوجائے۔

 ابصار فاطمہ،ماہر نفسیات،ممبر ینگ وومین رائٹرز فورم اسلام آباد چیپڑ

About ابصار فاطمہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *