Home / شمارہ نومبر 2017 / ہمارے پاؤں اُلٹے تھے۔۔۔۔۔۔۔

ہمارے پاؤں اُلٹے تھے۔۔۔۔۔۔۔

” بابا ! دیکھیں میں کتنی تیز  موٹر سائیکل چلا رہی ہوں۔” میری بیٹی بشارہ نے  میری طرف دیکھے بغیر کہا۔ اس کا سارا دھیان میرے موبائل فون پر تھا جس میں وہ کوئی موٹر سائیکل ریسنگ گیم کھیل رہی تھی۔

“اوں ہوں اچھا۔ ” میں نے کو ئی خاص توجہ دیے بغیر کہا۔

“بابا میں ہار گئی۔” تھوڑی دیر میں وہ منہ بسورتے ہوئے   میرےآئی۔

“کیوں کیا ہوا آپ تو بہت تیز چلا رہی تھیں۔” میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

 ” میں دوبارہ کھیل کر دکھاتی ہوں۔” اس نے کہا۔ اس نے گیم دوبارہ شروع کیا۔

” دیکھیں کتنی تیز  چلا رہی ہوں۔” اس نے  پر جوش لہجے میں کہا۔

” دیکھیں تو ذراآپ کتنا تیز چلا تی ہیں۔” میں نے  اس کے پاس بیٹھتے ہو ئے کہا۔ میری نظریں فون پر تھیں۔ وہ واقعی چلا تو بہت تیز رہی تھی اور دوسری موٹر سائیکلوں سے بچا بھی صحیح رہی تھی۔ پھر میری نظر اوپر نمودار ہونے والے ایک میسج پر پڑی ” wrong way”۔

اوہ  ہو یہ کیا آپ تو غلط سمت میں جا رہی ہیں۔” میں نے اس سے کہا۔ اب میری سمجھ میں آیا کہ وہ اتنا تیز چلانے اور سب سے بچ کر نکلنے کے بعد بھی ہار کیوں جا تی تھی۔وہ  مسلسل  finishing point کے مخالف سمت میں موٹر سائیکل چلا رہی تھی۔

” بیٹا آپ تیز  اور صحیح موٹر سائیکل چلا رہی تھیں مگر آپ نے دھیان نہیں دیا کہ آپ کو جہاں جانا تھا آپ با لکل اس کے مخالف سمت میں جا  رہی تھیں۔” میں نے بشارہ کو سمجھاتے ہوئے کہا۔

“جی بابا۔ میں جب ہی تو  فنشنگ پوائنٹ  تک نہیں پہنچ رہی تھی۔” اس نے کچھ سوچتے ہو ئے کہا۔

” جی آپ درست سمجھیں۔ منزل تک پہنچنے کے لیے تیز چلنے سے زیادہ ضروری  یہ ہے کہ ہم  درست سَمت میں چلیں۔” میں نے اسے سمجھایا۔” غلط سَمت میں چلنے والے خواہ کتنا ہی تیز کیوں نہ چلیں  وہ کبھی منزل تک نہیں پہنچ سکتے۔ جیسا کہ آپ کر رہی تھیں۔” میں نے بات جا ری رکھی۔

یہ مسئلہ صرف میری بیٹی کا  ہی نہیں بلکہ پوری قوم کا ہے۔ میں نے سوچا۔ہم سب لوگ منزل کا تعین کیے بغیر فقط دوڑے چلے جارہے ہیں۔مگر اس طرح دوڑنے سے کیا ہو گا۔ بہ قولِ شاعر

   ہمارے پاؤں اُلٹے تھے فقط چلنے سے کیا ہو تا ؏

!!   بہت آگے گئے لیکن بہت پیچھے نکل آئے

ہم سب کے پاؤں الٹے ہیں یہی وجہ ہے کہ بہت تیز دوڑنے کے باو جود ” ہنوز دلّی دور است” کے مصداق ہم منزل سے کوسوں دور ہیں۔ہم نے کبھی اس بات پر نہ  ذاتی  حوالے سے غور کیا کہ ہماری زندگی کا کیا مقصد ہے اور نہ ہی قومی سطح پر اس کا تعین کیا کہ ہم  کہاں جا رہے ہیں۔

ایک بنیادی سوال

ایسا شائد اس لیے ہے کہ  ہم میں سے بیش تر لوگ  کبھی ایک بہت ہی بنیادی سوال  اپنے آپ سے نہیں کرتے ہیں۔ ہم شائد نہیں سوچتے کہ ” ہماری  اس دنیا میں موجودگی کا  مقصد کیا ہے؟”  ہم کبھی شعوری طور پر  اس بات  کا ادراک نہیں کرتے ہماری پوری زندگی کا ایک  باقاعدہ  ، بہت  ہی سوچا سمجھا اور  ماسٹر پلان ہو نا چاہیے۔

زندگی میں ہمارے کردار (Roles)  اور ان  سے متعلق  اہداف (Goals)

ہمارے یہاں  شعوری طور پر اس کا  تعین بہت کم کیا جاتا ہے کہ زندگی میں ہر آدمی کے مختلف کردار ہیں۔بالکل اسی طرح جیسے شیکسپیئر نے اپنی نظم  Seven Ages of Manمیں ذکر کرتا ہے۔ ہم بہ یک وقت  کئی کرادار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔   ان کرداروں کی دو بنیادی اقسام ہیں:

  1. غیراختیاری کردار یعنی Mandated Role : اس میں بیٹا ، باپ ،بھائی، ماں، بیٹی  اور بہن وغیرہ شامل ہیں۔
  2. اختیاری کردار یعنی Elective Roles : اس میں ملازم، دوست، باس، طالب علم،  شوہر اور بیوی وغیرہ شامل ہیں۔

ہماری پوری زندگی کا مقصد ان دونوں  کرداروں   ( Roles ) سے متعلق اہداف (Goals )  مقرر کرنے سے وجود پاتا ہے۔ ہر کردار کا اگر اپنا ایک وژن  ہو تو اس کی روشنی میں اس کے گولز  کا تعین کی جا سکتا ہے۔  اس کو ہم مندرجہ ذیل ڈائیا گرام سے سمجھ سکتے ہیں

 زندگی میں بغیر کسی وژن کے انسان بالکل ایسے ہی ہے جیسے سمندر میں بغیر چپوؤ ں کے کشتی۔ اب یہ کشتی کس رُخ میں سفر کرے گی  اس کا انحصار سمندر کی موجوں  پر ہو گا۔

زندگی بامقصد ہے، بے مقصد نہیں

اگر ہم بہ نظرِ غائر زندگی کا جائزہ لیں تو ہم  اس کا اندازہ کر سکتے ہیں کہ ساری کائینات ایک خاص   انداز میں ایک بڑے مقصد کے حصول کے لیے تخلیق کی گئی ہے۔ ہر شئے  جو تخلیق کی گئی ہے اس کا ایک مقصد ہے۔ کائیناتی سطح سے لے کر مالیکیولی سطح تک ہر شئے ایک خاص ترکیب میں  ایک خاص ترتیب کے ساتھ ایک بڑے مقصد کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔اب اگر ہم اس ترتیب ہے ہٹ کر ایک بے مقصد زندگی گذاریں گے تو اس نظام میں  فٹ نہیں ہوں گے۔

کائناتی مشین

یہ کائینات ایک بہت بڑی مشین کی مانند ہے۔ اور ہم سب ان پرزوں کی طرح ہیں جو اس مشین کو چلاتے ہیں۔ ہر پُرزے کی ایک جگہ مقرر ہے اسے اپنی جگہ جاکر لگنا ہے۔ مگر اپنا کام صحیح انجام دینے کے لیے اُس پُرزے کا کارآمد ہونا ضروری ہے اور یہ اُسی صورت میں ممکن ہے جب ہم اس بات کا شعوری طور پر اِدراک کریں کہ ہماری زندگی کا ایک مقصد ہے ۔ اور پھر اس مقصد کے حصول کے لیے اپنی انتہائی کوشش کریں۔

اہداف کا تعین

اپنی زندگی میں اہداف کا تعین ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہم عموماً اس پر اتنی توجہ نہیں دیتے اور فقط ایک اچھے معاش کی تلاش کو ہی پوری زندگی کا مقصد سمجھ بیٹھتے ہیں۔ہماری تعلیم کا بنیادی مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ ہم ایسی کس چیز کی تعلیم حاصل کریں جو کم سے کم وقت میں اچھے سے اچھے معاش کا بندوبست کرسکے۔ اور اس کے انتخاب میں بھی ہم معاشرہ کی بھیڑ چال کا شکار ہوجاتے ہیں۔جو سب کررہے ہوتے ہیں ہم بھی وہی کرنا چاہتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر کسی معاملے میں اگر کچھ لوگ کامیاب ہیں تو ہم بھی ان معاملات میں کامیاب ہو جائیں گے۔

ایسا نہیں ہے کہ معاش کا حصول  زندگی کا ایک مقصد نہیں ہے۔ یقیناً ہے مگر یہ ہماری زندگی کے بہت سارے مقاصد میں سے فقط ایک مقصد ہے۔   ہم جس بات  پر توجہ نہیں دیتے وہ زندگی کا بنیادی مقصد ہے۔

ناکامی کی وجہ

ہماری زندگی میں ناکامیوں کی بہت ساری وجوہات میں شائد ایک  یہ بھی ہے کہ ہم  اپنے مزاج اور صلاحیتوں کو مدِّ نظر  رکھ کر اپنے مقصد کا تعین  کیے بغیر  زندگی کی دوڑ میں دوسروں کا مقابلہ کرنے لگ جاتے ہیں۔یہ دیکھے بغیر کی ہماری سَمت درست بھی  ہے یا نہیں۔

About محمد شمیم مرتضیٰ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *