Home / سفر نامہ / (ہنگول کنارے(دوسری اور آخری قسط

(ہنگول کنارے(دوسری اور آخری قسط

تحریر:حافظ محمد شارق

 ہِنگلاج ماتا تیرتھ

پہاڑوں پر چڑھنے اور مسلسل سفر کی وجہ سے اب جسم کچھ تھکان سے بھر رہا تھا۔ مگر ابھی ہماری ایک منزل  باقی تھی جس کی تاریخ کم و بیش 3500 برس سے بھی زیادہ پرانی ہے؛ ہنگلاج ماتا مندر۔ ہم دوبارہ گاڑی میں سوار ہوئے اور اگلی منزل پر روانہ ہوئے۔ کراچی سے 120 کلومیٹر شمال مغرب میں یہ مندر ہنگول نیشنل پارک میں ہنگول دریا کے کنارے پر واقع ہے۔ یہ ہندوؤں کے مطابق زمین پر مقدس ترین جگہوں میں سے ایک ہے۔ مقامی مسلمانوں کے لیے  نانی پیر کا آستانہ اور  ہندوؤں کے لیے ستی اور ہنگلاج ماتا  کا استھان ہے۔اس مندر میں واقع مقدس پتھر کو ہندوستان بھر میں واقع پچاس شکتی پیتھ میں سے اہم ترین پیتھ سمجھا جاتا ہے اور یہی مندر کا قدیم ترین حصہ ہے۔یہ زیارت گاہ بنجر لیکن خوبصورت  پہاڑوں کے دامن میں واقع تھی۔

راستے میں بہت سے نایاب پرندے اور جانور نظر آرہے تھے، پہاڑیاں پچھلے راستے کی ہی طرح مختلف سطحوں سے مزید انتہائی خوبصورت نظر آرہی تھیں لیکن بعض پہاڑ بہت ہی نوک دار قسم کے تھے جو دور سے ایسے لگ رہے تھے جیسے کوئی پہاڑ پر کانٹے اُگ آئے ہوں۔

مندر سے قریب راستے میں کچھ نوک دار پہاڑیاں

مندر کی حدود سے باہر ہمیں آرمی والوں نے روکا اور کچھ ضروری پوچھ گوچھ کے بعد آگے جانے کی اجازت دی۔ سامنے ایک چھوٹا سا آہنی گیٹ تھا جس کے بعد مندر کی حدود  شروع ہوتی ہے۔ یہ حدود شروع ہوتے ہی  پہاڑی غاروں میں قائم ان قدیم مندروں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔مندر کے شروع میں دائیں جانب زائرین  کے قیام کے لیے گیسٹ ہاؤس  اور کمرے بنے ہوئے تھے۔ یہاں بجلی کا انتظام سولر انرجی کے ذریعے کیا گیا ہے۔چونکہ یہ مندر بلوچستان میں واقع ہے اور یہاں ہندوؤں کی آبادی بھی نہیں ہے، اس لیے عام طور پر ہنگلاج کے یہ تمام مندر ویران رہتے ہیں اور سوائے مندر کے پجاریوں اور چند لوگوں کے علاوہ کوئی نہیں ہوتا۔  البتہ ہر سال اپریل میں ایک بار کراچی سے ہندو یاتریوں کا قافلہ ہنگلاج جاتا ہے، ان یاتریوں میں بھارت، بنگلہ دیش اور نیپال سے آئے ہوئے یاتری شامل ہوتے ہیں۔کئی مرتبہ یہاں آنے والے زائرین گمشدہ بھی ہوئے ہیں جن کی وجوہات مختلف بتائی جاتی ہیں۔معلوم نہیں کہ اس بات کی کتنی صداقت ہے کہ یہاں کئی انسانوں کو بھی مذہبی قربانی کے بھینٹ چڑھا یا جا چکا ہے ؛ اور گمشدگی کی ایک بڑی وجہ یہی انسانی قربانی ہے، لیکن معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض پروپیگنڈا  ہے  اور اصل وجہ بلوچستان کی ناساز سیاسی صورت حال ہے جس نے امن و امان کو خاصا متاثر کیا ہوا تھا۔ لیکن اب یہ صورت حال کافی بہتر ہوچکی ہے اور ہمیں بھی وہاں سناٹے کے باوجود کوئی خوف محسوس نہ ہوا۔

 کچھ آگے ایک چھوٹا سا مندر واقع تھا ۔ ہم اس چھوٹے سے مندر میں داخل ہوئے۔ یہاں ہندؤوں کی دیوی ماں کا بت تھا اور درمیان میں آگ جلانے کی جگہ تھی۔ یہ مندر بہت زیادہ قدیم نہ تھا۔چند چیزیں دیکھ کر، ایک تصویر بنا کر ہم آگے چلے گئے۔

اب ہم پہاڑ ی راستے  سے ہنگلاج کے اندر ون حصے کی جانب جا رہے تھے۔یہاں ایک جانب دریائے ہنگول کی چھوٹی چھوٹی شاخوں میں پانی بہہ رہا تھا اور پہاڑوں پر دور دور تک زیارت گاہیں اور عَلم بنے ہوئے تھے۔ یہ عَلم کم و بیش اسی طرح تھے جیسے ہمارے اہل تشیع کے  ہاں ہوتے ہیں۔

جوں جوں ہم مندر کی حدود میں داخل ہو رہے تھے، خوبصورت سرُوں  اور   طرز کے بھجن ہماری سماعتوں سے قریب تر ہوئے جا رہے تھے۔ہمارے دوستوں کو یہ بھجن انتہائی بُرے لگ رہے تھےکیونکہ ان کے فہم کے مطابق یہ ’’بھجن‘‘ ہندوؤں کا تھا۔  مگر اُس وقت بھجن کے الفاظ میں توحید اور خدا کی تمجید ہی بیان کی جا رہی تھی۔ سنسکرت سے واقفیت رکھنے کے سبب میرے لیے یہ بھجن خدا کی حمد و ثنا کے احساس سے لبریز تھے۔ہمارے دوست تو بہرحال صاحبِ ذوق نہ تھے ، مگر  یہ بہت عجیب بات ہے کہ ہمارے ہاں عام لوگ کیا، اہل علم میں دوسروں کی مذہبی زبان سے متعلق ایک قسم کا تعصب موجود ہے۔ کہیں کسی موقع پر اللہ کے لیے ایشور، پرماتما یا بھگوان کے الفاظ استعمال کیے جائیں تو بہت سے لوگوں کو ناگوار گزرتا ہے حالانکہ قرآن مجید کے ہندوستانی تراجم میں یہ الفاظ بالکل عام ہیں۔یہی صورت اس وقت یہاں تھی، غالباً باسط اور شوکت نے  خصوصی طور پر کانوں میں انگلیاں  ٹھونس لی تھی، جبکہ میں ان الفاظ  میں خدا کی حمد  و ثنا سے محفوظ ہو رہا تھا  ۔

اے خدا۔۔۔ تو کائنات کے ذرے ذرے میں عیاں ہے!

تیری ہمہ گیر رحمت ماں کی طرح  رحمت سے بھی کئی درجہ زیادہ ہے

تو ہی ہے جو اس کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے

ہم تیرے حضور جھکتے ہیں۔۔ ہم پر سلامتی کا نزول ہو۔۔سلامتی ہو ۔۔سلامتی ہو۔۔

میرے لیے ادیان ِ عالم کے تاریخی مقامات ہمیشہ سے ہی انتہائی محسور کن اور اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ اس لیےمیرے دوست تو اپنی شرارتوں میں مصروف تھے اور میں تنہا ادھر ادھر گھومنے لگا۔   میں اس وقت ایک عجیب سے احساس میں گم تھا۔ کبھی میری نگاہ کسی پتھر میں چھپے بت تلاش کر تی، کبھی میں ان عقیدت مندوں کو دیکھتا جو بتوں کے آگے سرجھکائے اپنی امید باندھ رہے تھے۔ ایک خاتون کسی  مقدس پتھر کے سامنے ہاتھ جوڑے انتہائی رقتِ قلبی کے ساتھ دعائیں کر رہی تھیں۔انھیں دیکھ کر مجھے یقین ہوا کہ خدا تو درحقیقت ہمارے دلوں میں رہتا ہے پھر خواہ کوئی اسے ان دیکھے پوجے یا پتھروں کے توسط سے اس کا قرب پائے۔ دونوں ہی خدا کو ماننے والے ہیں فرق محض اضافی طور پر صحیح و غلط کا ہے۔

مندر کی زیارت گاہ

اب ہم  مندر کے اصل حصے تک پہنچ چکے تھے جہاں  ’’دیوی ماں کا استھان ‘‘واقع ہے۔ یہی ہنگلاج تیرتھ  کا اصل حصہ ہے۔ ایک جانب سیاہ رنگ کے غار ہیں۔ اس سیاہی کے بارے میں یہی کہاجاتا ہے کہ ہنگول راجہ کو جلانے کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ اس وقت  وہاں کبوتروں نے گھونسلےبنائے رکھے تھے۔دوسری جانب اس میں سیڑھی سے اوپر ایک چھوٹا سا مندر ہے جہاں پجاری صاحب  بیٹھتے ہیں۔اس مندر کی دیوار کے ساتھ ہی ایک صحن بنا ہوا ہے جہاں پرندوں کو باجرہ ڈالا جاتا ہے۔

دیوی ماں کا استھان۔۔پیچھے سیاہی رنگ واضح ہے۔

ہندوؤں کی مقدس کتب بالخصوص پرانوں کے مطابق ستی دیوی نے اپنے والد پرجاپتی دکشا کی مرضی  کے خلاف شیو سے شادی کرلی تھی۔ دکشا نے یجنا یعنی قربانی کی رسم منعقد کی اور مگر شیوا   اور ستی کو مدعو نہیں کیا۔ ستی اور شیوا جب اس رسم کے موقع پر پہنچے تو دکشا نے  ان دونوں کی تذلیل کی جسے تاب نہ لاتے ہوئے ستی نے آگ میں کود کر اپنی جان دے دی۔شیوا اس کی لاش لیے ساری کائنات میں پھرتے رہے ۔ آخر میں وشنو دیوتا نے ستی کی لاش کے  52 ٹکڑے کرکے پھینک دیے۔ روایات کے مطابق اس کا سر ہنگلاج کے اسی مقام پر گِرا تھا جہاں آج مندر واقع ہے۔جبکہ ایک اور روایات کے مطابق یہاں  دیوی ماتا نے کھشتریوں کی حفاظت  کے لیے ہنگول  نامی  راجہ کو اپنے مشہور ہتھیار تشول سے قتل کیاتھا۔ یہاں  کالی ماتا اور شیوا دیوتا کی  تمام صورتوں  کی پوجا کی جاتی ہے۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ  مقامی مسلمان اسی دیوی کو  بی بی نانی سے منسوب کرتے ہیں ۔ جن کے بارے میں تاریخ زیادہ واضح نہیں ہے۔

ہمارے خیال میں شیو کے بارے میں اول الذکر روایت دراصل ایک اساطیر ہے جو کسی مقدم واقعے کے سبب اس سے منسلک کردیا گیا ہے جبکہ حقیقت یہی ہے کہ یہ کسی مقامی عورت کی بہادری سے وابستہ ہے چونکہ یہاں قدیم مندر پہلے ہی واقع تھا اس لیے اسے شیو سے خاص طور پر منسوب کردیا گیا۔ممکن ہے یہ واقعہ اسلامی دور کے بعد کا ہو۔ مسلمانوں کے مشہور صوفی بزرگ شاہ عبد الطیف بھٹائی نے  بھی ہندو جوگیوں کے ہمراہ اپنی اس زیارت گاہ  کا سفر کیا تھا   جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سندھ کے بعض صوفیاء کے ہاں بھی اس مقام کی کچھ نہ کچھ اہمیت بہرحال  موجود ہے۔

میں مندر کی سڑھیوں سے اوپر چڑھ کر اندر داخل ہوگیا۔ ہی بہت چھوٹا سا کمرہ تھا جس میں ایک طرف کچھ بتوں کی تصویر، دوسری طرف نذر و نیاز کا سامان رکھا تھا۔درمیان میں پنڈر صاحب بیٹھے تھے اور ارد گرد لوگ پنڈت صاحب کو  اپنا ہاتھ دکھا کر اپنے مستقبل میں ا مید کی تلاش کر رہے تھے۔

پنڈت صاحب جونہی فارغ ہوئے ، میں ان کے پاس حاضر ہوگیا۔ میرے بیٹھنے ہی انھوں نے میرا ہاتھ اس گمان سے تھام لیا کہ شاید میں بھی وہاں قسمت کا حال جاننے آیا ہوں۔لیکن میں نے فورا ہی ہاتھ گھماتے ہوئے انھیں سلام کردیا۔جس سے ایک لمحہ وہ چونک گئے۔ اس کے بعد میں نے انھیں اپنا تعارف کروایا اور یہاں کی تاریخ کے بارے میں استفسار پیش کیا ۔ انھوں نے کم و بیش وہی روایات سنائیں جو میں پران میں پڑھ چکا تھا۔ البتہ ہندوالٰہیات پر جب مزید  گفتگو کرنا چاہی تو انھوں نے کچھ ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔ مگر میں نے مزید سوالات اور نکات پیش کیے تو انھوں نے انکشاف کیا کہ انھیں نہ ہی سنسکرت سے  واقفیت ہے اور نہ ہی مقدس کتابوں کی شدھ بدھ ہے ۔ تہواروں کے موقع پر زیادہ تر ہندوستان سے ہی یہاں پنڈت حضرات آتے ہیں۔ انھیں یہ جان کر بھی بے حد خوشی ہوئی کہ میں مسلمان ہوکر بھی سنسکرت جانتا ہوں اور ان کے مذہب کے بارے میں نسبتاً اچھی معلومات رکھتا ہوں۔ پاکستان میں اکثر ہندو مندروں کا یہی حال ہے کہ وہاں کے پجاری اپنے مذہب کے بارے میں زیادہ واقفیت نہیں رکھتے۔ ان کا انحصار زیادہ تر اُن کتابو ں کو پڑھ کر سنانے پر ہوتا ہے جو ہندوستان سے چھپ کر آتی ہیں۔ سنسکرت توکجا، دیوناگری(ہندی) رسم الخط بھی پڑھنے کے اہل نہیں ہیں حالانکہ بمشکل یہ رسم الخط پندرہ بیس دنوں میں سیکھی جاسکتی ہے۔

یہاں کچھ دیرگفتگو کے بعد ہم نے واپسی کا ارادہ کیا۔مگر ابھی ہم نے گاڑی میں ذرا ہی سفر کیا تھا کہ ایک منظر نے مجھے اپنی جانب متوجہ کردیا اور میں نے ڈرائیور سے فوراً وہیں رکنے کو کہا۔

ذو الجلال والاکرام

یہاں دریائے ہنگول کا کوئی  کنارہ تھاجس کے سر پر بلند قامت پہاڑ سائے کیے ہوئے  تھا۔یہ پہاڑ رنگوں کی بہت ہی خوبصورت ترتیب سے مزین تھا۔ سست رفتاری سے بہتا ہوا پانی اور اس میں پرعظمت پہاڑ کا عکس۔۔یہ منظر زبانِ عکس سے خدا کے جاہ و جلال کو بیان کر رہا تھا اور میری  زبان پہ  بے اختیار یا ذوالجلال والاکرام کا ورد جاری ہوگیا۔کچھ دیر میں دل پرسکون ہوا تو میں اپنے دوست کے ہمراہ دریا کنارے  بیٹھ گیا۔پانی بہت ہی شفاف تھا ، میں نے ہتھیلی میں لینے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ بہت ٹھنڈا بھی تھا۔یہاں میرا دل جو خیالات بُن رہا تھا اسے وہیں اپنی ڈائری میں نوٹ کرلیے تھے۔

پی بھی سکتے ہو ۔ ۔ ۔ ۔ پلا بھی سکتے ہو ۔ ۔ ۔ ۔ وجدان کا مکالمہ

کیا تم نے اس دریا کو غور سےدیکھا ہے؟
دیکھو۔ کتنا تیز بہتا ہوا پانی ہے۔ ذرا بھی ٹھہراؤ نہیں۔ا پنے بہاؤ کی مستی میں یہ کئی درختوں، زمینوں اور پہاڑیوں کو کاٹ کر گزر جاتا ہے اور نتیجہ دیکھو، یہ گدلا پانی نہ تم پی سکتے ہو نہ پلا سکتے ہو۔
مگر موسمِ سرما میں اسے دیکھو!
ماحول کچھ سرد ہوتا ہے۔ دریا میں کوئی شور نہیں ہوتا۔ اس کا جوش ناپید ہوتا ہے۔ رفتار بہت دھیمی ہوتی ہے مگر یہ کسی مٹی یا پتھر سے گدلا نہیں ہوتا۔اس کی مقدار بھی بہت کم ہوتی ہے مگر یہ شیشے کی مانند شفاف ہوتا ہے۔ تم اسے پی بھی سکتے ، پلا بھی سکتے ہو۔
یہی کچھ تو ہماری داخلیت ہے۔ یہی تو ہمارے لاشعور کی تصویر ہے۔ جب سرگرم ہو تو اس میں ایک ظغیانی بپا ہوتی ہے۔ خیالات و جذبات کا جوش و تلاطم سے یہ گدلا ہوتا ہے۔ لاشعور کا یہ دریا نہ تمہارے قلب کی تشنگی مٹا سکتا ہے نہ دوسروں کے لیے راحت کا باعث بن سکتا ہے۔
مگر جب تم پُر سکون ہوتے ہو، جب تم پر کوئی مستی، کوئی ہیجان نہیں ہوتا۔ جب تمہارے لاشعور کا دریا خیالات کے ہجوم سے خالی ہوتا ہے۔ بہاؤ بھی بہت دھیما ہوتا ہے اور جذبات کی مقدار بھی زیادہ نہیں ہوتی ۔ مگر یہ چاندی کی طرح شفاف و سپید ہوتا ہے ۔اور تم اسے پی بھی سکتے ہو، پلا بھی سکتے ہو!

یہیں ہم نے  دوپہر کا کھانا کھایا ،اور کچھ دیر آرام کرکے ساحل ’’کنڈ ملیر‘‘ کے لیے روانہ ہوگئے۔

میں نے پیچھے بیٹھنے  کو ترجیح دی تاکہ انکل کی بے تکلفی سے خود کو محفوظ رکھ سکوں لیکن محترم کو میری رفاقت اس قدر بھا گئی  تھی کہ یہ دیکھتے ہی کہ میں پیچھے بیٹھا ہوں، وہ بھی پیچھے آگئے۔اب کی بار یہ میرے کانوں میں اپنے سُر یلے گلے کا رس گھولنے کا ارادہ کرکے بیٹھے تھے۔ چنانچہ سارے راستے نورجہاں اور لتا کے نغمے میرے کان کے پردے ہلاتے رہے۔اس پر حد تو یہ تھی کہ ہر نغمے کے اختتا م پر وہ مجھ سے اپنے فنی مظاہرے پر رائے طلب کرتے۔مرتا کیا نہ کرتا! خدا معاف کرے نہ جانے ہم نے بڑی منافقت سے کتنے توصیفی کلمات ان کی شان میں  کہہ دیے۔

میری بھرپور کوشش تھی کہ کسی طرح اپنی توجہ باہر رکھوں تاکہ مناظر سے لطف اندوز ہوسکوں، راستے میں ایک طرف پہاڑ اور دوسری طرف شفاف سمندر کے منظر   تھا  ،  لیکن مصیبت یہ بھی تھی کہ وہ کھڑکی کی جانب ہی بیٹھے تھے۔ میں  جونہی باہر کی جانب دیکھنے کی کوشش کرتا تو وہ نغمہ روک کر اپنا بڑا سا سر کھڑکی کے آگے کردیتے اور میں اپنا سا منہ لے کر رہ جاتا۔مجھے اس موقع پر شاعر نذیر بنارسی یاد  آگئے جو شاید میرے لیے ہی کہہ گئے تھےکہ

راستہ روکے ہوئے کب سے کھڑی ہے دنیا

نہ ادھر ہوتی ہے ظالم نہ ادھر ہوتی ہے

کچھ ہی دیر میں ہم ساحل سمندر پہنچ گئے۔یہاں ہم نے پہلے نماز ادا کی اور پھر ہمارے سبھی دوست سمندر میں نہانےچلے گئے اور میں خود کو انکل کے چنگل سے بچاتے ہوئے ساحل کنارے جا کر ٹہلنے لگا۔ میں ابھی تک سابقہ مناظر کی قید  میں تھا۔مندر میں خدا  کی حکمت و مشیت، حمد و ثنا، دریائے ہنگول کے سامنے اس کا جلال اور قدرتی مناظر میں اس کی شانِ جمال کو محسوس کر آیا تھا۔ سمندر تو ہمیشہ سے ہی دیکھا تھا، مگر اب یہ سمندربھی مجھے خدا کی بے پناہ رحمت و وسعت کی نظیر لگ  رہا تھا۔ زمین پر لہریں میرے پیروں  کو چھُو رہی تھی اور میرا   ذہن آسمانِ تخیل کو۔

 

ہمیں واپس کراچی کے لیے چار پانچ گھنٹے سفر کرنا تھا، اس لیے اب مناسب تھا کہ ہم واپسی کا سفر شروع کردیں ۔لہٰذا آرگنائزر نے واپسی کی اطلاع دی اور ہم سب اپنے اپنے دامن میں یادوں کے تحفے لیے واپس گاڑی میں بیٹھ گئے۔ اب کی بار میری قسمت اچھی تھی کہ انکل میرے پاس نہ بیٹھے، ایک ڈیڑھ گھنٹہ گپ شپ کے بعد گاڑی میں بھی سبھی لوگ تھک ہار کر سونے کی کامیاب کوشش میں گم گئے۔میں  اپنے نوٹ پیڈ میں اپنے تجربات تحریر کرنے لگا ۔موبائل پر حمد و نعت لگائی اور  پتہ ہی نہ لگا کہ کب شام ڈھلی اور میں بھی دوستوں کے ہمراہ خوابوں  میں غوطہ زن ہوگیا۔

About حافظ محمد شارق

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *