Home / شمارہ اپریل 2018 / ہنگول کنارے قسط 1

ہنگول کنارے قسط 1

تحریر:حافظ محمد شارق

دسمبر 2015 کے موسم سرما کا آغاز تھا۔سردی کی لہر کا آغاز ہوئے ابھی دو ہی دن ہوئے تھے اور میں  ایک طویل پراجیکٹ سے فارغ ہو کر بیٹھا تھا۔ یونیورسٹی کے امتحانات بھی ختم  ہونے کے قریب تھے اور دل اس بات پر مصر تھا کہ  اب کہیں سیاحت کا پروگرام بنایا جائے۔اسکول کے یاروں سے  ابھی حال ہی میں دوبارہ رابطہ بحال ہوا تھا اور ان کی بھی یہی خواہش تھی کہ ایک دن  ہنگامہ ٔدنیا سے باہر کہیں گزاریں۔بالخصوص ہمارے دوست فیضان علی سے جب سیاحت کا ذکر کیا تو فوراً ہی  سیرو فی الارض پر عمل کرنے تیار ہوگئے ۔کافی رد و قدح کے بعد  فیضان اور میرے بھائی محمد سالک کے علاوہ شایان سرور، عبد الباسط ، محمد شوکت اور کچھ بقیہ دوست بھی تیار ہوئے اور سب کے باہمی مشورے سے  یہ طے پایا کہ سندھ کے جنوب میں واقع بلوچستان کے  ہنگول نیشنل پارک کی سیاحت کی جائے ۔  میں نے ہنگول تیرتھ (ہندوؤں کی مقدس زیارت گاہ) کے بارے میں پڑھ رکھا تھا ، اس لیے  اس جگہ کا نام سنتے ہی مندر جانے کی

شرط کے ساتھ میں نے بھی اس پروگرام کی  بھرپور حمایت کی ۔

دوستوں  نے بھی پرجوش ہو کر اس ٹور(Tour) کو پلان کیا اور فیضان علی نے خاص طور پر  اس پروگرام کو عملی شکل دی۔ ٹور آرگنائزر تلاش کرنا، ان سے معامات طے کرنا اوردیگر  سبھی امور انھوں نے انتہائی خوش اسلوبی اور سرعتِ رفتار سے انجام دیے اور بالآخر طے پایا کہ 13 دسمبر رات دو بجے ہم کراچی سے روانہ ہوں گے۔

روانگی

13دسمبر وقتِ مقررہ پر ہم کراچی کے علاقے ٹاور پہنچے،  جہاں پلان کے مطابق ٹور گروپ کی گاڑی ہمیں پک کرنے آنی تھی۔ ہماری ٹور آرگنائزر کا نام ’’مُزنا‘‘  تھا جنھوں نے اس شعبے میں حال ہی میں قدم رکھا تھا۔چونکہ نصف شب ہوچکی تھی‘  اس لیے گاڑی  آتے ہی بنا توقف سب اپنی اپنی مناسب سیٹ پر بیٹھ گئے ۔ میرے نصیب میں ہم سفر  ایک باریش باتونی انکل تھے جو پیشے کے لحاظ سے نائب صوبیدار تھے مگر مزاج میں اس کے برعکس اسٹیج کے اداکار زیادہ لگتے تھے۔ تھوڑی دیر ہی گزرتی تھی کہ وہ کوئی نہ کوئی لطیفہ نما بات کہتے اور مزید خوشگواری کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیتے جس پر چار و ناچار کئی بار مجھے بھی ہاتھ  مارنا ہی پڑا۔اس وقت بھی دمِ تحریر وہ کھڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے کچھ نہ کچھ گنگنا ہی رہے ہیں۔ بہرحال ہم کراچی سے تقریباً رات ڈھائی بجے ہم کراچی سے براستہ حب چوکی روانہ ہوئے ۔

سلام بلوچستان

حب چوکی گزرنے  کے بعد شہر کی رونقیں کم ہونے لگیں اور گاڑی سندھ اور بلوچستان کے درمیانی صحرائی علاقے سے گزرتے ہوئے براستہ کوسٹل ہائی وے اپنی منزل کی جانب بھاگی چلی جار رہی تھی۔ رات چونکہ خاصی تاریک ہوچکی تھی اور راستے بھی بالکل ویران تھے، اس لیے کھڑکی سے باہر دیکھنے میں خاص دلچسپی نہ رہی ،  موبائل سروس یہاں بالکل نہیں تھی ، اس لیے انٹرنیٹ سے کسی دلجوئی کا اہتمام بھی ممکن نہ تھا۔ یہ صورت ہمارے لیے پریشان کُن لیکن ہم سفر صوبیدار صاحب کے لیے انتہائی موزوں تھی کیونکہ ان  کی بھرپور تفریح کے لیے ہمیں موجود ہونا لازم تھا۔

ساری رات کوئی ساڑھے تین چار گھنٹے سفر کرنے کے بعد نماز ِ فجر کا وقت ہونے لگا تھا اور ہمارے شکم بھی اب ناشتے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ چنانچہ متفقہ فیصلے سے ہم بلوچستان کے علاقے اوتھل سے  چند کلومیٹر   فاصلے پر رُکے۔یہ  ایک صحرائی اور ویران جگہ تھی۔ ایک جانب چائے کا ہوٹل، بمشکل 15 گز پر مشتمل ایک چھوٹی سی مسجد اور ساتھ ہی متصل ایک بیٹھک بنی ہوئی تھی۔اس وقت   دانت بجا دینے والی سردی تھی  اور مجھ سمیت تمام لوگوں نے اپنے اپنے گرم کپڑے نکال لیے تھے۔

صبح کا منظر

یخ بستہ  پانی سے  وضو کرنے کے بعد ہم نے نمازِ  فجر ادا کی ۔یہاں دلچسپ بات یہ ہوئی کہ ہمارے گروپ کی لیڈر مُنیزا جو کہ کرسچن خاتون تھیں، انھوں نے بھی ہمیں دیکھتے ہوئے وضو کرکے  سر پر دوپٹہ اوڑھ کر  مسجد میں  نماز کے لیے چلی گئیں۔ انھیں دیکھ کر ہم سبھی محوِ حیرت تھے مگر بعض دوستوں کو زیرِ لب یہ شکایت تھی کہ ایک کرسچن خاتون جینز ٹی شرٹ میں مسجد کیوں گئی؟ ایک جانب دوستوں کی  چہ مگوئی رواں تھی تو دوسری جانب منزا  چادر اوڑھے  انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کر رہی تھیں۔ انھیں دیکھ کر میں ایک لمحہ سوچنے لگا کہ نہ جانے کیوں ہم نے اپنی مساجد کے دروازے غیر مسلموں کے لیے بند کر رکھے ہیں ورنہ نہ جانے کتنے ہی لوگوں کے لیے محض یہ عبادت ہی کتنی کشش رکھتی ہے۔

اب صبح کے چھ بج رہے تھے۔ سورج ابھی انگڑائی لیے اٹھ ہی رہا تھا اور ہم نمازِ فجر سے فارغ ہو کر ناشتے کا انتظار کر رہے تھے۔ موسم قدرے سرد تھا اور لکڑیوں پر پکی ہوئی چائے گوکہ بدذائقہ تھی  مگر اس سخت سردی میں جسم کو گرمی پہچانے کا واحد حل یہی تھا۔لہٰذا منہ بسورتے ہوئے ہی  سب نے ناشتہ کیا  اور یہیں تصاویر لینے میں مصروف ہوگئے۔یہاں ہوٹل کے عقب میں ایک ٹریکٹر بھی کھڑا تھا، جسے دیکھتے ہی میرے دل میں خیال آیا کہ اسے چلانے کا تجربہ بھی کرنا چاہیے ۔  مالک کی اجازت لے کر ہم سبھی نے وہ ٹریکٹر چلانے کی کوشش کی ۔ سبھی دوستوں نے کامیابی سے ٹریکٹر چلایا مگر میں اکیلا ہی ناکام رہا۔  شاید میرے نصیب میں قلم چلانا ہی رہا۔

اب ہم اپنی منزل کی جانب بڑھے۔گاڑی  کوسٹل ہائی وے پر رواں دواں تھی اور ہر جانب بالکل سناٹا تھا۔ اگر آپ بلوچستان کے سفر کا ارادہ رکھتے ہیں تو اپنے ساتھ تمام ضروری  سامان ضرور  رکھ لیں کیونکہ یہاں کئی کئی کلومیٹر تک انسان تو کجا، کتے بھی نظر نہیں آتے۔اس پر مزید یہ کہ موبائل نیٹ ورک کا بھی کوئی آسرا نہیں ہوتا جس سے آ پ سے کسی کو کال کرکے بلا سکیں۔ اس لیے بہت ضروری ہے کہ احتیاطی طور پر تمام چیزیں اپنے پاس رکھیں اور گاڑی کی سروس بھی درست رکھیں۔

جوں جوں سورج ہمارے سر کے قریب آرہا ، تھاہم اپنی منزل سے بھی قریب ہو رہے تھے۔ راستے میں دونوں جانب سمندر اور پہاڑ تھے مگر  پہاڑ کی کٹائی سے تشکیل پانے والے ایسے کئی نظارے تھے جنھیں دیکھ کر خود آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ یہ پہاڑ   اس طرح سے تھے گویا مختلف عمارتیں بنی ہوئی ہوں۔ ابھی ہم کوسٹل ہائی وے پر گزشتہ مقام سے چند کلو میٹر  اور کراچ سے تقریباً 90 کلومیٹر کی مسافت پر تھے کہ ایک جگہ سڑک کنارے بڑے عجیب و غریب پہاڑوں کا ایک وسیع و عریض سلسلہ پھیلا ہوا نظر آیا جوسڑک کے دونوں اطراف پر تھا۔میں ابھی ڈرائیور سے اس جگہ کے متعلق پوچھنے ہی لگا تھا کہ اچانک ڈرائیور نے خود ہی بریک لگا دیا اور ہماری آرگنائزر نے سب کو باہر آنے کو کہا۔

گاڑی سے اترتے ہی میری  نگاہ سب سے پہلے اس مجسمے کی جانب اٹھی جو ’’امید کی دیوی‘‘  کہلاتی ہے۔ ذرا اور آگے بڑھے تو ایک اور مجسمہ نظر آیا جو دور سے اپنے خدوخال میں تقریباً  ہندوؤں کے وشنو دیوتا سے مماثلت رکھتا تھا۔ان دونوں کے پڑوس میں ذرا سا   دور  ایک شیر نما مجسمہ نظر آرہا تھا جو یوں لگ رہا تھا جیسے  ان دونوں شہزادیوں کی حفاظت کے لیے مامور تھا۔

اسفنکس اور امید کی دیوی

اہرام مصر کے قریب بیٹھے ایک انسان نما شیر ابو الہول (Sphinx)کے بارے میں یقیناًآپ نے پڑھا اور سنا ہوگا۔مصر میں واقع وہ مجسمہ تقریباً تین ہزار سال قبل مسیح کے لگ بھگ ایک بڑی چٹان کو تراش کر بنایا گیا تھا جو کہ فرعون (Khafre) کی شبیہہ ہے۔  ان مجسموں کی تاریخ مورخین بڑی شرح و بسط کے ساتھ بیان کرتے رہے ہیں مگر ایک سفنکس بلوچستان میں بھی واقع   ہے جو تاحال ماہرین کی توجہ سے محروم ہے۔ یہ سفنکس مصر کے Sphinx سے مشابہت رکھتا ہے۔ کچھ تاریخ دانوں کے مطابق یہ مجسمہ 750 سال قدیم ہے لیکن یہ محض انداز ہ ہی ہے۔

ذرا ہی آگے ایک دیوی  کا مجسمہ شاہی چغہ اوڑھے کھڑا ہے۔ اس مجسمے کا نام مشہور اداکارہ انجلینا جولی  نے “ پرنسس آف ہوپ “یعنی امید کی دیوی پاکستان کے دورے پر تجویز کیا تھا۔ یہ بات عام طور پر بیان کی جاتی ہے کہ انجلیا جولی کی توجہ سے قبل بحیرہ عرب کے ساحل پر کھڑی دیوی، اس کا شیر نما دوست اور ایک تنہا کھڑے اس مجسمے کے بارے انجلینا جولی کی توجہ سے قبل کوئی نہیں جانتا تھا- مگر حقیقت ہے یہ ہے کہ 1882 کے ایک اینگلو انڈین سیاح چارلس (Charles MacGregor 1840-1887) نے اپنی کتاب Wanderings in Balochistan میں بھی ان تینوں عظیم القامت مجسموں کا ذکر کیا ہے۔

دیکھ بھال کر دامن بچاتے ہوئے آدھے گھنٹے کی جدوجہد کے بعد  ہم پہاڑ پر چڑھ چکے تھے جہاں امید کی دیوی کھڑی تھی۔ وہاں کچھ دیر تصاویر لی اور قدرت کے اس شاہکار کو ہر جانب سے دیکھنے کی سعی کی۔مجسمے کے ایک جانب پہاڑی  گھاٹیاں انتہائی اچھوتے انداز میں ہے جنھیں دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں کوئی عبادت گاہ یا بستی قائم تھی۔ اور پھر یہ تینوں مجسمے آخر ہیں کیا؟ کب سے موجود ہیں اور ان کی تاریخ کیا ہے؟ کیا یہ واقعی قدرت کا شاہکار ہے یا کسی انسانی ہاتھوں کی تخلیق ہے۔ان سارے سوالوں کے جواب دینا فی الحال ہمارے لیے انتہائی مشکل ہے۔ اگر یہ انسانوں کی تخلیق ہے تویہ سوال بہرحال اپنی جگہ رہتا ہے کہ آخر اتنے اونچے اور پتھریلے پہاڑوں پر ایسے دیو قامت  مجسمہ کس  مقصد سے بنائے گئےتھے؟

 (جاری ہے۔۔۔)

About حافظ محمد شارق

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *