Home / شمارہ اگست 2017 / یادوں کے جگنو

یادوں کے جگنو

جشنِ آزادی یہی کچھ گزرے دنوں کی بات ہے جب نانیاں یہ کہتی تھیں یہ وطن ایسے ہی نہیں خدا کا انعام ہوا ہم پر جب دادیاں یہ کہتی تھیں اس وطن کی جڑوں کو خون دے کر سہاگوں کا، اولادوں کا سینچا ہے اس دھرتی کو جب بڑے بوڑھے سناتے تھے تقسیم کے قصّے بڑی قربانیاں لے کر یہ وطن پروان چڑھا ہے اپنوں کو کھو کر ، سب کچھ لٹایا تب جا کر یہ وطن ہے پایا اب…!!! آنے کو ہے پھر سے آزادیِ وطن ہر سو اٹھے گا یہ جوشِ جنوں پھر سے یادوں کے جگنو بھی جگمگائیں گے ہر سو نغمے گونجیں گے آزادی کے ہر سو جھنڈے لہرائیں گے مگر…!!!!! وہ دل کہاں سے لائیں گے؟؟؟ جو قصّہِ پارینہ ہوئے وہ بزرگ کہاں سے لائیں ؟ دلوں میں جگائیں جو احساس قربانیوں کا اُن کے وہ کہنے , اُن کے وہ اصرار بھرے لہجے وطن عزیز کو ، اس دھرتی کو سنبھال کے رکھنا اسے ٹوٹنے مت دینا ، اسے بکھرنے مت دینا کہاں سے لائیں وہ احساس جنوں کا یہی کچھ گزرے دنوں کی بات ہے….

About عدن خان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *