Home / شمارہ نومبر 2017 / یہی ہے میری نماز، یہی ہے میرا وضو

یہی ہے میری نماز، یہی ہے میرا وضو

 

میں نے پوچھا: نماز میں خدا  سے کس طرح باتیں کی جائیں ؟

بولے: ۔بس دل کو شیشے کی طرح  برے خیالوں سے  صاف کر لو ۔ دل جب آئینہ بن جائے گا تو اس (اللہ) کا نور خودبخود نظر آئے گا۔ نماز میں بھی اور اس سے باہر بھی۔۔

میں جو  کسی رسمی جواب کی منتظر تھی، ان کی بات پر پوری طرح متوجہ ہو گی،گتھی لمحوں میں سلجھ گئی، من  کی بند کھڑکی کھٹ سے کھل گئی ۔۔اور دل  نے  کہا۔

ہاں بالکل ۔ نماز تو اس بادشاہ ذوالجلال و الاکرام کے دربار میں حاضری ہے  اور اگر بادشاہ  کے دربار میں حاضری کے تقاضے ہی پورے نہ ہوں تو دربار میں داخلے کی اجازت ہی  نہیں ملتی ۔

ہم نے دیگر عبادات کی طرح  نماز کےرسوم و قواعد  اور  ضابطوں کو تو  شدو مد کے ساتھ قلم بند کر دیا۔ ظاہری پاکی کے کچھ  آداب بھی اخذ کر لیے۔ مگر  اپنے باطن کے وضو   کو پس پشت ڈال دیا۔ نہ اپنی نفسانی خواہشات کی غلامی چھوڑی، نہ دنیاوی طمع و لالچ کو ترک کیا۔ بد گمانی ، حسد ، بغض، کینہ  اور  انتقام  جیسی گندگیوں کو کبھی دھونے کی کوشش ہی نہ کی۔ پھر اس  غلاظت کے ساتھ اپنا نام  حقیقی وضو کے بعد نماز پڑھنے والے  پاکبازوں کے رجسٹر میں درج کروانے اٹھ کھڑے ہوئے۔ افسوس !

ان کے ایک جملے سے  میں نے جان لیا کہ نماز کیوں فرض کی گئی؟ وضو کا کیا مقصد ہے؟ اور غسل کیوں ضروری ہے؟  وضو سے ہاتھ پاؤں کا دھونا اس اندرونی وجود کی صفائی ہے جو ہمارے ہاتھوں کی گناہ گار جنبش اور ٹانگوں کے غلط سمت میں اٹھنے کی بنا پر داغدار ہے۔کلی کرنا زبان سے سرزد  ہونے والی زیادتیوں کو دھونا اور ان سے دور ہونا ہے۔ چہرہ دھونا اپنے اندر کے وجود کی کالک کو دور کرنے کی علامت ہے، سر کا مسح برے خیالات اور شیطان کی اکساہٹوں  کو دور بھگانا ہے۔

یہی وضو اصل پاکی ہے۔ اس کے بعد نماز کا اصل مقصد سامنے آتا ہے۔  اس کا مقصد بار بار دن کی مختلف ساعتوں میں  زندگی کے اس سبق کو دہرانا ہے کہ ہمارے رب کو ظاہری و باطنی دونوں پاکیاں مطلوب   ہیں۔ اس مالک دوجہاں کو ہماری اٹھک بیھٹک کی مشق نہیں چاہئے بلکہ ہماری اندرونی صفائی مقصود ہے۔ تاکہ ہم شیطان کے ساتھ اپنی ازلی جنگ میں سرخرو ہو سکیں۔۔۔۔اور جب ہمارے دل کے شفاف آئینے میں اس معبود اعلیٰ کا عکس نظر آئے تو ہم جان لیں کہ ۔ہاں حاضری ہو گئی اور وہ قبول بھی ہوگئی ۔ قبول اس وقت ہوگئی جب ہم دوبارہ گناہوں کی گندگی سے بچنے لگیں۔

About راعنہ نقی سید

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *