Home / شمارہ فروری 2018 / ۳ ذکرالہٰی – قسط

۳ ذکرالہٰی – قسط

ذکر کے طریقے

 

نماز

نماز ذکر کرنے کا بہترین اور سب سے آزمودہ نسخہ ہے نماز کے ذریعے قولی اور  عملی دونوں طریقوں سے اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوجاتاہے۔ ایک طرف تو فرض نمازوں کےاوقات اس خوبصورتی سے  دن و رات کا احاطہ کر لیتے ہیں کہ حقیقی معنوں میں نماز پڑھنے والا شخص وقفے وقفے سے اللہ کی یاد سے سینہ منور کرتا رہتا ہے۔اس کے علاوہ  تہجد اور دیگرنفل نمازیں  روزمرہ پیش آنے والے معاملات میں اللہ سے کلام کا ذریعہ بنتی ہیں۔ نیز شکر، صبراور مددکاحصول   ہو یا سورج و چاند گرہن ، قحط اور موت جیسی آفات سب مواقع پر  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے ذریعے اللہ کو یاد کرنا ، اس سے رجوع کرنا اور مدد کی درخواست کرنا  ثابت ہے۔

تسبیحات و دعائیں

نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم سے  صبح و شام، بیداری و نیند ، کھانا  پینا، سفر و حضر، غم و خوشی غرض ہر موقع کی دعااور تسبیح نہایت صراحت کے ساتھ روایات میں منقول ہیں جو اللہ کو اٹھتے، بیٹھتے اور لیٹے غرض ہر حال میں شامل یاد کرنے کا ایک اہم اور مستند ذریعہ ہیں۔

مخصوص اوقات و مقامات

جس طرح ہر فصل کا مو سم  اور محل مخصوص ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کچھ دن ، مہینے یا مقامات ذکر کے لئے مخصوص کردئیے ہیں اور ان میں اپنی یاد کا اہتما م انفرادی و اجتماعی سطح پر آسان بنادیا ہے۔ چنانچہ اوقات میں تہجد کا وقت، دنوں میں ایام تشریق   اور جمعہ کا دن، مہینوں میں رمضان، مقامات میں بیت اللہ، صفا، مروہ، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

تفکر و تدبر

ان کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے انفس و آفاق میں اپنی نشانیاں ہر قدم پر بکھیر د ی ہیں۔ جنہیں دیکھ کر کوئی بھی حساس شخص خدا کو یاد کئے بنا اور اسکی تسبیح و تحمید بیان کرے بغیر نہیں رہ سکتا۔

تنہائی میں استغراق

تنہائی میں بیٹھ کر اللہ کی صفات کا ادراک اور پھر زندگی میں ان کا  اطلاق بھی ایک بہت کارآمد طریقہ ہے کہ اللہ کو یا د رکھا جائے۔ مثال کے طور پر ایک شخص اللہ کے رحمٰن ، رحیم اورودود  جیسی صفات کو سمجھتا اور پھر اپنی زندگی میں اللہ کے احسانات  نوٹ کرکے اللہ کی یاد دل میں تازہ کرتا ہے۔یا وہ اپنے گناہوں کو سامنے رکھتا اور پھر اللہ کی غفاریت کو ملحوظ رکھتے ہوئے گناہوں پر نادم ہوتا اس کی جانب رجوع کرتا ہے۔ اسی طرح تنہائی میں جنت یا جہنم کے احوال، موت کو یاد کرنا اور  حشر کے احوال کا تصور کرکے بھی ذکر  الٰہی کیا جاسکتا ہے۔

مطالعہ

قرآن کے متن  اور تفسیر کا تدبر کے ساتھ مطالعہ اللہ کے ذکر کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔اس کے علاوہ سیرت پیغمبر و صحابہ اور صالحین کے سبق آموز مگر حقیقت پر مبنی واقعات بھی اللہ کی یاد  کے حصول کا ایک اہم طریقہ ہیں۔

صحبت

 عزیز واقارب اور دوستوں  کی تقاریب، محفلیں، مجلسیں اگر درست اسلامی شعائر پر مبنی ہوں تو اللہ کی یاد کا بہت موثر ذریعہ ہیں۔نیز  دینی  پروگراموں میں شرکت اور صالح لوگوں کی صحبت بھی اللہ کی یاد دل میں تازہ کرنے کا سبب بنتی ہے۔

عملی تذکر

ذکر الٰہی محض قولی نہیں ہوتا بلکہ یہ عملی بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ  اپنے جسم کے اعضاء کو اللہ کی بندگی پر مجبور کرنا اور اطاعت کاملہ کی جانب راغب کرنا عملی ذکر کی بہترین مثال ہے۔

About ڈاکٹر محمد عقیل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *