Home / شمارہ اپریل 2017 / !تم سارا دن کرتی کیا ہو

!تم سارا دن کرتی کیا ہو

میں نے اس سے چار ماہ کا بیٹا چهین لیا اور اسے میکے چهوڑ آیا۔ دراصل میں گهر والوں کے روز روز کے طعنوں سے تنگ آ چکا تها۔

“تمہاری بیوی کوئی  کام نہیں کرتی۔”

مجهے بهی ایسا ہی لگنے لگا تها۔ آخر تم کیاکرتی ہو سارا دن؟ برتن ، کپڑے ، گهر کی صفائی تو کام والی کر جاتی ہے۔ لیٹی ہی رہتی ہو۔۔۔

اس کے جانے کے بعد آج میری پہلی رات کا آغاز تها۔ میرے پہلو میں  کوئی  مجهے اپنی شرارتوں سے ہنسانے والا نہیں تها۔

ہاں میرا بیٹا ضرور تها۔ جسے میں نے ابهی ابهی فیڈر دے کر سلایا تها۔

آپ سمجھے نہیں۔۔۔۔

 دودھ پلا نے سے لے کر بچے کو سلانے تک مجهے کیا کیا کرنا پڑا۔میں تفصیل میں جانا چاہتا ہوں۔ میں اٹها اور کچن میں گیا۔ فیڈر کو صابن سے دهو کر میں نے چولہے پر پانی چڑهایا۔فیڈر کو ابالا۔پهر دودھ بنانے کیلئے پانی نیم گرم کیا اور اس میں پاوڈر ڈالا۔ تب کہیں جا کر ایک فیڈر تیار ہوا۔

 دودھ پلانے کے بعد میں اسے کندهے سے لگا کر تهپکاتا رہا تا کہ دودھ ہضم ہو سکے۔ پهر اس کا پیمپر تبدیل کرنے کیلئے اسے لٹایا تو معلوم ہوا کہ بچے نے پاخانہ کیا ہوا ہے۔ اسے باتھ روم لے جا کر صاف کر کے واپس آیا تو اس نے دودھ کی الٹی کر دی۔ میں جلدی سے رومال کی اٹهانے کو لپکا۔

خیر اس کو پیمپر دوبارہ لگایا اور بازووں میں جهولا کر سلانے لگا۔ دودھ ابال کر اسے ٹهنڈا کیا اور فریج میں رکھ دیا۔ وہ ہوتی تو ملک شیک بنا کر میرے ہاتھ میں تهما دیتی۔لیکن اب اتنے جهمیلوں میں کون پڑے۔ ابهی اپنی روٹی پکا کر کها لوں گا۔

لیکن آٹا ؟؟؟ ابهی تو وہ گوندهنا پڑے گا۔شکر ہے سالن تو پکا پڑا ہے۔ بس کٹوری میں ڈال کر اوون کا بٹن ہی دبانا ہے۔میں ذرا بیڈ سے بکهیرا اٹها لوں۔ پیمپر ۔۔ وائپس۔۔۔کهلونے۔۔۔ فیڈر ۔۔۔ شیٹس کو ان کی مخصوص جگہوں پر رکها اور

روٹی۔ نہیں۔ صبح آفس جانے کیلئے کپڑے بهی تو استری کرنے ہیں۔میں لگا کپڑے استری کرنے۔

 ابهی شرٹ پریس کی تهی کہ بیٹا رونے لگا۔ اب کی بار میں نے اس کو جهولے میں ڈالا اور جهولا جهلانے لگا۔ بهوک سے میرا برا حال تها۔ اللہ اللہ کر کے بچے کو سلایا اور ایک ریسٹورنٹ پر کال کر کے کهانے ڈلیور کرنے کا آرڈر کیا۔ آدهے گهنٹے بعد کهانا میرے سامنے تها۔

میں  نے بڑے بڑے نوالوں میں کهانا ختم کر دیا کیونکہ میں جانتا تها کہ اگر بیٹا دوبارہ جاگ اٹها تو کهانا پڑا رہ جائے گا۔پهر دوبارہ گرم کرنے کےلئے بهی ٹائم چاہیے اور “مشقت” بهی۔ مجهے اکتاہٹ ہونے لگی۔ گهڑی گیارہ بجا رہی تهی۔میں بستر پر ڈھ سا گیا۔

سائرہ وہ چادر ہی الماری سے نکال دو۔ میں اوڑھ کر سونا چاہ رہا ہوں لیکن نہیں۔۔۔اب خود ہی اٹھ کر لینی پڑے گی۔

 ابهی میں یہ سوچ ہی رہا تها کہ یو۔پی۔ایس۔ بهی جواب دے گیا۔پنکها بند ہوگیا۔اس سے پہلے کہ گرمی کے سبب میرا بیٹا جاگ جاتا اور چلانے لگتا ۔۔میں نے بیڈ سے چهلانگ لگائی اور جهٹ سے دستی پنکها الماری سے نکال لایا۔ میں اس کو پنکها جهلنے لگا اور ساتھ ساتھ نیند کی شدت سے خود بهی جهولنے لگا۔ بارہ بجے بجلی آئی اور میں فورا ہی سو گیا۔

مگر ابھی  دو بجے تھے کہ بیٹے کے رونے کی آواز سے میری آنکھ کهل گئ۔اچانک گہری نیند سے جاگنے پر میرے سر میں درد ہونے لگا۔ اسے بهوک لگی ہوئی تهی۔ میں سستی سے اٹها اور اسے ڈبے کا دودھ بنا کر پلایا۔اڑهائی بجے کے قریب بیٹا سو گیا اور میں بهی

اسکے بعد بیٹا کب جاگا اور کب تک روتا رہا مجهے نہیں معلوم۔ البتہ جب صبح آٹھ بجے آنکھ کهلی تو وہ رو ہی رہا تها۔ اور اس کے پیمپر سے مواد نکل کر بیڈ شیٹ میں جذب ہو رہا تها۔جلدی سے اٹها۔ پیمپر تبدیل کیا۔دودھ پلایا۔بیڈ شیٹ کو دهویا اور ایک دهلی ہوئی بیڈ شیٹ بچهائی۔ سوا نو ہو چکے تهے۔ ناشتے میں جو میں دہی کهاتا تها وہ سائرہ گهر میں بنا لیتی تهی۔ پتہ نہیں کس پہر بناتی تهی۔

میں نے چائے بنانے کی غرض سے ساس پین میں دودھ انڈیلا اور سوچنے لگاکونسا وقت تها جب سائرہ مصروف نہیں ہوتی تهی۔ میری خدمت میں بهی کوئی کمی نہیں آنے دی۔گهر میں صرف وہی تین کام تو نہ تهے جن کے لیے میں نے نوکرانی رکھ دی تهی ۔ ایک بچے کو سنبهالنا ہی کافی تها اس کو تهکن سے چور کرنے کے لیے۔ لیکن وہ مجهے وقت پر کهانا دیتی میں تهک جاتا تو مجهے دباتی۔میں اداس ہوتا تو مجهے ہنساتی۔اور میری دلجوئی کرتی۔ میں کاروباری معاملات میں کشمکش میں پڑ جاتا تو وہ میرا حوصلہ بندهاتی۔ میں سوچوں میں گم تها۔ دودھ ابل کر شیلف پر آچکا تها۔ میں آہستہ آہستہ شیلف پر کپڑا لگانے لگا۔

تم سارا دن کرتی ہو

واہ تمہارا جسم کیوں درد کرنے لگا

کون سا پہاڑ ڈهایا ہے تم نے

اور وہ پہلو بدل لیتی

 شاید میرے طنزیہ جملوں پر آنسو بہاتی ہوگی

پر میں ظالم انسان نے پرواہ نہیں کی کبهی

کچھ دیر بعد خود ہی سائیڈ بدل کر میرے چہرے پر جهک جاتی۔

” آئی لو یو”

 تو میں جوابا مسکرا دیتا۔اور وہ اصرار کرنے لگتی ۔۔ نہیں آپ آئی لو یو تو بولیں مجهے اس کی شرارتیں یاد آنے لگیں۔

صبح کے دس بج رہے تهے۔ اور کام پر نیند   پوری نہ ہونے کی وجہ سے چھٹی ماری۔

اور وہ سب اپنے اپنے کمروں میں مشغول تهے۔جو ابهی کل ہی مجهے کہہ رہے تهے کہ تمہاری بیوی کوئی کام نہیں کرتی۔

 کسی نے مجهے چائے کا ایک کپ بهی بنا کر دینے کی زحمت نہیں کی۔میں نے بچے کو گاڑی میں ڈالا اور گاڑی ان راستوں پر دوڑا دی جو راستے مجهے ہمیشہ کیلئے سائرہ کے ساتھ جوڑنے والے تهے۔

۔۔ وہاں پہنچ کر میں نے دونوں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی اور وه  ہمیشہ  کی طرح بڑا دل کر کے چلی آئی  میرے ساتھ !!!

About محمد جاوید

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *